روزہ 

 
 صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب (سورج غروب ہونے) تک عبادت کی نیت سے کھانے پینے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے بچنے کو شریعت میں روزہ کہتے ہیں ۔ 
 فرض روزہ صرف رمضان کا ہے بقیہ تمام روزے واجب، مسنون، مستحب اور نفل کے ہیں ۔ 
رمضان کا روزہ ہر عاقل، بالغ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔
لڑکا اور لڑکی جب تک بالغ نہ ہوۓ ہوں تو ان پر روزہ فرض نہیں ہے، اگر روزہ رکھیں تو جائز ہے، اور اجر و ثواب کا باعث ہے۔ اگر نابالغ بچے روزہ رکھنا شروع کریں پھر توڑ دیں تو ان پر قضا ضروری نہیں ہے۔ اگر نابالغ لڑکا اور لڑکی صبح صادق سے پہلے بالغ ہو جائیں تو ان کے ذمے اس دن کا روزہ رکھنا فرض ہے۔ روزہ رکھنے کے لئے حیض روکنے والی دوا کھانا جائز تو ہے مگر طبی لحاظ سے نقصان دہ ہے اس لیے پرہیز کرنا چاہیے۔


روزہ کی نیت 

روزہ کے صحیح ہونے کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے؛ بغیر نیت کے روزہ نہیں ہوتا ہے۔  
رمضان کے روزے کی نیت رات سے بھی درست ہے، سحری کے وقت یعنی صبح صادق سے پہلے بھی درست ہے۔ اگر کوئی شخص رات میں یا صبح صادق سے پہلے سویا رہنے کی وجہ سے یا کسی دوسری وجہ سے نیت نہیں کر سکا تو وہ نصف النہار شرعی تک روزہ کی نیت کر سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص نصف النہار شرعی تک روزہ کی نیت نہیں کر سکا تو اب اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس کے ذمہ اس روزہ کی قضا ضروری ہے۔
 نوٹ! صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک جتنا وقت ہوتا ہے اس کے آدھے وقت کو نصف النہار شرعی کہتے ہیں۔
نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے نیت کے الفاظ کی ادائیگی درست ہے؛ مگر ضروری نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص دل میں ہی نیت کر لیتا ہے اور زبان سے الفاظ ادا نہیں کرتا ہے تو یہ بھی جائز ہے۔

  سحری


  سحری کرنا سنت اور باعثِ برکت ہے۔سحری کا وقت رات ہے، جب تک رات ہے سحری کرسکتے ہیں ۔ رات ختم ہوتے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ رات صبح صادق تک ہوتی ہے؛ جیسے ہی صبح صادق ہوتی ہے سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ فجر کی اذان تک کھاتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فجر کی اذان تک کھا پی سکتے ہیں؛ تو یہ جائز نہیں ہے، ایسے لوگوں کا روزہ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ فجر کی اذان صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد ہوتی ہے اور سحری کا آخری وقت طلوع صبح صادق ہے۔ 

 مفسدات صوم


جان بوجھ کر کھانے یا پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا کے ساتھ کفارہ لازم ہوتا ہے۔ بیوی سے ہمبستری کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔ روزہ کی حالت میں عورت کو حیض یا نفاس آ جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرتے ہوئے انزال ہو جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور صرف قضا ضروری ہے، کفارہ نہیں۔ سگریٹ نوشی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ نسوار لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ میں انہیلر (Inhaler) کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ کی حالت میں منع حمل کے لئے عورت کی شرمگاہ میں لوپ(Loop) داخل کیا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ مرض کی تشخیص یا وضع حمل کی مدت کا اندازہ لگانے کے لئے ڈاکٹر کسی عورت کی شرمگاہ میں تر ہاتھ ڈالے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔روزے کی حالت میں بیڑی، سگریٹ اور حقہ کا استعمال روزہ کو توڑ دیتا ہے۔ روزہ میں کان اور ناک کے اندر دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ کی حالت میں دھواں بالقصد منہ میں داخل کیا تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ کی حالت میں اپنے اختیار سے منہ بھر کر الٹی کرے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، منہ بھر کر الٹی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے روکنے یا واپس نگلنے میں دشواری ہو۔ روزہ کی حالت میں ایسی چیز جو عموماً عادتاً نہیں کھا جاتی ہے مثلاً مٹی وغیرہ کھالے یا نگل لے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ کی حالت میں جان بوجھ کر دھواں یا دھول حلق میں اتارے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ میں اگر محبوب کا تھوک نگل لے تو روزہ ٹوٹ جائے گا قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے اور اگر کسی دوسرے کا تھوک نگل لے تو روزہ فاسد ہوگا صرف قضا لازم ہوگی۔


 جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے

روزہ دار بھول سے کچھ کھا پی لے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اسی طرح بھول سے جماع کر لے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔ بیماری کی تشخیص کرنے یا مدت وضع حمل کا اندازہ کرنے کے لئے ڈاکٹر عورت کی شرمگاہ میں خشک ہاتھ ڈالے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ تیل لگانے اور خوشبو سونگھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے اسی طرح سرمہ لگانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا ہے چاہے اس کا اثر ناک کی ریزش یا منہ کے لعاب میں ظاہر ہو۔ میاں بیوی کے ساتھ میں سونے اور بوسہ وغیرہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے البتہ اگر صحبت کا ڈر ہو تو مکروہ ہے۔ روزہ میں تھوک نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔ رات میں غسل کی ضرورت تھی مگر غسل نہیں کیا؛ ایسے ہی رہ گیا تو روزہ ہو جائے گا۔ بلا قصد قے ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے ۔ روزہ میں کوئی چیز چکھ کر تھوک دے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔ روزہ کی حالت میں دھواں یا دھول حلق میں بغیر ارادہ کے اتر جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔ روزہ کی حالت میں مسواک کرنا چاہیے چاہے تازہ ہو یا خشک البتہ اگر تھوتھ پیسٹ اور منجن سے دانت صاف کرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا مگر مکروہ ہے، البتہ اس کے ذرات حلق میں اتر جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ روزہ کی حالت میں خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔ روزہ کی حالت میں ضرورت کے تحت خون چڑھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔ روزہ کی حالت میں ڈالیسیز (Dialysis) اور انجیو گرافی (Angiography) سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔ روزہ کی حالت میں خون ٹیسٹ سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔‌ گلوکوز چڑھوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔

  قضا اور کفارہ
 
روزہ ہر عاقل، بالغ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، اگر کسی وجہ سے روزہ نہ رکھا یا توڑ دیا تو اس روزے کی قضا لازم ہوگی۔ البتہ روزہ توڑ دینے کی بعض صورت ایسی ہے کہ قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔ نیچے کفارہ لازم ہونے کے شرائط ملاحظہ کریں ۔
(1)روزہ توڑنے والا عاقل بالغ ہو، بچہ روزہ توڑ دے تو نہ قضا ضروری ہے اور نہ کفارہ۔ (2) جو روزہ توڑا ہے وہ ماہ رمضان کا ادا روزہ ہو، اگر رمضان کے علاوہ دیگر دنوں کے نفلی روزے ہوں، یا رمضان کے قضا روزے ہوں تو کفارہ ضروری نہیں ہوگا۔ (3) جان بوجھ کر توڑا ہو، اگر غلطی سے روزہ ٹوٹ جائے یا بھول کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے تو کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ (4) اگر جنسی خواہش کی وجہ سے روزہ ٹوٹا ہے تو ضروری ہے کہ ہمبستری کی گئی ہو، اگر صرف بوس و کنار سے انزال ہو جائے یا مشت زنی سے انزال ہو جائے تو کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ (5) اگر کھانے پینے سے روزہ توڑا ہے تو ضروری ہے کہ ایسی چیز کھانے جو غذا، دوا، لذت یا طبعی رغبت کے طور پر استعمال کی جاتی ہو، اگر کوئی مٹی کھا لے تو کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ (6) روزہ اپنی رضا سے توڑا ہو، اگر کسی کے جان سے مار دینے کی دھمکی یا عضو تلف کرنے دینے کی دھمکی کی وجہ توڑا تو کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ (7) روزہ بغیر عذر کے توڑے، اگر کسی نے شدید عذر کی وجہ سے روزہ توڑا تو کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
ایک ہی رمضان میں متعدد روزے کھانے پینے سے یا جماع سے توڑے دے تو ایک ہی کفارہ کافی ہوگا۔‌ اور اگر الگ الگ رمضان کے متعدد روزے کھانے پینے سے توڑ دے تو ایک ہی کفارہ کافی ہوگا مگر الگ الگ رمضان میں جماع سے متعدد روزہ توڑ دے تو ہر رمضان کا الگ الگ کفارہ لازم ہوگا۔

کئی روزے قضا ہو جائیں تو سب کی قضا ایک ساتھ جائز ہے اور وقفے وقفے سے بھی درست ہے۔
روزے کا کفارہ یہ ہے کہ دو مہینے مسلسل روزے رکھے، اگر درمیان میں ایک روزہ بھی چھوٹ گیا تو دوبارہ سے شروع کرنا ہوگا۔ اگر اسلامی مہینہ کی پہلی تاریخ سے روزہ رکھنا شروع کیا تو اسلامی مہینے کے حساب سے دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے؛ خواہ مہینہ 29 کا ہو یا 30 کا۔ اور اگر مہینہ کے درمیان سے روزہ شروع کرے تو ساٹھ دن پورے کرنا ضروری ہے۔ کفارہ کی ادائیگی کے درمیان عورت کو نفاس آ جائے تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ پھر نئے سرے سے شروع کرنا ہوگا۔ اور اگر کفارہ کی ادائیگی کے درمیان حیض آ گیا تو کفارہ میں نقص نہیں ہوگا لیکن پاک ہونے کے بعد فوراً روزہ شروع کر دے۔
 مسلسل ساٹھ روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے۔

 درج بالا مسائل ذیل کی کتابوں سے ماخوذ ہیں ۔
تحفہ ماہ رمضان المبارک ( مفتی مبین الرحمن صاحب، پاکستان )
ماہ رمضان کے فضائل و احکام ( مفتی محمد رضوان، پاکستان)
مسائل روزہ ( مولانا محمد رفعت صاحب قاسمی استاد دار العلوم دیوبند)