" اپنائیت اور تعصبیت سے پاک رہو — عدل و علم کی بقا کا فکری منشور ؛"
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (87)
معاشروں کی تباہی اکثر تلوار سے نہیں، ترازو کے جھک جانے سے ہوتی ہے۔ جب فیصلے رشتوں کے تابع، مواقع پہچان کے اسیر، اور معیار انصاف کے بجائے تعلق بن جائے تو ظلم خاموشی سے جنم لیتا ہے۔ اسی خاموش ظلم کا نام اپنائیت اور تعصبیت ہے۔ یہ وہ مرض ہے جو عدل کو اندر سے کھا جاتا ہے اور علم کی روح کو مجروح کر دیتا ہے۔ اس مضمون کی بنیاد دو ستونوں پر ہے: عدل اور علم— کیونکہ یہی دونوں اگر غیر جانب دار رہیں تو معاشرہ سلامت رہتا ہے، اور اگر انہی میں تعصب در آئے تو سب کچھ بکھر جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوابِالْعَدْلِ"(النساء: 58)
"اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔"
پہلا ستون: عدل — ہر ایک کے ساتھ ایک جیسا معیار"
عدل کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلہ کرتے وقت نہ چہرہ دیکھا جائے، نہ نام، نہ رشتہ، نہ حیثیت۔انجان ہو یا جان پہچان، اپنا ہو یا پرایا، ہم مذہب ہو یا غیر مذہب، بھائی ہو یا دشمن— سب کے لیے ایک ہی میزان۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ"
(النساء: 135)
"اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اگرچہ وہ فیصلہ خود تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔"انصاف پر قائم رہنا ایمان کی علامت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،(الادب المفرد/كتاب الظلم/حدیث: 483) "ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔"
عدل معاشرے کو جوڑتا ہے، رحمتوں کو نازل کرتا ہے، بلاؤں کو دور کرتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں عزت و انسیت پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جب عدل رشتوں کی نذر ہو جائے تو اعتماد ٹوٹتا ہے، نفرت پنپتی ہے، اور اجتماعی سکون رخصت ہو جاتا ہے۔معاشرہ آہستہ آہستہ اندھیروں کی کھائی میں جا گرتا ہے۔"
دوسرا ستون: علم __ امانت، نہ کہ تجارت
علم وہ دولت ہے جو نہ لٹتی ہے نہ گھٹتی، مگر شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو۔ علم کی قدر صلاحیت سے ہونیچاہیے، نہ کہ سفارش، مال، یا تعلق سے۔ جب علم میں تعصب داخل ہو جائے تو وہ ہدایت کے بجائے فتنہ بن جاتا ہے، اور تربیت کے بجائے تباہی لاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ"(المجادلہ: 11)
"اللہ ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ،(سنن ابن ماجه/أبواب كتاب السنة)/حدیث: 224)
"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔"
" تعصب کے چار زہریلے چہرے 'علم و عدل کے میدان میں"
یہ بات ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اپنائیت اور تعصب ہمیشہ باہر سے نہیں آتے، اکثر یہ اندر ہی اندر نظام کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ ظلم وہیں ہوتا ہے جہاں عدل کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے: یعنی علم، تربیت اور امتحان کے میدان میں۔
پہلی صورت: مدرسہ اور استاد کی ناانصافی "
طالب علم اگر مدرسہ میں ہو اور خود اس کا استاد ہی کسی خاص رشتے داری یا کسی طالب علم کے سرپرست سے خفیہ مفاد کی بنا پر توجہ ایک جانب مرکوز ہو جائے اور دوسری جانب سے ہٹ جائے یا کم کردے. تو یہ صرف شخصی کمزوری نہیں بلکہ عدل کے قتل کا اعلان ہے۔ ایسے استاد علم کا خادم نہیں رہتے بلکہ اپنائیت اور تعصب کے مریض بن جاتے ہیں،جوغیر شعوری طور پر طالب علموں کے مستقبل سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔نبی ﷺ نے فرمایا : أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، (سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2928) "تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔"
دوسری صورت: سماج اور محلے کی ناقدری
جب طالب علم گھر یا سماج میں آتا ہے تو محلے کے معزز اور بڑے لوگ اگر غریب گھرانے کے طالب علم؛ یا دیگر بچوں کو نظر انداز کریں، نہ اس سے پیار سے بات کریں، نہ اس کی حوصلہ افزائی کریں، بلکہ اپنے بچوں یا امیر کے بچوں کو پاس بٹھا کر ان کا حال چال پوچھیں ہر محل و موقع پر اپنے ہی بچوں کو ترجیح دے ان کی تعریفوں کے پل باندھیں، تو یہ محض بدتمیزی نہیں بلکہ -- یہ بھی ایک خاموش مگر مہلک ظلم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ" (صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6013)
"جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔"
یہ وہ زہر ہے جو اعتماد کو مار دیتا ہے اورایسے ماحول میں محلّے اور سماج کے دیگر طالب علم خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، اس کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی صلاحیت جنم لینے سے پہلے ہی دفن ہو جاتی ہے یہ ایک خاموش ظلم ہے.
تیسری صورت: امتحان اور فیصلہ کی خیانت
کہیں کوئی امتحان یا آزمائش ہو اور وہاں اپنے بچوں، دوستوں کے بچوں یا رشوت کی بنیاد پر پاس فیل کیا جائے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ محنتی اور باصلاحیت طالب علم مایوس ہو کر تعلیم سے ہی دور ہو جاتا ہے، یا دل سےمحنت چھوڑ دیتا ہے۔ ایسے جج اور ممتحن دراصل انصاف کے محافظ نہیں بلکہ انصاف کے قاتل ہوتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا. القضاة ثلاثة: اثنان في النار وواحد في الجنة: (بلوغ المرام/حدیث: 1188)
"قاضی تین ہیں: ایک جنت میں اور دو جہنم میں۔"
جو اپنائیت اور تعصب کے مرض میںمبتلا ہو کر پورے تعلیمی نظام کو بیمار کر دیتے ہیں۔
چوتھی صورت: اہلِ علم کے ساتھ خاموش دشمنی '
یہی معاملہ بہت سے اہلِ علم اور باصلاحیت لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ مختلف انداز اور حربوں سے ان کی راہ روکی جاتی ہے، انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے، کہیں یہ تعصب علاقے کے نام پر ہوتا ہے، کہیں زبان کے، کہیں قوم کے، اور کہیں مسلک کے نام پر۔ ان کی قابلیت، استعداد اور محنت کے باوجود انہیں ترجیح نہیں دی جاتی، بلکہ ان کی ترقی سے جل کر ان کے حوصلے توڑے جاتے ہیں۔ یہ وہ اندرونی دشمن ہوتے ہیں جو دوسروں کی صلاحیت سے خوف کھا کر خود عدل کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنائیت و تعصب کے مریض بن کر علم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ (الاعراف: 85)"لوگوں کو ان کا حق کم نہ دو۔"
اپنائیت اور تعصب: نظامِ الٰہی سے تصادم'
جب کوئی عدل کو چھوڑ کر اپنائیت کو معیار بناتا ہے اور علم میں تعصب داخل کرتا ہے تو وہ دراصل فطرت اور عدل کے الٰہی نظام سے ٹکراتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"وَمَن يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ"(الانفال: 13)"جو اللہ اور اس کے رسول سے ٹکر لے، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔"
ایسے ٹکراؤ کا انجام سکون کی محرومی، دل کی بےچینی اور برکت کے زوال کےسوا کچھ نہیں۔ وقتی فائدہ مل بھی جائے تو دائمی عزت ہاتھ سے نکل جاتیہے خودسے دشمنی مت کرو یہ دنیا عارضی ہے؛ رشتے، عہدے اور طاقت سب یہیں رہ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"تُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ. (آل عمران: 26)"تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ
(مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5119)
"جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے اللہ اسے بلند کر دیتا ہے
اللہ جسے عزت دینا چاہے، کوئی ذلیل نہیں کر سکتا؛ جسے علم دینا چاہے، کوئی روک نہیں سکتا۔
لہٰذا اپنے ہاتھوں سے خود کو مت گراؤ۔
اپنائیت اور تعصب سے نکل کر عدل کواپناؤ،علم کو تجارت نہیں، امانت سمجھو،طالب علم کو بوجھ نہیں، امید جانو۔جس دن ہم نےعدل کو رشتوں سے آزاد اور علم کو سفارش سے پاک کر دیا— اسی دن ہمارا معاشرہ صرف قائم نہیں رہے گا، بلکہ باعزت،باوقار اور باکردار بن جائے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر رحمت اترتی ہے، اعتماد جنم لیتا ہے، اور مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com