روزہ اور بے حسی _ اللہ کی محبت یا نفاق کی علامت ؟”
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (88)
رمضان صرف بھوک پیاس کا نام نہیں، یہ ایمان کی حرارت کو جانچنے کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں بندہ اپنے رب کے سامنے عملی اعلان کرتا ہے کہ وہ خواہشات سے بڑا ہے، نفس سے مضبوط ہے، اور اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکانے والا ہے۔یہ مہینہ سزا دینے نہیں آیا، یہ سنوارنے آیا ہے، دل کو جگانے آیا ہے، روح کو زندہ کرنے آیا ہے۔ لیکن آج ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ روزہ فرض ہونے کے باوجود مسلمان کھلے.عام.بازاروں،سڑکوں اور ہوٹلوں میں بلا کسی شرعی عذر کے کھاتے پیتے دکھائی دیتے ہیں. نہ شرم، نہ خوف، نہ احساس. یہ منافق کی علامت ہے. میرے بھائی ایسا نہ کرو…یہ رمضان بار بار لوٹ کر آئے گا، اس کی کوئی گارنٹی نہیں۔کس کو یقین ہے کہ اگلا رمضان ہمیں نصیب ہوگا؟ کس کو خبر ہے کہ اگلا سحر ہم آنکھ کھول سکیں گے؟ کس کومعلوم ہے کہ صحت ہمیشہ ساتھ دے گی؟ اور کس کو پتا ہے کہ یہ ہماری زندگی کا آخری روزہ نہ ہو؟ آج اگر تو کہہ رہا ہے: کل رکھ لوں گا، تو یاد رکھ، کل کی ضمانت کسی کے پاس نہیں۔ قبر میں جا کر کوئی نہیں کہہ سکے گا: یا اللہ! ایک رمضان اور دے دے…وہ مہلت آج ہے، وہ سانس آج ہے، وہ دروازہ آج کھلا ہے۔ کل نہیں معلوم، مگر آج معلوم ہے کہ اللہ تجھے بلا رہا ہے۔ اور سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ روزہ چھوٹ جائے، سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اللہ کا بلاوا ٹھکرا دیا جائے۔ یہ صرف روزہ چھوڑنا نہیں، یہ ایمان کی بے حسی ہے۔ روزہ فرض ہے. اللہ تعالیٰ صاف اعلان فرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ..."
(اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے)
(البقرہ: 183)
یہ آیت بتا رہی ہے کہ روزہ کوئی نفل یا اضافی عبادت نہیں بلکہ فرضِ قطعی ہے۔ جس طرح نماز ایمان کی پہچان ہے، اسی طرح روزہ ایمان کا امتحان ہے۔ پھر فرمایا:"وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ"
اور روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو. (البقرہ: 184)
یعنی روزہ چھوڑ کر فائدہ نہیں، صرف نقصان ہے — دنیا کا بھی، آخرت کا بھی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ بندہ اپنی شہوت، کھانا پینا میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے اور روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملتا ہے اور روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ کے نزدیک مشک عنبر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ (صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7492)
سوچو!... نماز کا بدلہ فرشتے لکھتے ہیں،
زکوٰۃ کا حساب میزان میں ہوگا، مگر روزہ ایسا عمل ہے جس کا اجر اللہ خود اپنے ہاتھ سے دے گا۔ یہ عبادت بندے اور اللہ کے درمیان راز ہے، نہ دکھاوا، نہ شہرت، نہ واہ واہ —صرف تو اور تیرا رب۔روزہ — دل کی شفا اور روح کی ڈھال ہے ہم سب اندر سے زخمی ہیں:کسی کو گناہوں نے زخمی کیا، کسی کو خواہشوں نے، کسی کو مایوسی نے۔ روزہ ان سب کا علاج ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:"روزہ ڈھال ہے"(صحیح بخاری: 1894 (کتاب الصوم) ڈھال تیر سے بچاتی ہے، روزہ جہنم سے بچاتا ہے۔
روزہ دار — جنت کے خاص مہمان ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہتے ہیں، اس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے"(صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1896)
نمازیوں کے لیے الگ دروازہ نہیں، ذکر کرنے والوں کے لیے الگ نہیں،
مگر روزہ داروں کے لیے خاص دروازہ ہے۔جب روزے کی بھوک تھکا دے،جب پیاس حلق کو جلا دے،جب نفس بہانے بنائے،اور جسم کہے اب بس…تو یاد رکھ: اسی لمحے تیرا نام جنت کے ایک خاص دروازے ریّان پر سنہری حروف سے لکھا جا رہا ہے۔روزہ دار کی دعا. ٹوٹے دل کی آواز ہے. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں ہوتی"(سنن ترمذی، 2526) افطار سے پہلے کا لمحہ سیدھا اللہ کے دربار میں داخل ہوتا ہے۔
وہ لمحہ مانگنے کا ہے، رونے کا ہے، گڑگڑانے کا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"جس نے رمضان کا ایک روزہ بلا عذر چھوڑ دیا، وہ اگر پوری زندگی روزے رکھے تب بھی اس کا بدل نہیں ہو سکتا"
(صحیح بخاری، 1935)
یہ صرف گناہ نہیں،
یہ روحانی دیوالیہ پن ہے۔اور ایک اور ہولناک منظر ہے.
نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ الٹے لٹکے ہوئے ہیں، ان کے منہ پھٹے ہوئے ہیں اور خون بہہ رہا ہے۔ فرمایا گیا:
"یہ وہ لوگ ہیں جو رمضان میں روزہ توڑتے تھے"(صحیح ابن حبان، حدیث: 7491)
سوچو!... نماز کا بدلہ فرشتے لکھتے ہیں،
زکوٰۃ کا حساب میزان میں ہوگا، مگر روزہ ایسا عمل ہے جس کا اجر اللہ خود اپنے ہاتھ سے دے گا۔ یہ عبادت بندے اور اللہ کے درمیان راز ہے، نہ دکھاوا، نہ شہرت، نہ واہ واہ —صرف تو اور تیرا رب۔
روزہ — دل کی شفا اور روح کی ڈھال ہے ہم سب اندر سے زخمی ہیں: کسی کو گناہوں نے زخمی کیا، کسی کو خواہشوں نے، کسی کو مایوسی نے۔ روزہ ان سب کا علاج ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"روزہ ڈھال ہے"(صحیح بخاری: 1894 (کتاب الصوم)
ڈھال تیر سے بچاتی ہے، روزہ جہنم سے بچاتا ہے۔ روزہ دار — جنت کے خاص مہمان ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہتے ہیں، اس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے"
(صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1896)
نمازیوں کے لیے الگ دروازہ نہیں، ذکر کرنے والوں کے لیے الگ نہیں، مگر روزہ داروں کے لیے خاص دروازہ ہے۔جب روزے کی بھوک تھکا دے،جب پیاس حلق کو جلا دے،جب نفس بہانے بنائے،اور جسم کہے اب بس…تو یاد رکھ: اسی لمحے تیرا نام جنت کے ایک خاص دروازے ریّان پر سنہری حروف سے لکھا جا رہا ہے۔روزہ دار کی دعا. ٹوٹے دل کی آواز ہے. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں ہوتی"(سنن ترمذی، 2526) افطار سے پہلے کا لمحہ سیدھا اللہ کے دربار میں داخل ہوتا ہے۔ وہ لمحہ مانگنے کا ہے، رونے کا ہے، گڑگڑانے کا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"جس نے رمضان کا ایک روزہ بلا عذر چھوڑ دیا، وہ اگر پوری زندگی روزے رکھے تب بھی اس کا بدل نہیں ہو سکتا"
(صحیح بخاری، 1935)
یہ صرف گناہ نہیں،
یہ روحانی دیوالیہ پن ہے۔اور ایک اور ہولناک منظر ہے.
نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ الٹے لٹکے ہوئے ہیں، ان کے منہ پھٹے ہوئے ہیں اور خون بہہ رہا ہے۔ فرمایا گیا:
"یہ وہ لوگ ہیں جو رمضان میں روزہ توڑتے تھے"(صحیح ابن حبان، حدیث: 7491)
سوچو! یہ افطار نہیں یہ عذاب کی تصویر ہے۔ مسلمان کی بے حسی وہ مسلمان نہیں جو:بغیر عذر روزہ چھوڑےکھلے عام کھائے اور کہے: "دل صاف ہونا چاہیے" یہ ایمان نہیں، یہ نفاق کی نفسیات ہے۔ قرآن کہتا ہے:"إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ"
منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے. (النساء: 145)
جو شخص اللہ کے فرض کو معمولی سمجھے، وہ خود اپنے ایمان کو مشکوک بنا رہا ہے۔ روزہ صرف بھوک نہیں._تربیت ہے. روزہ:
خواہشات کا قتل ہے نفس کا محاسبہ ہے شیطان پر ضرب ہے ایمان کا عملی امتحان ہے. نبی ﷺ نے فرمایا:
"جسے جھوٹ چھوڑنا نہیں آیا، اللہ کو اس کے بھوکے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں"(صحيح البخاري/كتاب الصوم/1903]
یعنی روزہ صرف پیٹ کا نہیں، اخلاق کا بھی روزہ ہے۔
لہذا : اے تھکے ہوئے دل!
اے گناہوں سے شرمندہ روح! - اے اللہ سے دور ہوتے ہوئے بندے!واپس آ جا… اللہ تجھے بھوکا نہیں دیکھنا چاہتا،
وہ تجھے آزاد دیکھنا چاہتا ہے —گناہوں کی قید سے، خواہشوں کی غلامی سے، اور جہنم کی آگ سے۔ وہ تجھے ریّان کے دروازے پر مسکراتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ تجھے فرشتوں کی صفوں میں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تیرے بارے میں کہا جائے: "یا رب! یہ وہ بندہ ہے جو بھوک میں بھی تجھے یاد کرتا رہا۔" اور جو اس بلاوے پر لبیک نہ کہے، جو روزے کے راستے پر قدم نہ رکھے، وہ دراصل اپنے رب کی طرف آنے سے رک جاتا ہے۔ وہ اپنے دل کے دروازے خود بند کر لیتا ہے۔ وہ نجات کی راہ میں خود اپنے قدموں سے دیوار کھڑی کر لیتا ہے۔ مگر خوش نصیبی یہ ہے کہ دروازہ اب بھی کھلا ہے، آواز اب بھی آ رہی ہے: "میرے بندے! واپس آ جا… میں اب بھی تیرا منتظر ہوں۔" "روزہ اللہ کی طرف واپسی کا راستہ ہے، اور ریّان اس راستے کا آخریدروازہ ہے. جو روزہ رکھ کر آگے بڑھتا ہے وہ جنت کی طرف بڑھتا ہے، اور جو روزہ چھوڑ کر رک جاتا ہے وہ دراصل اپنی نجات سے رک جاتا ہے۔"
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com