*ویلنٹائن ڈے کی تاریخ اور حقیقت*

ویلیںٹائن ڈے valentine day فحاشیت، شہوانیت، حیوانیت، شیطانیت کا ایک کھلا مظہر ہے، جس دن جھوٹے اور حرام محبت کے نام پر پاک رشتوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، جس دن محترم اور پاک دامن بنت حوا کی عزتوں کو سرعام نیلام کیا جاتا ہے، جس دن محبت کے نام پر بہنوں اور بیٹوں کی عزت پر گندی اور شہوانی نگاہ ڈالی جاتی ہے، جس دن پردہ نشین خاتون پر دن دہاڑے شہوانیت اور حیوانت کی بھیٹ چڑھایا جاتا ہے، جس دن محبت کے نام پر عورتوں کو بے حیا اور بے شرم کیا جاتا ہے، جس دن محبت کے نام پر بھائی بہن کے معزز رشتے کا سربازار خون کیا جاتا ہے، جس دن محبت کے نام پر حرام کاری اور زناکاری کے لئے چور دروازوں کا افتتاح کیا جاتا ہے،یہ دن بے حیائی کا دن ہے، بے شرمی کا دن ہے، حرام کاری کا دن ہے، زناکاری کا دن ہے، دنیا کا کوئی مذہب اور قوم نہیں ہے جو اس بات کی اجازت دے کہ ان کی بہوؤں اور بیٹیوں کو کوئی اجنبی مرد زناکاری و فحاشیت کی دعوت دے، ان کی بہنوں اور بیٹیوں کو پھول دے کر گندی نگاہ ڈالے،لعنت ہے اس دن پر جس دن حلال رشتے پر حرام رشتے کو ترجیح دی جائے، لعنت ہے اس دن پر جس دن بے حیائی و فحاشیت کا ننگا ناچ ناچا جائے۔
*اس دن کی حقیقت کیا ہے؟*
اس دن کے بارے میں سب سے پہلی روایت روم میں عیسائیت سے قبل کے دور میں ملتی ہے، جب روم کے بت پرست مشرکین 15 فروری کو ایک جشن مناتے تھے جو کہ Feast of Lupercalia کے نام سے جانا جاتا تھا، یہ جشن وہ اپنے دیوی دیوتاؤں کے اعزاز میں انہیں خوش کرنے کے لیے مناتے تھے، ان دیوتاؤں میں Pan (فطرت کا دیوتا)، Februata Juno (عورتوں اور شادی کی دیوی) اور Pastoraigol Lupercalius (رومی دیوتا جس کے کئی دیویوں کے ساتھ عشق و محبت کے تعلقات تھے) شامل ہیں،​اس موقع پر ایک برتن میں تمام نوجوان لڑکیوں کے نام لکھ کر ڈال دیے جاتے جس میں سے تمام لڑکے باری باری ایک پرچی اٹھاتے اور اس طرح لاٹری کے ذریعے منتخب ہونے والی لڑکی اس لڑکے کی ایک دن یا ایک سال یا تمام عمر کی ساتھی قرار پاتی تھی، یہ دونوں محبت کے اظہار کے طور پر آپس میں تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے تھے اور بعض اوقات شادی بھی کر لیتے تھے۔
​اسی طرح ویلنٹائن کارڈز پر دکھائے جانے والے نیم برہنہ اور تیر کمان اٹھائے ہوئے کیوپڈ (Cupid) کی تصویر بھی ویلنٹائن کی خصوصی علامت ہے اور رومن عقیدے کی رو سے وینس (محبت اور خوبصورتی کی دیوی) کا بیٹا ہے جو کہ لوگوں کو اپنے تیر سے نشانہ لگا کر انہیں محبت میں مبتلا کر دیتا ہے، یہ ان کا ماننا ہے،​جب روم میں عیسائیت منظر عام پر آئی تو عیسائیوں نے اس جشن کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی، اس مقصد کے لیے 14 فروری کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا جس دن رومیوں نے ایک *عیسائی پادری ویلنٹائن* کو سزائے موت دی تھی۔
​واقعہ کچھ یوں ہے:​رومی بادشاہ Claudius II کے عہد میں روم کی سرزمین مسلسل کشت و خون کی وجہ سے جنگوں کا مرکز بنی رہی اور یہ عالم ہوا کہ ایک وقت میں Claudius کو اپنی فوج کے لیے مردوں کی تعداد بہت کم نظر آئی جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ روم کے نوجوان اپنی بیویوں کو چھوڑ کر پردیس میں لڑنے کے لیے جانا ناپسند کرتے تھے، بادشاہ نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک خاص عرصے کے لیے شادیوں پر پابندی عائد کر دی، تاکہ نوجوانوں کو فوج میں آنے کے لیے آمادہ کیا جا سکے، اس موقع پر ایک پادری *سینٹ ویلنٹائن* نے خفیہ طور پر نوجوانوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا، جب اس کا یہ راز فاش ہوا تو بادشاہ کے حکم پر سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور سزائے موت کا حکم دیا گیا۔
​جیل میں یہ پادری صاحب *جیلر کی بیٹی کو دل دے بیٹھے جو کہ ان سے ملنے آیا کرتی تھی* لیکن یہ ایک راز تھا کیونکہ عیسائی قوانین کے مطابق پادریوں اور راہبوں کے لیے شادی کرنا یا محبت کرنا ممنوع تھا، اس کے باوجود عیسائی ویلنٹائن کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ جب رومی بادشاہ نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ عیسائیت کو چھوڑ کر رومی خداؤں کی عبادت کرے تو اسے معاف کر دیا جائے گا، بادشاہ اسے اپنی قربت دے گا اور اپنی بیٹی سے اس کی شادی کر دے گا، تو اس نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں اس رومی جشن سے ایک دن پہلے 14 فروری 270ء کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، مرنے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کو ایک خط لکھا جس کا خاتمہ *For your Valentine* کے الفاظ سے کیا، بہت سے ویلنٹائن کارڈز پر لکھے جانے والے Greetings کے الفاظ *For your Valentine* اسی واقعہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہیں۔
​ویلنٹائن کے نام سے کم از کم تین مختلف پادری ہیں اور تمام کی موت کا دن 14 فروری ہے، 496ء میں پوپ Gelasuis نے سرکاری طور پر 15 فروری کے فیسٹیول Lupercalia کو بدل کر 14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن ڈے منانے کا اعلان کیا اور لاٹری کے ذریعے لڑکی کے انتخاب کی رومی رسم میں یہ رد و بدل کیا کہ پرچی میں نوجوان لڑکی کے نام کی بجائے عیسائی پادریوں کے نام لکھے جاتے اور تمام مرد اور عورتیں ایک ایک پرچی اٹھاتے، اس کا مقصد یہ تھا کہ ہر مرد و عورت جس عیسائی پادری کے نام کی پرچی اٹھاتا اسے اگلے ایک سال تک پادری کے طور طریقوں کو اپنانا ہوتا تھا، تاہم یہ سلسلہ چل نہ سکا(ماخوذ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، کیتھولک انسائیکلو پیڈیا)
*​ویلنٹائن ڈے اور اسلامی تعلیمات*
​ہمیں ایسے تمام تہواروں سے اجتناب کرنا چاہیے جس کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ہو، ہر قوم کا اپنا ایک علیحدہ خوشی کا تہوار ہوتا ہے اور اسلام میں مسلمانوں کے خوشی کے تہوار واضح طور پر متعین ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے عیدالفطر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: *اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَھٰذَا عِیْدُنَا*(ہر قوم کی اپنی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے) (صحیح مسلم، کتاب صلاة العیدین، حدیث نمبر: 1479)
​ویلنٹائن ڈے منانے کا مطلب مشرک رومیوں اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: *مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْ*(جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے) (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، حدیث نمبر: 3512) ​موجودہ دور میں ویلنٹائن ڈے منانے کا مقصد ایمان اور کفر کی تمیز کے بغیر تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت ممنوع ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ*(آپ ﷺ نہیں دیکھیں گے ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے ہی ہوں) (سورۃ المجادلہ: 22)
​اس موقع پر نکاح کے بندھن سے قطع نظر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے، جس میں لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ ملاپ، تحائف اور کارڈز کا تبادلہ اور غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بداخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: *إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ*(جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلائی جا سکے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے) (سورۃ النور: 19)

​نبی اکرم ﷺ نے جو معاشرہ قائم فرمایا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے۔ مگر اب لگتا ہے کہ آپ ﷺ کی امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کے لیے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو ان کا دل چاہے گا۔ فرمانِ نبوی ﷺ ہے: *إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ*(جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہارا جی چاہے کرو) (صحیح بخاری، کتاب الادب، رقم الحدیث: 5655)​یعنی ایسے حالات میں ہمیں عفت و پاک دامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاہیے اور اپنی تہذیب و تمدن، ثقافت و روایات کو اپنانا چاہیے اور اغیار کی اندھی تقلید سے باز رہنا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
​اور ایک عجیب رپورٹ ​2021 کی گوگل کی رپورٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 350 یوپی میں وہ لڑکیاں جو کہ گورنمينٹ کی نظر میں نابالغ تھیں اس دن کی پریگننٹ پائی گئی اللہ اکبر یہ ان کی تعداد ہے جو نابالغ لڑکیاں تھیں اور حمل کو ضائع کرانے لئے گئیں اور بالغہ کی کوئی تعداد نہیں اب سوچیے گا،​خدارا بچاؤ اپنی بچیوں کو ورنہ پھر پوری زندگی وہ ایک ذلیل عورت کی طرح اپنی زندگی کی سانسوں کو گنے گی۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*