عاجزی اور تکبر کی مثال
14 فروری، 2026
عاجزی اور تکبر کی مثال گیہوں کی بالی کی طرح ہے، کیا کبھی آپ نے گیہوں کے کھیت کو دیکھا ہے..؟ جس میں گیہوں کا ڈنٹھل ہوتا ہے جس میں سے کچھ کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے اور کچھ کا اٹھا ہوا، ظاہراً ایک نا سمجھنے والا انسان یا بچہ یہی سمجھے گا کہ جس گیہوں کے ڈنٹھل کی بالیاں سر اٹھاے ہوے ہیں وہی اچھی ہیں اور جن بالیوں کا سر جھکا ہوا ہے وہ کمتر اور حقیقر ہیں۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے جو بالیاں اپنے سر کو اٹھاے ہوۓ ہوتی ہیں وہ بالکل خالی اور ویران ہوتی ہیں اس میں کوئ غلہ نہیں ہوتا لیکن جو اپنے سر کو جھکاۓ ہوے ہوتی ہیں وہ گیہوں سے بھری ہوئ ہوتی ہیں۔
یہی مثال ایک عالم کے لیۓ بھی ہے عالم اپنے علم اور عمل کی وجہ سے اپنے سر کو عاجزی کے ساتھ جھکاۓ ہوۓ ہوتا ہے جبکہ جاہل تکبر سے بھرا ہوا ہوتا ہے جو اپنے گھمنڈ کی وجہ سے خالی اور ویران ہوتا ہے اور وہ اپنے سر کو اٹھاے ہوے ہوتا ہے _
عالم اس غلے سے بھری ہوئ بالی کی طرح ہوتا ہے جس کا سر زیادتی کی وجہ سے جھکا ہوا ہوتا ہے کیونکہ ایک عالم دین بھی اپنے علم اور خشیت الہی کی وجہ سے ہمیشہ عاجزی کے ساتھ سر کو جھکاۓ ہوے ہوتا ہے جس میں اللہ نے وضع دی ہوئ ہوتی ہے_
اور جاہل متکبر اس خالی ویران بالی کی طرح ہوتا ہے جس کا سر آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے اور اسکا پھل کم ہوتا ہے، جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک جاہل انسان جس کے پاس کوئ علم کوئ عمل نا ہو لیکن پھر بھی وہ کبھی مال کے تکبر میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے کبھی اپنی صحت، اپنی جسمانی قوت پر متکبرانہ چال اختیار کرتا ہے اور کبھی اپنے تھوڑے بہت علم پر غرور و تکبر کرتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ وہ نعمتیں کبھی بھی اس سے چھن سکتی ہیں!!
ہمیں اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم گیہوں کی اُس بالی کی طرح نا بنیں جو اپنے سر کو تکبر کی وجہ سے آسمان کی طرف بلند کیۓ ہوۓ ہوتی ہے۔
بلکہ ہمیں گیہوں کی اس بالی کی طرح بننا ہے جو اپنے سر کو غلے کے بوجھ کی وجہ سے جھکاے ہوۓ ہوتی ہے، ہمیں اپنے علم اور خشیت الہی کے سبب اپنے سر کو ہمیشہ عاجزی کے ساتھ جھکاے ہوے رکھنا ہے_
کیونکہ وہ تکبر ہی تھا جس نے شیطان کو جنت سے نکلوا کر زمین پر پہنچا دیا،
وہ تکبر ہی تھا جس نے شیطان کو اللہ کے
حکم کا منکر اور اس کا دشمن بنا دیا۔
✍️بنت شہاب💫