"بھائیو! دعوت و تبلیغ کا مقصد یہ ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں جو قیمتی دین دیا ہے، اس کی فکر ہمارے اندر پیدا ہو جائے۔ ہم خود بھی اللہ کے حکموں پر چلیں اور پوری انسانیت کو اللہ سے جوڑنے کی کوشش کریں۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارا مال، جان اور وقت اللہ کے دین کو زندہ کرنے کے لیے استعمال ہو جائے۔"قرآنِ کریم: اللہ پاک کا ارشاد ہے: "كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ" (تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی نفع رسانی) کے لیے نکالی گئی ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو)۔
حدیثِ مبارکہ میں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام لگانا، پوری دنیا اور اس میں جو کچھ ہے (تمام مال و دولت) سے بہتر ہے"۔ (بخاری)۔
"بھائیو! دعوت و تبلیغ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک 'کامیاب تاجر' اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے گھر چھوڑ کر دور دراز کے سفر کرتا ہے۔ اگر وہ گھر بیٹھ جائے تو اس کا کاروبار محدود ہو جائے گا۔
اسی طرح ایمان کا بیج ہمارے دلوں میں تو ہے، لیکن اسے پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے 'نکلنا' ضروری ہے۔ جس طرح ایک 'نہر' کا پانی جب تک چلتا رہتا ہے، صاف رہتا ہے اور زمینوں کو سیراب کرتا ہے، لیکن جب رک جائے تو اس میں گندگی آ جاتی ہے۔ دعوت و تبلیغ وہ عمل ہے جو ہمارے ایمان کی نہر کو جاری رکھتا ہے، جس سے ہم بھی پاک رہتے ہیں اور دوسرے بھی پیاس بجھاتے ہیں۔"
دعوت:۱
"ہمیں لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ یہ کام صرف علماء یا خاص لوگوں کا نہیں، بلکہ ہر کلمہ پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خیر کی بات دوسروں تک پہنچائے۔"
۲. مشق (خروج):
مقامی کام: روزانہ دو سے ڈھائی گھنٹے کا وقت دینا، ہفتے میں دو گشت کرنا۔
باہر نکلنا: ہر مہینے تین دن، سال میں چلہ (40 دن) اور زندگی میں ایک بار چار مہینے اللہ کے راستے میں لگانا تاکہ دین سیکھنے اور پھیلانے کی مشق ہو۔
۳. دعا:
"اے اللہ! ہمیں اپنے دین کی نصرت کے لیے قبول فرما۔ ہمیں اس مبارک کام کے لیے اپنا مال، جان اور وقت لگانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری قربانیوں کو قبول فرما۔"