گناہ کی پہلی سیڑھی اپنی غلطیوں کی تاویلیں ڈھونڈنا ہے۔

انسان کیلئے سب سے مشکل کام اگر کوئی ہے تو وہ ہے خود کی غلطی تسلیم کرنا، انسان کو اللہ نے شعور دیا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے بیچ پہچان کر سکے مگر جب خود غلطی کرتا ہے تو وہ دوسروں سے پہلے خود کو مطمئن کرنے کیلئے ہزاروں بہانے تلاش کرنے لگتا ہے، وہ خود کو سمجھانے لگتا ہے کہ میں نے جان بوجھ کر تو نہیں کیا، میری نیت تو بری نہیں تھی، بس یہی پہلی بار ہے اس کے بعد آئندہ نہیں کرونگا وغیرہ وغیرہ۔
مگر یاد رکھیں یہ چھوٹی چھوٹی لغزش ہی آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے، گناہ ایکدم سے بڑا ہوکر ہمارے سامنے نہیں آتا بلکہ رفتہ رفتہ ہماری سوچوں پر حاوی ہوتا ہے،
انسان تاویلیں عموماً اسی وقت تلاش کرتا ہے جب اس کا دل کسی خواہش کی طرف مائل ہونا شروع ہوتا ہے اور ضمیر اس کو روک رہا ہوتا ہے، وہ یہ ماننے کے بجاۓ کہ جو میں کرنے جا رہا ہوں وہ غلط ہے، ایسے بہانے اور جملے تلاش کرتا ہے جو اسے وقتی سکون اور مطمئن کر دے، اور یہی وہ اصل وقت ہے جب انسان کا ایمان کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے اور نفسانی خواہشات یہاں بازی لے جاتی ہے۔
مثال کے طور پر جب کوئی انسان جھوٹ بولتا ہے وہ یہ جانتا ہے کہ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے لیکن وہ اس وقتی حالات کو اللہ کی آزمائش سمجھنے کے بجاۓ یہ سوچنے لگتا ہے کہ میں نے تو بس حالات کو سنبھالنے کیلئے جھوٹ بولا تھا، میں نے اپنے بھلے کیلئے تو نہیں بولا، سامنے والے کو خوش کرنے کیلئے ہی بولا ہے اور دوسروں کو خوش رکھنا بھی تو اسلام کی پہچان ہے، اگر ابھی سچ بول دیتا تو معاملہ بگڑ جاتا، بس یہی آخری بار بولا ہے اب آئندہ سے تھوڑی بولونگا۔
اس طرح وہ اپنے دل کو مطمئن کرنے کیلئے تاویلیں تلاش کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ خود جانتا ہے کہ جو میں نے کیا وہ درست بالکل بھی نہیں تھا، جب ہم غلطی کو غلط ماننے کے بجاۓ اس کی تاویلیں ڈھونڈتےلگ جاتے ہیں تو گناہ آسان لگنے لگتا ہے۔
اللہ کے نزدیک اصل برائی غلطی کرنا نہیں بلکہ اپنی غلطیوں پر ڈھٹائی سے اڑے رہنا ہے، جو شخص غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے وہ برباد ہو گیا اور جس نے اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا وہ اللہ کے نزدیک قابلِ معافی ٹھہرا، غلطیاں تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔
آئیں
!ہم سب تاویلیں ڈھونڈنے کے بجاۓ اپنے دل کا محاسبہ کریں، اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور سچائی کو قبول کریں، چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو چھوڑ کر بڑے بڑے گناہوں سے خود کو بچا لیں، اللہ سے معافی مانگیں اور عہد کریں کہ آئندہ سے ایسا نہیں ہوگا، اگر ہم اپنی غلطیوں کو چھپانے کے بجاۓ اسے تسلیم کرنے کی عادت ڈال لیں تو یہی رویہ ہمیں برائی سے بچا سکتا ہے۔