"الحمد للہ رب العالمین۔ میرے واجب الاحترام بھائیو! اللہ پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ‘
یعنی تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے نفع کے لیے نکالی گئی ہو، تمہارا کام نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔
بھائیو! ہم اسی عظیم مقصد کی یاد دہانی کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام لگانا، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سب سے بہتر ہے‘۔
ذرا غور کریں! ہم چند دنوں کے لیے سہارنپور (جگہ کا نام لیں) سے یہاں آئے ہیں، اگر اللہ ہماری ایک شام بھی قبول فرما لے تو ہماری پوری زندگی کی کمائی سے بڑھ کر ہے۔ اور حضرات صحابہ کرامؓ نے اپنا گھر بار، کاروبار اور وطن کیوں چھوڑا؟ صرف اس لیے کہ اللہ کا دین ہم تک اور آپ تک پہنچ جائے۔
جب حضرت ربعی بن عامرؓ ایران کے بادشاہ رستم کے دربار میں گئے، تو رستم نے پوچھا: ’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘
انہوں نے کتنا پیارا جواب دیا: ’اللہ نے ہمیں بھیجا ہے تاکہ ہم انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لے آئیں‘۔
بھائیو! ہم بھی اسی فکر کو لے کر نکلے ہیں کہ ہماری اور آپ کی زندگیوں میں اللہ کی غلامی آ
جائے۔"
"ہماری یہ جماعت یوپی کے شہر سہارنپور سے آئی ہے۔ سہارنپور سے یہاں تک کا یہ لمبا سفر صرف اس لیے ہے کہ ہم اور آپ مل کر یہ فکر کریں کہ ہماری مسجدیں کیسے آباد ہوں گی؟ ہمارے بچوں کے سینوں میں ایمان کیسے محفوظ رہے گا؟"
5. مقصد اور دعوت
"صحابہ کرامؓ کی محنت کی وجہ سے آج ہم کلمہ پڑھ رہے ہیں۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس محنت کو آگے بڑھائیں۔ ہم یہاں (3 دن/چلہ) کے لیے ٹھہرے ہیں۔ ہم آپ کے گھروں پر بھی حاضر ہوں گے اور مسجد میں ایمان کی باتیں بھی ہوں گی۔ آپ سے گزارش ہے کہ ان مبارک حلقوں میں ضرور شرکت فرمائیں تاکہ کل قیامت کے دن ہم کہہ سکیں کہ اے اللہ! ہم نے
تیرے دین کے لیے تھوڑی سی کوشش کی تھی۔"
مقامی لوگوں سے)ساتھ دیں گے بھائی)
اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے