تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی

اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور کی وہ دولت عطا کی جو کائنات کی کسی دوسری مخلوق کے حصے میں نہیں آئی۔ اسلام صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس کی بنیاد "حیا" پر رکھی گئی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "حیا ایمان کا ایک اہم حصہ ہے"۔ لیکن افسوس! آج ہم ایک ایسی تہذیبی جنگ کا شکار ہیں جہاں محبت کے خوبصورت نام پر بے حیائی کو گھر گھر پہنچایا جا رہا ہے۔

محبت یا ہوس کا کھیل؟

14 فروری کو منایا جانے والا "ویلنٹائن ڈے" دراصل مغرب کی اس اندھی تقلید کا نام ہے جس نے رشتوں کے تقدس کو پامال کر دیا ہے۔ اس دن کی آڑ میں جس کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس کا اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ اسلام میں محبت ایک مقدس جذبہ ہے جو نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھ کر پروان چڑھتا ہے، جبکہ یہ مغربی تہوار اسے محض ایک دن کی نمائش اور گناہ کی ترغیب بنا دیتا ہے۔

ایک لمحہ فکریہ

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ اپنی صدیوں پرانی غیرت مندانہ تہذیب کو چھوڑ کر ان لوگوں کے پیچھے چل پڑیں جن کے ہاں رشتوں کی کوئی پہچان ہی باقی نہیں رہی؟ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پیروکار ہیں، جن کا زیور حیا تھا۔ آج اسکولوں، کالجوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے جس بے باکی کو "جدیدیت" کا نام دیا جا رہا ہے، وہ دراصل ہماری نسلِ نو کے ایمان پر حملہ ہے۔

ہماری ذمہ داری

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اولاد کی ایسی تربیت کریں کہ وہ غیروں کے ہتھکنڈوں کو پہچان سکیں:

اپنے گھروں میں دین کی روشنی لائیں اور بچوں کو بتائیں کہ اصل عزت اللہ کی اطاعت میں ہے۔

نوجوانوں کو سمجھائیں کہ جو محبت چھپ کر کی جائے اور اللہ کو ناراض کرے، وہ محبت نہیں بلکہ ایک سراب ہے۔

اگر ہم اپنے نبی ﷺ کی زندگی اور صحابہ کے قصے پڑھیں گے، تو ہمیں کسی مغربی ہیرو یا پادری کی یاد میں منائے جانے والے تہوار کی ضرورت نہیں رہے گی۔

خلاصہ کلام

ویلنٹائن ڈے ہماری غیرت کا جنازہ نکالنے کا ایک بہانہ ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اس بے حیا کلچر کا بائیکاٹ کریں گے اور اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالیں گے۔ اللہ ہمیں اپنے ایمان اور حیا کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔