★وہ اپنا ہوکر غیر سا لگا مجھے★
انسان کی زندگی میں بعض ایسے مراحل آتے ہیں جب وہ اپنے اور پرائے کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔
بسا اوقات اردگرد اپنے دکھائی دینے والے حقیقت میں غیر نکلتے ہیں
اور غیر سمجھے جانے والے دل کے قریب ہو جاتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔
ایک شخص ایسا ملا جسے میں نے اپنی سوچ اور اپنے احساسات میں جگہ دے دی۔ پہلی ملاقات ہی میں یوں محسوس ہوا جیسے برسوں کی شناسائی ہو جب کہ اس دن سے پہلے میں نے ان کی صورت تک نہ دیکھی تھی۔ خیر وقت گزرتا گیا اور قربت بڑھتی گئی۔ ہر گزرتی گھڑی ہمیں اس قدر قریب لے آئی کہ ہم ایک دوسرے کو بھائی کے سوا کسی اور نسبت سے پکارنے میں جھجھک محسوس کرتے ۔
یہ رفاقت اور محبت کا سفر کئی ماہ تک اسی گرمجوشی کے ساتھ جاری رہا۔ پھر آہستہ آہستہ زندگی نے وہ موڑ لیا جہاں ہماری راہیں جدا ہونا مقدر ٹھہریں۔ وہ اپنی سمت چل پڑے اور میں اپنی راہ پر گامزن ہوگیا۔ جسمانی طور پر فاصلے بڑھ گئے، مگر دلوں کا تعلق ابھی باقی تھا۔
جب کبھی یاد کا سلسلہ چلتا اور ہمارے مابین گفتگو کا آغاز ہوجاتا تو سیکنڈ منٹوں میں، منٹ گھنٹوں میں بدل جاتے، مگر دل کی تسکین پھر بھی مکمل نہ ہوتی۔
یوں لگتا جیسے باتیں ابھی باقی ہوں مگر وقت کی گردش نے آہستہ آہستہ اس تعلق کی چمک دمک مدھم کردی۔ گفتگو کم ہوتی گئی، اور قربت ایک رسمی رابطے میں بدلنے لگی۔
اب حال یہ ہے کہ رابطہ تو موجود ہے، مگر وہ پہلے جیسی اپنائیت باقی نہیں رہی۔ ضرورت کے وقت چند لفظوں میں دعا سلام ہوجاتی ہے، اور یوں اپنائیت پھر اجنبیت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یادیں آج بھی صبح و شام دل کے دریچوں پر دستک دیتی ہیں مگر ہمت نہیں ہوتی کہ دوبارہ پہل کی جائے۔
ایک موقع پر ہم نے انہیں اس یقین کے ساتھ یاد کیا کہ وہ ہمارے اپنے ہیں، ہماری خاطر اپنی مصروفیات کو پس و پیش کر دیں گے۔ مگر شاید ان کی ترجیحات بدل چکی تھیں۔ اسی لمحے شدت سے احساس ہوا کہ موجودہ دور میں اپنا اور پرایا پہچاننا کتنا دشوار ہو چکا ہے۔
زندگی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ تعلقات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کچھ لوگ ہمارے دل میں یاد بن کر رہ جاتے ہیں، اور یہی یادیں ہمیں پختہ، سمجھدار اور حقیقت شناس بنا دیتی ہیں
کبھی کسی کے مل جانے سے اتنے پر امید مت ہواکرو کہ ان کی جدائی آپ کی حیاتِ جاوداں چھین لے ۔
کبھی کسی کے روٹھ جانے سے اتنے مایوس مت ہوا کرو کہ زندگی موت معلوم ہونے لگے ،
یہ دنیا کا دستور ہے کیئ چہرے آئیں گے جائیں گے بس اپنی یاد وہی چھوڑ جائیں گے جو دل کے سچے وعدوں کے پکے ہوں گے ،
(رقیمۂ خاکسار جمال الدین انوری) 🖋️