علماء دیوبند — علم، عمل اور استقامت کی روشن داستان



دارالعلوم دیوبند محض اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں،
یہ وہ چراغ ہے جس کی لو سے صدیوں کا اندھیرا پگھلتا رہا۔
یہاں سے اٹھنے والی آوازیں
نہ صرف منبروں تک محدود رہیں،
بلکہ دلوں میں اتر کر کردار بن گئیں۔
علماء دیوبند وہ قافلہ ہیں
جو علم کو عمل کے کندھوں پر رکھ کر چلتا ہے،
جن کی زبان پر قرآن کی مٹھاس
اور جن کے کردار میں سنت کی خوشبو بسی ہے۔
انہوں نے درسگاہوں کو عبادت بنایا
اور عبادت کو زندگی کا دستور۔

جب فتنوں کی آندھیاں چلیں،
تو یہی وہ لوگ تھے
جنہوں نے یقین کی چٹان بن کر
امت کو سنبھالا۔
نہ دولت کا لالچ،
نہ اقتدار کی ہوس—
بس ایک ہی مقصد:
دین کی حفاظت،
حق کی گواہی۔
علماء دیوبند کی شاعری خاموش ہے
مگر گہری،
ان کے الفاظ میں شور نہیں
مگر اثر ہے۔
وہ سادگی میں عظمت
اور عاجزی میں بلندی سکھاتے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں
جنہوں نے بتایا
کہ علم اگر اخلاص سے خالی ہو
تو بوجھ بن جاتا ہے،
اور اخلاص اگر علم کے ساتھ ہو
تو انقلاب بن جاتا ہے۔
آج بھی دیوبند کی فضا میں
وہی دعا گردش کرتی ہے،
وہی سبق زندہ ہے:
علم سیکھو،
عمل کرو،
اور خود کو مٹاکر
دین کو باقی رکھو۔