رمضان المبارک رب العزت کا عظیم تحفہ
رمضان المبارک خداۓ تعالیٰ کا ایک بہت عظیم مہینہ ہے ماہ رمضان میں خیروبرکت ہے یہ عبادت اور ایمان کی تجدیدکا مہینہ ہے رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے اپنے رب کے سامنے عبادت اور ریاضت کے ذریعے اسکی خوشنودی پانے کا مہینہ ہے ماہ رمضان کے آتے ہی تمام عالم کی فضا پر نور ہو جاتی ہے اہلِ ایمان اور تمام عالم اسلام کے قلوب میں مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے اور تمام صبح و شام پر نور اور با رونق ہو جاتی ہے سحری و افطار کی رونقیں، راتوں کا ذکر ، عبادات، تراویح و قیام اللیل اس ماہ کی رونق کو مزید بڑھا دیتی ہیں اور پھر اس حاصل ہونے والا اجر ہر مسلمان کے دل کو مسرور کردیتا ہے، رمضان المبارک میں اللہ تعالی نے ہر ایک عمل پر اجر و ثواب کو بڑھا کر دینے کا وعدہ کیا ہے 
                                                  الغرض رمضان المبارک جس عمل اور فریضہ کے لیے مخصوص ہے اسکا نام روزہ ہے ، روزہ اصل میں رضاےّ الٰہی کے لیے کھانے پینے اور اپنی نفسانی خواہشات سے رکنے کا نام ہے ، روزہ دین اسلام کا تیسرا اور اہم رکن ہے روزہ ہر عاقل بالغ مسلمان ، مقیم اور صحت مند پر فرض ہے، روزہ ایک ایسی عبادت ہے جسے انسان صرف اللہ کے لیے کرتا ہے ، حدیث پاک میں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے روزہ میرے لیے ہے میں اسکی جزا دونگا روزہ نہ صرف ایک عبادت ہے بلکہ اس کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ جب انسان اپنے جسم کو کچھ گھنٹوں کے لیے کھانے پینے سے روکتا ہے ، تو یہ رکنا اسکے جسم کے اندرونی نظام یعنی نظام ہاضمہ اور نظام مدافعت کو بہتر کرتا ہے، اور یہ انسانی صحت کے لیے بہت کار آمد عمل ہے 
               روزے کے ذریعے انسان کے اندر خدا کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، روزے کے ذریعے انسان اپنے نفس کو مارنے کا اور اسے کمزور کرنے کا اور اسے برے اثرات سے روکنے کا عادی بنتا ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ جب پیٹ بھرا ہو تو غلط کاموں کی طرف میلان زیادہ ہوتا ہے جبکہ خالی پیٹ انسانی خواہشات ماند پڑ جاتی ہیں 
خداتعالیٰ نے روزے کی ساخت کو ایسا بنایا ہے کہ وہ نیکیوں کی راہ ہموار کرتا ہے اور بدی کی راہ سے روکتا ہے لیکن روزے کے اثرات اور سکی نیک فضا اسی وقت اپنا کام کرتی ہے. جب روزے کو اسکے تمام آداب اور اسکی مقرر کردہ احتیاط کے ساتھ رکھا جائے کہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی مقصود ہو اور روزے میں ین باتوں کی ممانعت ہے ان سیے مکمل احتیاط اور پرہیز ہو اور اعمال صالحہ کی کثرت کی جاۓ یعنی نفلی نماز یں، تلاوت قرآن پاک اور ذکر الٰہی وغیرہ 
ظاہراً روزہ تو فجر تا مغرب کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے بچنے کا نام ہے لیکن اسی کے ساتھ غیبت، کذب بیانی، بد گوںٔی، لعن طعن اور ہاتھ اور زبان سے کیے جانے والے برے کاموں سے بچنے کا نام بھی روزہ ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے جسکا مفہوم یہ ہے کہ "جس نے روزہ رکھا اور کھانے پینے سے پرہیز کیا لیکن غیبت جھوٹ اور برے کاموں سے پرہیز نہیں کیا تو اسکی کیا ضرورت تھی کہ وہ بھوکا پیاسا رہے"
رمضان المبارک کو ماہِ صیام کے ساتھ ہی ماہ قرآن بھی کہا کیا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے " رمضان کا مہینہ جس میں قرآن کو نازل کیا گیا " معلوم یہ ہوا کہ ماہ رمضان کا قرآن سے بہت گہرا تعلق ہے ، قران کریم کی سورہ قدر میں ہے کہ "ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا" قرآن کریم بنی آدم کے لیے کتابِ ہدایت ہے، قرآن کریم حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے قرآن کریم ایک ایسا بلند کلام ہے کہ اگر پہاڑ پر اتارا جاتا تو یہ لرز جاتا اور ریزہ ریزہ ہو جا تا ، لیکن اللہ نے بنی نوع انسان کے فاںٔدے اور رہنمائی کےلیے یہ کرم فرمایا کہ اس نے قرآن کریم کو ایسے میں اتارا کہ انسان اس کو اٹھا رہا ہے اس بلند کلام کی عظمت کے حوالے سے اللہ تعالٰی نے اس پر نور ماہ کا انتخاب کیا، اور یہ مہینہ نزول قرآن سے مزید منور ہوگیا ، ماہ رمضان اور اس میں رب العزت کی عطاکردہ اس عظیم الشان کتاب اور رب العالمین کے احسان کا شکر عبادت کے ذریعے اس طرح کہ وہ شکر و عبادت کے لیے زمانہ تربیت بھی بن گیا اور اس ماہ کو مدت تربیت بنا دیا گیا یعنی ماہ رمضان میں عبادات اطاعت کے مواقع بھی مسلسل مل جاتے ہیں اور بار بار نیک عمل کرنے سے مشق اور تربیت بھی ہوجاتی ہے قرآن کریم ایک ایسا بلند کلام ہے کہ اگر پہاڑ پر اتارا جاتا تو یہ لرز جاتا اور ریزہ ریزہ ہو جا تا ، لیکن اللہ نے بنی نوع انسان کے فاںٔدے اور رہنمائی کےلیے یہ کرم فرمایا کہ اس نے قرآن کریم کو ایسے میں اتارا کہ انسان اس کو اٹھا رہا ہے اس بلند کلام کی عظمت کے حوالے سے اللہ تعالٰی نے اس پر نور ماہ کا انتخاب کیا، اور یہ مہینہ نزول قرآن سے مزید منور ہوگیا ، ماہ رمضان اور اس میں رب العزت کی عطاکردہ اس عظیم الشان کتاب اور رب العالمین کے احسان کا شکر عبادت کے ذریعے اس طرح کہ وہ شکر و عبادت کے لیے زمانہ تربیت بھی بن گیا اور اس ماہ کو مدت تربیت بنا دیا گیا یعنی ماہ رمضان میں عبادات اطاعت کے مواقع بھی مسلسل مل جاتے ہیں اور بار بار نیک عمل کرنے سے مشق اور تربیت بھی ہوجاتی ہے اور باقی مہینوں کیلیے مومن کا ایمان تازہ دم ہو جاتا ہےجس طرح ماہ رمضان میں تمام اعمال کا اجر بڑھا دیا ہے اسی طرح قران کریم کی تلاوت کرنے پر مومن کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے حدیث پاک کا مفہوم ہےکہ"ہر نیکی کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے" اوہ قران کریم کو نماز تراویح اقسام اللیل میں پڑھنا اور سننا مزید اجر جا باعث ہے 
رمضان المبارک میں خدا تعالیٰ کے حکم سے شیا طین کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے، شیاطین جن کا کام یہ ہیکہ وہ انسان کو نیک عمل سے روکیں اور برے عمل کے کرنے کی ترغیب دیں ، او مبارک مہینے میں شیاطین کو قید کرکے ان کو اپنے اس ظالمانہ کام سے روکا جاتا ہے جس کے نتیجے میں نیکی کرنے والوں کی نیکیوں میں اضافہ ہو تا ہے اور برائی کرنےوالوں کا براںٔی کی طرف میلان کم ہوتا ہے۔ چونک انسان نفس اورنفسانیت کا مرکب ہے بعض مرتبہ انسانی زندگی بہت سی براںٔیوں کے کرنے کے لیے انسانی نفس حرکت کرتا ہے اور شیطان صرف بڑھاوا دیتا ہے نا کہ مکمل کوشش کرتا اب چونکہ ماہ رمضان میں شیطان قید میں ہے تو انسان کی برائیاں کم ہو جاتی ہیں اور پھر جو غلطیاں یا براںٔیاں ہوتی ہیں وہ نفس کے اثر ہوتی ہیں
رمضان المبارک کا مہینہ تقویٰ اور پرہیز گاری کا مہینہ ہے یہ بات یاد رہے کہ تقوٰی عبادت کا نام نہیں، بلکہ ایک مزاج کا نام ہے عبادت اور ہے، اور تقوی اور ہے یعنی انسان عبادت تو کرے مگر دنیاوی حالات میں، غصے کی حالت میں اسکی عبادت بالاے طاق ہو جاے، یہ تقوی نہیں ہے یہ تو اسی طرح ہے کہ بلی کو ایک مدت تک سدھایا جاے اور اسکی تربیت کی جاے، مگر جب چوہا سامنے آئے تو پھر ساری تربیت دھری کی دھری رہ جاتی5ہے اور اسکے اندر کا جذبہ باہر آ جاتاہے اور اسکی تربیت پرغالب آجا تا ہےاور ساری محنت برباد، بالکل اسی طرح رمضان المبارک کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ماہ خاموشی سے عبادت وریاضت، ذکر اور ناول کی ادائیگی، لیکن جونہی رمضان گیا پھر ویسا ہی پہلا حا ل، 
                     مولانا عبد القادر دہلوی صاحب نے تقوی کر معنی "لحاظ " کے بتائے ہیں اور لحاظ وقتی جذبات کو نہیں بلکہ ہمیشہ کے خیال کو کہتے ہیں 
الغرض رمضان المبارک خداۓ وحدہ لاشریک کا ایک عظیم تحفہ ہے اور مسلمان اور عالم اسلام کے لیے بڑی دینی دولت ہے جس کے مختلف النوع فوائد امت محمدیہ کو حاصل ہوتے ہیں عبادات کی ادائیگی کے سا تھ ساتھ مسلمانوں کی زندگی کے متعدد گوشے اصلاح اور درستی کے عمل سے گزرتے ہیں، آپسی ہمدردی، غم خواری اور انسانی احساسات کی صحیح کار فرماںٔی کے بہترین مواقع حاصل ہوتے ہیں چنانچہ ماہ رمضان المبارک کو صحیح طریقہ سے گزارنے کے بعد مسلمان عبادت کی شاندار اداںٔیگی کے ذریعے غفلتوں اور انسانی کدورت کی کیفیت سے پاک ہوکر نکلتا ہے کیونکہ مومن رمضان میں ان اعمال سے پرہیز کرتا ہے جو نیکیوں کو دور کریں لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ ماہ رمضان المبارک کو تمام آداب و احکامات کے ساتھ گزاریں جس طرح انسانی زندگی کیلیے کسی سالانہ طبی یا تربیتی کیمپ کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس میں کی گیی توجہ اور عمل سے وہ مکمل سال صحت مند رہے بالکل اسی طرح رمضان المبارک کا مہینہ بھی ہے جو کچھ نیک اعمال اور حسن اخلاق، ذکر و تلاوت، کا اہتمام رمضان المبارک میں کیا ہے ان کا مکمل سال اہتمام کریں ماہ رمضان المبارک کو صحیح طریقہ سے گزارنے کے بعد مسلمان عبادت کی شاندار اداںٔیگی کے ذریعے غفلتوں اور انسانی کدورت کی کیفیت سے پاک ہوکر نکلتا ہے کیونکہ مومن رمضان میں ان اعمال سے پرہیز کرتا ہے جو نیکیوں کو دور کریں لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ ماہ رمضان المبارک کو تمام آداب و احکامات کے ساتھ گزاریں جس طرح انسانی زندگی کیلیے کسی سالانہ طبی یا تربیتی کیمپ کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس میں کی گیی توجہ اور عمل سے وہ مکمل سال صحت مند رہے بالکل اسی طرح رمضان المبارک کا مہینہ بھی ہے جو کچھ نیک اعمال اور حسن اخلاق، ذکر و تلاوت، کا اہتمام رمضان المبارک میں کیا ہے ان کا مکمل سال اہتمام کریں 
 خداۓ وحدہ لاشریک کے اس عظیم تحفے کی قدر کریں اور دعا کریں کہ اللہ تعالی رمضان المبارک میں بھرپور عبادت وریاضت کرنے کی توفیق عطا کرے اور اس رمضان کو ہمارے لیے جہنم اور عذاب قبر سے خلاصی کا ذریعہ بناےَ اور روزہ، تلاوت قرآن کریم کو ہمارے لیے حجت بناےَ نا کہ یہ ہم پرحجت بن جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔