علامہ انور شاہ کشمیری 
کی شان محدثانہ 
پر ایک اہم اور دلچسپ مضمون ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانِ علامہ کشمیری (12)
بر صغیر کے تدریسی منہج کا آخری معمار 

حدیث کی تدریس کا قافلہ قدیم الایام سے "استملاء" (شیخ بولیں شاگرد لکھیں) اور "سرد" (شیخ پڑھیں شاگرد سنیں) کے رنگ میں محو سفر رہا، اس کی وجوہات تھیں، وہ ترجمہ وتشریح سے بے نیاز تھے، فقہ کے لیے ان کی مجالس جداگانہ تھیں، حلقہ ہائے حدیث کا نصب العین اجازت، ختم کتاب، تبرک، حفاظت حدیث، نقل، سند وسماع، صحیح ضبط وکتابت، سند ومتن کی تحقیق، تحریری نقل اور راست سماعت جیسے خالص روایتی جلووں میں منحصر تھا، تشریحی نوٹس کی حیثیت ضمنی تھی۔

یہ طریقہ تیسری صدی ہجری سے رائج ہوا، بڑے بڑے محدثین جیسے: امام بخاری، امام مسلم، امام احمد بن حنبل، امام دارمی، امام بیہقی کے دروس میں استملاء کے جلسے ہوا کرتے تھے، روایت ہے کہ امام احمد بن حنبل کی استملائی مجالس میں ہزاروں طلبہ قلم و دوات لیے بیٹھتے، مستملي ان کی آواز سب تک پہنچاتا۔

حضرت شاہ ولی اللہ حجاز سے علم حدیث کا متاعِ گراں مایہ لائے تو ترسیل میں مسئلہ پیدا ہوا، پیچھے وہ سرد دیکھ کر آئے تھے، آگے تشریح درکار تھی، انھوں نے درمیانی راہ اختیار کی، محدثانہ طرز ناگزیر معلوم ہوا؛ مگر درایت ہمارے دیار کی ضرورت تھی، یہاں دو رخی راہ دریافت ہوئی، ایک روز وہ مشکات المصابیح پڑھاتے، دوسرے دن اس کی شرح طیبی ڈیسک پر رہتی اور دیسی ذوق کی تسکین عمل میں آتی، ایک سال اس ہم آہنگی اور تقریبی ریاضت میں گذرتا، مشکات شریف کتب ستہ کو حاوی ہے؛ اس لیے دوسرے سال سردِ روایت غالب رہتا اور کتب ستہ ختم کرائی جاتیں۔

درایت اور فقہ الحدیث کے اس کاروان کو گنگوہ میں قطب عالم حضرت گنگوہی علیہ الرحمہ نے آگے بڑھایا، گنگوہی دور میں اس نئے منہجِ تدریس کے خدوخال نمایاں ہوے، حضرت کی درسی تقریریں: الکوکب الدری اور لامع الدراری وغیرہ اس مرحلے کی یاد گار ہیں، پھر مظاہر علوم میں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے اور دارالعلوم میں حضرت شیخ الہند نے اس سفر کو تیز گام کیا اور درایت کے باغ میں باد بہار دیکھی گئی۔

تاہم درایت، معانی اور فقہ الحدیث کے نو پید رجحان کو پختگی، ثقاہت، کمال، عروج اور ختام المسک عہد تک پہنچانے کے لیے ایک غیر معمولی تبحر، استحضار، وسعت نظر، یادداشت، مصادر کی تسخیر اور مباحث کی دست یابی درکار تھی، دیوبند کی سعادت میں اس اضافے کے لیے رشک علم حضرت علامہ کشمیری کا انتخاب عمل میں آیا اور وہ دارالعلوم کی مسند تدریس پر لنگر انداز ہوے، ان کے دم گرم نے تاریخِ تدریس کا دھارا ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔

علم کا سمندر ان میں موج زن تھا، عجائب العلم وہاں معمول کے ملاقاتی تھے، درس گاہ میں سینہ اور سفینہ یکساں فعال نظر آتے، حافظہ شوخ ہوتا تو سفینوں سے تائید کا کام لیتے، کتاب کھول کر دکھاتے کہ ہمارا دعوی یہاں منتسب ہے، معلوم ہے کہ قابل مصنف ہمہ جہت جلوے بکھیرتا ہے، داد تحقیق دیتے ہوے بہت دور نکل جاتا ہے، یہاں تک کہ سرِ رشتہ چوک جائے، قابل مدرس بھی آزاد ہوتا ہے، کسی بھی فن کی فال نکل آتی ہے، ان کے تلامذہ درس کی کاپی میں سات کالم بنا کر سات مختلف علوم وفنون کے امیدوار ہوتے تھے، اب سوچو انھوں نے تدریس کے بر صغیر ماڈل کو کس بلندی سے متعارف کرایا!

وہ حافظ الدنیا تھے، بعد والوں کے لیے آزمائش چھوڑ گئے، اس کا اعتراف ان کے مسندی جانشین، تاریخ کے عظیم انسان، عجوبۂ روزگار حضرت مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ نے کیا ہے، جام ہمارے لبوں تک پہنچتے پہنچتے کتنے ہی ساقی دیکھ چکا تھا؛ مگر ہر ساقی حضرت علامہ کا گل چیں پایا گیا، ناچیز نے حضرت شیخ فخر الدین علیہ الرحمہ کے دروس بالاستیعاب پڑھے، بالکل زانوئے تلمذ تہہ کیے ہوے ہیں، جیسے فیض الباری کا "ٹیلی پرامپٹر" سامنے ہو، ان کی تصانیف بھی حرف حرف پڑھیں گویا علامہ کے امالی ہوں۔

کسی شخصیت سے شدید تاثر کی علامت یہ ہے کہ کم زور رائے میں بھی موافقت کر جائے، یہ بڑوں میں بھی ہوتا ہے، اہل تحقیق کہتے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہ کے وہ مسائل جن میں کلِ عالم فریق ہے، یا بادئ النظر میں قوی نہیں وہ ابراہیم نخعی سے انتہائی تاثر کا نتیجہ ہیں، ان کے عظیم علم پر گہرے اعتماد نے کشتی میں سوار کر لیا، میں نے شیخ فخر الدین علیہ الرحمہ کو ایسا ہی پایا، وہ تراویح کی تعداد کے باب میں حضرت علامہ کے ایک ضعیف موقف کی تائید کر گئے؛ حتی کہ ہمیں ایضاح البخاری میں توجیہ درکار ہوئی۔

ہماری طالب علمی میں دارالحدیث پر بدستور علامہ کشمیری کی چھاپ تھی، ترمذی اور ابوداؤد جلد اول کے اسباق یادگار تھے، ترمذی نے مذاہب کی بحث چھیڑ کر اپنی کتاب کو فقہ الحدیث کی طرف جھکا دیا ہے، درایتی ذوق کے محدث کی جولانیاں ترمذی میں دیدنی ہوتی ہیں، نشاۃ ثانیہ میں سب سے مقبول شخصیت حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری ہیں، وہ دارالعلوم کی تدریس کے نقیب تھے؛ مگر ان کا "اورا" ترمذی کے دور میں عرش چھو رہا تھا، بخاری کے عہد میں نئی تاریخ رقم ہوتی؛ لیکن ایسا نہیں ہوا، وجہ فرق کتاب ہے، بخاری روایت پر سوار ہیں؛ جب کہ ترمذی فقہ کو بھی برابر لفٹ کراتے ہیں، شاید اسی لیے علامہ کشمیری نے دونوں سبق بحق خود محفوظ رکھے تھے۔