🌹
*دن میں چراغ لے کر پھرنے والے شخص کا واقعہ*
ایک شخص دن کی روشنی میں چراغ لے کر بازار کے اطراف و جوانب میں پھر رہا تھا۔
کسی شخص نے اسے اس حرکت پر ٹوکتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے کہ دن کی روشنی میں چراغ کی ضرورت پیش آ رہی ہے؟
اس نے کہا کہ میں ہر طرف آدمی ڈھونڈتا ہوں، مجھے کوئی آدمی نہیں ملتا۔
اس نے جواب دیا کہ آدمیوں سے تو یہ بازار بھرا پڑا ہے اور تو کہتا ہے کہ مجھے کوئی آدمی نظر نہیں آ رہا۔
اس نے سائل کو وضاحت سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بازار میں کوئی مرد نہیں ہے، صرف صورت مرد کی سی ہے، یہ سب روٹی اور خواہشاتِ نفسانیہ کے مارے ہوئے ہیں۔
اس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس بازار میں جو انسان دکھائی دیتے ہیں، یہ سب انسانی صفات اور آدمیت کے خلاف ہیں۔ یہ آدمی نہیں ہیں، صرف آدمیت کے غلاف میں نظر آ رہے ہیں۔
آدمی بننے کے لیے صفاتِ آدمی ضروری ہیں۔ پھر اس نے مثال دیتے ہوئے سمجھایا: دیکھو! اگر عود، جو ایک خوشبودار لکڑی ہے، اس میں عود کی خوشبو نہ ہو تو پھر اس میں اور عام ایندھن کی لکڑیوں میں کیا فرق ہے؟ ایسے بغیر خوشبو والے عود کو بھی ایندھن ہی کہنا چاہیے۔
اب اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے اس نے کہا کہ آدمیت اور انسانیت گوشت اور چربی اور پوست (کھال) کا نام نہیں ہے۔ آدمیت ان صفات اور اخلاق و اعمال کا نام ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
اگر آدمیت صرف انسانی صورت کا نام ہو تو محمد ﷺ اور ابو جہل یکساں ہوتے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
گلستانِ رومی
سبق:
حقیقی آدمیت صرف جسم یا شکل کا نام نہیں، بلکہ اچھے اخلاق، نیک اعمال اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔
🌸🌹🤲♥️🌼