بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
ماہ رمضان کی آمد پر دعا:
حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ہمیں رمضان کی آمد پر یہ کلمات سکھایاکرتے تھے کہ ہم یہ کہا کریں کہ ’’اللَّهُمَّ سَلِّمْنِي مِنْ رَمَضَانَ، وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِي، وَتَسَلَّمْهُ مِنِّي مُتَقَبَّلاً ۔ یعنی’’اے اللہ ! مجھے رمضان کےلئے اور رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ اور رمضان کو میرے لیے سلامتی کے ساتھ قبولیت کاذریعہ بنا۔
امتِ محمدیہ کےلئے ماہِ رمضان کی پانچ خصوصیات:
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کو رمضان شریف میں پانچ چیزیں خاص طور پر دی گئیں ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں دی گئیں:
۱۔ان کے منہ کی بو اللّہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
۲۔ان کےلئے فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ افطار کے وقت تک دعا کرتے ہیں۔
۳۔جنت ہر روز ان کےلئے سجا دی جاتی ہے۔ پھر اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ عنقریب میرے نیک بندے مشقتیں اپنے اوپر سے ہٹا کر تیری طرف آئیں گے۔
۴۔اس مہینہ میں سرکش شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں اور لوگ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے ،جن کی طرف غیر رمضان میں جا سکتے ہیں۔
۵۔رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کی جاتی ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے عرض کیا:کیایہ شب قدرہے؟ ارشادفرمایا: نہیں، بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو مزدوری کام ختم ہونے کے وقت دی جاتی ہے۔
اللّٰہ تعالٰی ان فضائل سے ہمیں بھی مالا مال فرمائے۔
آمین یارب العالمین
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ