مدارس کے لیے چندہ کرنے والے علماء کرام سے ایک طالب علمانہ درخواست 

!معزز علماء کرام
دینی مدارس اسلام کے وہ مضبوط قلعے ہیں جہاں سے دین کی حفاظت اور اشاعت کا فریضہ انجام پاتا ہے۔ ان مدارس کا نظام چلانا، اساتذہ کی تنخواہیں، طلباء کی کفالت اور دیگر اخراجات کا بندوبست کرنا یقیناً ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ وہ علماء کرام اور مہتمم حضرات جو ان مدارس کی بقا کے لیے "سفیر" بن کر شہر شہر اور گاؤں گاؤں کا سفر کرتے ہیں، ان کی قربانی اور اخلاص کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آپ حضرات اپنا گھر بار چھوڑ کر، موسم کی سختیوں اور سفر کی تھکاوٹ کو برداشت کرتے ہوئے، دین کی خدمت کے لیے جو تگ و دو کرتے ہیں، وہ لائقِ تحسین ہے۔

میں ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے، آپ کی ان قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے، بصد ادب چند ایسی باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو ہمارے اس مقدس مشن کے وقار کو مجروح کر رہی ہیں۔ یہ گزارشات تنقید برائے تنقید نہیں، بلکہ اصلاح برائے تعمیر کے جذبے سے پیش کی جا رہی ہیں۔
چند قابلِ غور پہلو درج ذیل ہیں:

*۱۔ امراء کی خوشامد نہ کریں*
آپ "وارثینِ انبیاء" ہیں۔ آپ کے سینوں میں قرآن اور حدیث کا نور ہے۔ جب ایک عالمِ دین چند سکوں کی خاطر کسی مالدار یا سیٹھ کی حد سے زیادہ خوشامد کرتا ہے، تو اس سے نہ صرف اس عالم کی اپنی وقعت کم ہوتی ہے بلکہ "علمِ دین" کا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔
مالداروں کے سامنے بچھ جانا اور ان کی چاپلوسی کرنا علماء کی شان نہیں۔
دینے والا اللہ ہے، یہ سیٹھ محض ایک ذریعہ ہے۔ ذریعے کو "رازق" کا درجہ نہ دیں۔
*۲۔ عزتِ نفس کا تحفظ*
دین کے کام کے لیے تعاون مانگنا سنت ہے اور یہ کوئی عیب نہیں، لیکن اس کا طریقہ کار باعزت ہونا چاہیے۔ بعض اوقات چندہ کے حصول کے لیے عزتِ نفس کو اس طرح نیلام کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والوں کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
سوال کرتے وقت لہجہ باوقار رکھیں۔ گڑگڑا کر یا اپنی مجبوریوں کا رونا رو کر چندہ لینا ایک مسلمان، بالخصوص ایک عالم کو زیب نہیں دیتا۔
استغناء (بے نیازی) کے ساتھ اپنی ضرورت پیش کریں، اگر کوئی دے تو جزاک اللہ، نہ دے تو اس سے بھی بہتر رویہ رکھیں۔
*۳۔ صداقت اور دیانت (جھوٹ سے پرہیز)*
سب سے تکلیف دہ پہلو وہ ہے جہاں چندے کی خاطر جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رزق میں برکت سچائی میں رکھی ہے، جھوٹ میں نہیں۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ طلباء کی تعداد اگر مدرسے میں ۵۰ ہے تو چندہ بڑھانے کے لیے انہیں ۲۰۰ یا ۳۰۰ بتایا جاتا ہے۔
اسی طرح مدرسے کے اخراجات کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
یاد رکھیں! دینی کاموں کی بنیاد ہی "تقویٰ" اور "سچائی" پر ہے۔ اگر بنیاد میں جھوٹ شامل ہو جائے تو عمارت کبھی بابرکت نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ اتنے ہی وسائل مہیا فرماتا ہے جتنی ضرورت ہوتی ہے، بشرطیکہ توکل کامل ہو۔
*۴۔ طلباء کا تعارف "قابلِ رحم مسکین" نہیں، "امت کا عظیم سرمایہ"*
ایک بہت اہم کوتاہی الفاظ کے انتخاب میں دیکھنے میں آتی ہے۔ اکثر چندہ کرتے وقت یہ جملے دہرائے جاتے ہیں کہ "ہمارے مدرسے کے غریب، مسکین، یتیم، مفلس اور نادار بچوں کا خیال رکھیں۔"
یہ اندازِ تخاطب ان طلباء کی توہین ہے جو اللہ کا کلام اپنے سینوں میں محفوظ کر رہے ہیں۔ خدارا! قوم کے سامنے ان کا تعارف ان کی غربت سے نہیں، بلکہ ان کی عظمت سے کروائیں۔ عوام کو بتائیں کہ
یہ بچے "امت کا عظیم سرمایہ" ہیں جو کل دین کی کشتی کو سنبھالیں گے۔
یہ "مہمانانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم" ہیں، جن کی خدمت سعادتِ دارین ہے۔
یہ "قال اللہ و قال الرسول" کی صدائیں بلند کرنے والے اور دین کے محافظ ہیں۔
جب آپ انہیں قابلِ رحم بنا کر پیش کرتے ہیں تو دینے والا خیرات سمجھ کر دیتا ہے، لیکن جب آپ انہیں "وارثِ دین" بنا کر پیش کریں گے تو دینے والا اسے اپنی خوش نصیبی سمجھ کر خدمت کرے گا۔
*خلاصہ کلام*
میرے واجب الاحترام علماء کرام! آپ کا کام بہت اہم ہے اور آپ کی قربانیاں بہت بڑی ہیں۔ خدارا! چند دنیاوی سکوں کے لیے اپنے اس اونچے مقام کو نیچے نہ آنے دیں۔
عوام کے سامنے اپنی ضروریات سچائی کے ساتھ رکھیں۔
مالداروں کی دہلیز پر علم کی پگڑی نہ جھکائیں۔
جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے بچ کر اللہ کی ذات پر بھروہ کریں۔
طلباء کو مسکین ظاہر کرنے کے بجائے انہیں قوم کے سامنے ایک قابلِ فخر سرمایہ بنا کر پیش کریں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔ (آمین)

اس حوالے سے آپ بھی اپنی کمنٹ قیمتی رائے کا اظہار فرمائیں جزاکم اللہ خیرا 
اگر پوسٹ اچھی لگے تو آگے بھی شیئر کریں جزاکم اللہ خیرا
منقول