🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

ذرا ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیجیے
سوچیے کہ آج سورج کی یہ روشنی آپ کی زندگی کی آخری روشنی ہو۔
یہ شام آپ کی عمر کی آخری شام ہو۔ یہ سانس جو اس وقت چل رہی ہے، یہی آخری سانس ہو۔ پھر دل کی کیفیت کیا ہوگی؟ زبان پر کون سے الفاظ آئیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے اعمال کی حقیقت ہمارے سامنے کس صورت میں کھڑی ہوگی؟

زندگی، جسے ہم نہایت سنجیدگی سے لیتے بھی ہیں اور غیر سنجیدگی سے گزارتے بھی ہیں، دراصل چند سانسوں کی امانت ہے۔ ہم صبح سے شام تک منصوبے بناتے ہیں، خواب سجاتے ہیں، خواہشوں کے محل تعمیر کرتے ہیں؛ مگر موت کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بناتے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موت وہ یقینی سچ ہے جس سے کوئی انکار ممکن نہیں۔ اگر آج ہمارا آخری دن ہو تو ہمیں سب سے پہلے کس چیز کی فکر ہوگی؟ مال و دولت کی؟ شہرت و نام کی؟ یا اُن لمحات کی جو ہم نے غفلت میں ضائع کر دیے؟

اگر آج آخری دن ہو تو شاید ہمیں اپنی نمازوں کی کمی محسوس ہو، وہ سجدے یاد آئیں جو ہم نے ٹال دیے تھے، وہ قرآن کے اوراق یاد آئیں جو کھولنے کا ارادہ تو کیا مگر وقت نہ نکالا۔ ہمیں وہ دل آزاری یاد آئے گی جو کسی کے دل میں ہمارے سبب پیدا ہوئی، وہ سخت جملے یاد آئیں گے جو ہم نے غصے میں کہہ دیے، وہ رشتے یاد آئیں گے جنہیں انا کی دیوار نے ہم سے دور کر دیا۔

انسان بڑی بڑی کامیابیوں کے خواب دیکھتا ہے، مگر سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ربِّ کریم ہم سے راضی ہو۔ اگر آج آخری دن ہو تو کیا ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہے؟ کیا ہم نے اپنی زندگی کو اُس مقصد کے لیے صرف کیا جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا؟ یا ہم دنیا کی رنگینیوں میں ایسے کھو گئے کہ اصل منزل ہی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی؟

حقیقت یہ ہے کہ موت کا تصور دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے، مگر یہی تصور انسان کو سنوار بھی دیتا ہے۔ جو شخص ہر دن کو آخری دن سمجھ کر جیتا ہے، اُس کے الفاظ نرم ہوتے ہیں، اُس کا رویہ متوازن ہوتا ہے، اُس کے فیصلے باوقار ہوتے ہیں۔ وہ کسی کا حق نہیں مارتا، کسی پر ظلم نہیں کرتا، وقت کو ضائع نہیں کرتا؛ کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر لمحہ حساب میں آنے والا ہے۔

اگر آج آخری دن ہو تو شاید ہم اپنے والدین کے قدموں میں بیٹھ جائیں، اُن کے ہاتھ چوم لیں، اُن کی دعائیں لے لیں۔ شاید ہم اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کریں، اپنے شاگردوں کو نصیحت کریں، اپنے بچوں کو گلے لگا لیں۔ شاید ہم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوکر آنسو بہائیں اور کہیں:
“یا اللہ! کوتاہیاں ہوئیں تو معاف فرما، لغزشیں ہوئیں تو درگزر فرما،  نیکیاں کم ہیں تو اپنے فضل سے پورا فرما۔”

زندگی کا اصل حسن یہی ہے کہ ہمیں ہر دن ایک نیا موقع ملتا ہے۔ ہر صبح دراصل اعلان کرتی ہے کہ ابھی وقت ہے، ابھی سانس باقی ہے، ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، ابھی اصلاح کی راہ ممکن ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آخری دن کب آئے گا؛ سوال یہ ہے کہ ہم آج کو کیسے گزار رہے ہیں۔

کاش ہم ہر رات اپنے آپ سے پوچھیں: اگر آج آخری دن ہوتا تو کیا میں مطمئن ہوتی؟ اگر جواب نفی میں ہو تو سمجھ لیجیے کہ ابھی وقت ہے۔
 نیت درست کیجیے، اعمال سنواریے، دلوں کو جوڑیے، رب سے تعلق مضبوط کیجیے۔ کیونکہ دانا وہی ہے جو موت سے پہلے موت کی تیاری کرلے، اور کامیاب وہی ہے جو دنیا سے جانے سے پہلے اپنے رب کو راضی کرلے۔

پس عہد کریں کہ ہم ہر دن کو آخری دن سمجھ کر گزاریں گے۔ ہر نماز کو آخری نماز سمجھ کر پڑھیں گے، ہر دعا کو آخری دعا سمجھ کر مانگیں گے، ہر ملاقات کو آخری ملاقات سمجھ کر کریں گے۔ تب زندگی میں سنجیدگی بھی آئے گی، خشوع بھی، اخلاص بھی اور نور بھی۔

شاید ہمارا آج واقعی آخری نہ ہو
مگر یہ سوچ ہمیں ایسا بنا دے کہ جب آخری دن آئے تو ہم گھبرائیں نہیں، بلکہ سکون کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں۔
اور یہی اصل کامیابی ہے۔