الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين.
اعوذ بالله من الشيطن الرجيم ...ولا متخذي اخدان.( سوره المائده ٥)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ..الحياء شعبة من الايمان ( بخاري ومسلم)
اللہ تعالی نے انسانوں کی رہبری اور کامیابی کے لیے ہر دور میں انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا ۔
اسی سلسلۃ الذہب کی آخری کڑی خاتم الانبیاء میرے اور آپ کے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات میں اخلاقی معاشرتی دنیوی و اخروی زندگی کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔قران مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے (سورۃ الاحزاب) 
کیا چیز صحیح ہے کیا غلط ہے ؟کس کو اپنایا جائے کس کو ترک کیا جائے ؟کن چیزوں کے اختیار کرنے سے معاشرہ صالح اور پاکیزہ بنتا ہے ؟اور کس کے ذریعے خراب اور داغدار ہوتا ہے ؟یہ تمام باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں واضح فرما دی ہے.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو عفت و عصمت پاک دامنی اور شرم و حیا اختیار کرنے کا درس دیا ہے ۔
مذہب اسلام نے شرم و حیا کی خوبی کو واضح کیا ہے تاکہ باحیا بن کر معاشرے کو پاک و صاف رکھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الحیا ءمن الایمان والايمان في الجنه والبذاءمن الجفاء والجفاء في النار (ترمذي) حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کا سبب ہے اور بے حیائی جفا یعنی زیادتی ہے اور جفا دوزخ میں جانے کا سبب ہے 
حیا اور شرم کی وجہ سے انسان مخلوق کی نظر میں جاذب نظر بن جاتا ہے اور خالق کے نظر میں بھی اسی لیے حدیث پاک میں حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا .،،الحياء خير كله،،حیا سراسر خیر ہے .
حیا انسان کو پاک باز، پرہیزگار، اور صالح انسان بناتی ہے باحیا انسان کوئی غلط کام کرنے کے بعد لوگوں کا سامنا کرنے سے جھجھک محسوس کرتا ہے ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین شخص ایسے ہیں جن پر اللہ تعالی نے جنت حرام کر دی ہے ایک شراب پینے والا دوسرا،والدین کا نافرمان تیسراوہ بےغیرت جو اپنے گھر میں بے حیائی کو دیکھے او( دیکھنے کے باوجود) اسے برقرار رکھے (نسائی)
مذہب اسلام نے بے حیائی بے غیرتی کو سخت ناپسند کیا ہے ۔ہر ایسا تعلق جو منافی اسلام اور داعی الی الزنا ہو اسلام اسے بے حیائی گردانتا ہے اسی لیے قران پاک میں اللہ رب العزت نے فرمایا ،،ولا متخذي اخدان ،،یعنی چھپی ہوئی آشنائیاں مت کرو یعنی ناجائز پیار و محبت جس کو ہمارے زمانے میں بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے رشتے کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔ اسلام میں مردوں کے لیے عورتوں سے اور عورتوں کے لیے مردوں سے دوستی یا خفیہ تعلقات قائم کرنا جرم اور حرام ہے اس سے مراد وہ گندا ذہنیت ہے جس میں مرد عورت ایک دوسرے کو نکاح کے بجائے خفیہ طور پر شہوت رانی کے لیے دوست بناتے ہیں .
اور اپنی جنسی پیاس بجھانے کے لیے غلط کاریوں میں مبتلا ہوتے ہیں ۔
اس منحوس اور مبغوض رشتہ رکھنے والوں نے اپنے لیے ایک ایسا دن بھی منتخب کر لیا ہے جس کو یہ لوگ ویلنٹائن ڈے کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس دن کھلے عام بدکاریاں اور بے حیائیاں کرتے ہیں ۔
جبکہ حدیث کا عنوان صاف ہے ۔،،لکل دین خلق وخلق الاسلام الحیا ،،(ابن ماجہ)
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمارے معاشرے سے اس قسم کی برائیوں اور بے حیائیوں کو پاک فرمائے اور تمام مسلمان نوجوان بچوں اور بچیوں کو دین کی صحیح سمجھ اور فہم نصیب فرمائے ۔
حیا سے حسن کی قیمت دو چند ہوتی ہے 
نہ ہوں جوآاب تو موتی کی آبرو کیا ہے 


از نوک قلم ۔ محمد تنویر