تحریر محمد مسعود رحمانی ارریاوی
کبھی کبھی زندگی کی دوڑ میں ہم اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کی مہلت ہی نہیں ملتی۔ لیکن آج، برسوں بعد جب فون کی اسکرین پر "پھوپھی" کا نام جگمگایا اور دوسری طرف سے وہ جانی پہچانی لرزتی ہوئی آواز ابھری، تو لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ وہ آواز نہیں تھی، بلکہ میرے بچپن کے گھر کے کچے آنگن کی مہک تھی، جو برسوں کی گرد جھاڑ کر میرے کمرے میں پھیل گئی۔
رشتوں کا لمس
پھوپھی کا رشتہ بھی کتنا عجیب ہوتا ہے! اس میں باپ کی سختی نہیں ہوتی بلکہ باپ جیسی شفقت ہوتی ہے، اور ماں جیسی ممتا کا ایک الگ ہی رنگ ہوتا ہے۔ آج جب انہوں نے دھیمے لہجے میں پوچھا، "بیٹا! کیسے ہو؟" تو سچ مچ کلیجہ منہ کو آگیا۔ اس ایک جملے نے وہ سارے بند توڑ دیے جو میں نے "بڑا آدمی" بننے کی کوشش میں اپنے گرد باندھ رکھے تھے۔
یادوں کا جھونکا
باتیں تو معمولی تھیں—خیریت دریافت کرنا، گاؤں کے حالات، اور گھر والوں کا تذکرہ—لیکن ان لفظوں کے پیچھے چھپا وہ درد محسوس ہو رہا تھا جو طویل خاموشی کا نتیجہ تھا۔ مجھے یاد آیا وہ وقت جب عیدوں پر ان کے گھر جانا ایک میلے سے کم نہ ہوتا تھا، ان کے ہاجتھ کی بنی سویاں اور وہ دعائیں جو ہمیشہ سر پر سائے کی طرح رہتی تھیں۔ آج ان کی آواز میں وہ تھکن تھی جو زندگی کے تھپیڑوں اور اپنوں کی دوری سے پیدا ہوتی ہے۔
ندامت کا آنسو
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مصروف ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہم ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کی دعاؤں کے سہارے ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔ آج ان سے بات کر کے احساس ہوا کہ وہ ہم سے کچھ مانگتی نہیں ہیں، بس چند لمحوں کی توجہ اور دو بول محبت کے ان کے لیے پوری کائنات ہوتے ہیں۔ میری آنکھوں سے گرنے والا وہ آنسو صرف دکھ کا نہیں تھا، بلکہ اس ندامت کا بھی تھا کہ میں نے اتنی دیر کیوں کر دی؟
"رشتوں کو وقت دیجیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جب آپ کے پاس وقت ہو تو وہ رشتے صرف یادوں کی تصویروں میں باقی رہ جائیں۔"
حاصلِ سبق: رشتوں کی مہلت
ہماری مصروفیت محض ایک بہانہ ہے، اصل سچائی یہ ہے کہ ہم ان رشتوں کو فراموش کر رہے ہیں جن کی دعاؤں نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا۔
وقت کی قدر: بزرگوں کے پاس وقت کم ہے اور ہماری مصروفیات ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ ان کے رخصت ہونے سے پہلے ان کی قربت حاصل کر لیں۔
محبت کا لمس: ایک فون کال یا چند منٹ کی گفتگو ان کے لیے زندگی بھر کا سرمایہ ہوتی ہے۔ انہیں پیسوں سے زیادہ آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔
پچھتاوے سے بچیں: اجنبیوں کو وقت دینے سے بہتر ہے کہ ان رشتوں کو وقت دیں جو آپ کے اپنے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب آپ کے پاس وقت ہو، تو وہ ہستیاں صرف یادوں میں باقی رہ جائیں۔
خلاصہ: "رشتوں کو مرنے نہ دیں، اس سے پہلے کہ وہ مٹی تلے جا سوئیں، انہیں اپنی محبت کی تپش سے زندہ رکھیں۔"