غزہ: جدید جنگ اور انسانی وجود کا سوال

غزہ میں جاری عسکری کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آنے والی حالیہ investigative reports (تحقیقی رپورٹس) ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلاتی ہیں جسے محض سیاسی یا جذباتی زاویے سے نہیں، بلکہ علمی اور قانونی فہم کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ دستیاب فیلڈ ڈیٹا کے مطابق بعض حملوں کے بعد متاثرین کی مکمل جسمانی شناخت ممکن نہیں رہی، جو جدید جنگی ہتھیاروں کے اثرات پر ایک سنجیدہ سوال کھڑا کرتا ہے۔
یہ معلومات محض media speculation (میڈیا کی قیاس آرائیاں) نہیں بلکہ اُن civil defense teams (سِول ڈیفنس / امدادی ٹیمیں) کے مشاہدات پر مبنی ہیں جو جائے وقوعہ پر موجود رہیں۔ رپورٹوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض اوقات صرف جزوی biological traces (حیاتیاتی آثار، جسمانی نشان) باقی رہتے ہیں، جس سے یہ بحث جنم لیتی ہے کہ جدید warfare (جنگی نظام / جنگ کا طریقہ) میں انسانی جسم خود ایک کمزور variable (غیر مستحکم عنصر) بن چکا ہے۔
قانونِ جنگ یعنی International Humanitarian Law (بین الاقوامی انسانی قوانین) کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جنگ میں بھی human dignity (انسانی وقار) اور distinction (شہری اور جنگجو میں فرق) کا لحاظ رکھا جائے۔ اگر ایسے weapons (ہتھیار) استعمال ہوں جن کے نتائج انسانی شناخت کو ہی مٹا دیں، تو یہ معاملہ محض عسکری برتری کا نہیں رہتا بلکہ ایک ethical and legal dilemma (اخلاقی اور قانونی الجھن) بن جاتا ہے۔ اسی بنا پر متعدد legal experts (قانونی ماہرین) نے ان کارروائیوں پر سوالات اٹھائے ہیں، اگرچہ عالمی سطح پر ابھی تک کوئی حتمی judicial declaration (عدالتی فیصلہ / اعلان) سامنے نہیں آئی۔
غزہ کی ایک متاثرہ ماں کا بیان کسی جذباتی تقریر سے زیادہ وزنی ہے، کیونکہ وہ ایک ground reality (میدانی حقیقت) کو بیان کرتا ہے، نہ کہ محض سیاسی موقف کو۔ ایسی شہادتیں تاریخ میں صرف اعداد نہیں رہتیں، بلکہ اجتماعی ضمیر کے لیے ایک آزمائش بن جاتی ہیں۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ طاقت کس کے پاس ہے، بلکہ یہ ہے کہ power (طاقت) کے استعمال کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں۔ اقوامِ عالم اگر انصاف کو ایک abstract concept (تصوری یا نظری خیال) بنا کر رکھ دیں، تو پھر مظلوم کی نظر میں انصاف اور خاموشی میں فرق باقی نہیں رہتا۔
اہلِ عقل جانتے ہیں کہ ظلم ہمیشہ فوری جواب نہیں پاتا، مگر وہ record (تاریخی اندراج) پر ضرور آ جاتا ہے۔
اور تاریخ کا اصول ہے کہ جو سوال آج دبائے جائیں، وہ کل فیصلہ بن کر سامنے آتے ہیں۔
ہم امید کو نعرہ نہیں بناتے،
ہم اسے responsibility (ذمہ داری) سمجھتے ہیں۔
اور غزہ کی ثابت قدمی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ
حق کی گواہی شور سے نہیں، استقامت سے دی جاتی ہے۔

ان شاء اللہ۔