*نئے نمازیوں کا احترام*
از قلم: *مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی*
توپران ضلع میدک تلنگانہ
رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے دلوں کو نرم فرماتا ہے، انہیں اپنی طرف متوجہ ہونے کی توفیق دیتا ہے اور بہت سے غافل لوگوں کو بھی نماز اور عبادت کی طرف لوٹا دیتا ہے۔ ایسے موقع پر کسی شخص کا مسجد کی طرف آنا، صفوں میں کھڑا ہونا اور سجدے میں جھک جانا محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ اس کے دل کے اندر پیدا ہونے والی ایک روحانی بیداری کی علامت ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس بیداری کا احترام کریں، نہ کہ اس کا تمسخر کریں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات:11)۔
اس آیت میں تمسخر، عیب جوئی اور برے القاب سے پکارنے کی ممانعت کے ساتھ یہ حقیقت بھی بیان کر دی گئی کہ ممکن ہے جسے تم معمولی سمجھ رہے ہو وہ اللہ کے نزدیک تم سے بہتر ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تکبر، بدگمانی اور دل آزاری سب جمع ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص رمضان میں نماز شروع کرتا ہے اور ہم اسے “رمضان کا نمازی” کہہ کر پکارتے ہیں تو بظاہر ایک جملہ کہتے ہیں، مگر درحقیقت ہم اس کے دل کو زخمی کرتے ہیں، اس کی نیت پر شک کرتے ہیں اور اپنے اندر پوشیدہ تکبر کو ظاہر کرتے ہیں۔
*مقام مسجد*
مسجد محض اینٹوں اور پتھروں کی ایک عمارت کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے والا مرکز، روحوں کو سکون دینے والا مقام اور امت کو ایک لڑی میں پرو دینے والا مقدس ادارہ ہے۔ جب ایک مسلمان مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہوتا ہے تو وہ دنیاوی فرق و امتیاز کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ وہاں نہ کوئی امیر رہتا ہے نہ غریب، نہ کوئی بڑا نہ چھوٹا، بلکہ سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک ہی رب کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ یہی منظر اسلام کی اصل روح کو ظاہر کرتا ہے۔ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا اس بات کی عملی تعلیم ہے کہ اخوت، مساوات اور محبت ہماری بنیاد ہیں۔ اگر مسجد کے اندر دلوں میں نفرت، زبانوں میں طنز اور نگاہوں میں تحقیر ہو تو گویا ہم مسجد کی روح کو مجروح کر دیتے ہیں۔ مسجد وہ جگہ ہے جہاں دلوں کی دراڑیں بھرنی چاہییں، نہ کہ نئی دراڑیں پیدا ہونی چاہییں۔
مسجد کا ماحول شفقت، نرمی اور خیرخواہی سے لبریز ہونا چاہیے۔ جب کوئی نیا شخص، کوئی نوجوان یا کوئی عرصے بعد آنے والا نمازی مسجد میں قدم رکھتا ہے تو اس کے دل میں جھجک بھی ہوتی ہے اور امید بھی۔ اگر اسے سلام میں محبت ملے، چہرے پر مسکراہٹ ملے اور انداز میں اپنائیت ہو تو اس کا دل مضبوط ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اسے طنزیہ جملہ یا بے توجہی ملے تو وہ دل برداشتہ ہو سکتا ہے۔ مسجد ایسا مقام ہونا چاہیے جہاں ہر آنے والا یہ محسوس کرے کہ وہ اپنے گھر آیا ہے، یہاں اس کی عزت محفوظ ہے اور اس کی کوشش قابلِ قدر ہے۔ محبت کا ماحول خود بخود لوگوں کو دین کے قریب لے آتا ہے، کیونکہ سختی وقتی خاموشی پیدا کرتی ہے جبکہ محبت مستقل تبدیلی لاتی ہے۔
مسجد تربیت گاہ بھی ہے اور روحانی شفاخانہ بھی۔ یہاں قرآن کی تلاوت سے دلوں کی صفائی ہوتی ہے، ذکر سے روح کو سکون ملتا ہے اور سجدوں سے تکبر ٹوٹتا ہے۔ جب انسان ایک ہی جگہ پر بار بار جھکتا ہے جہاں اس کے بھائی بھی جھک رہے ہیں تو اس کے اندر اخوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ مسجد میں اگر ہم ایک دوسرے کے حالات پوچھیں، مشکلات سنیں اور دعا کریں تو یہ عمل دلوں کو قریب کر دیتا ہے۔ محبت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ طرزِ عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ کسی کمزور کو سہارا دینا، کسی نئے نمازی کو جگہ دینا، کسی پریشان شخص کی دلجوئی کرنا — یہی وہ اعمال ہیں جو مسجد کو حقیقی معنوں میں محبت کا مرکز بناتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسجد ہمیشہ سماجی ہم آہنگی کا محور رہی ہے۔ یہیں تعلیم دی گئی، یہیں فیصلے ہوئے، یہیں غم بانٹے گئے اور یہیں خوشیاں منائی گئیں۔ مسجد میں بیٹھنے والا ہر شخص ایک دوسرے کے لیے دعاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی کے دل میں کسی کے لیے ناراضی ہو تو ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا اس ناراضی کو کم کر دیتا ہے۔ یہی محبت کا عملی مظاہرہ ہے۔ ہمیں اس فضا کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر ہم مسجد کو گروہ بندی، برتری اور انا سے پاک رکھیں گے تو یہ رحمت کا سرچشمہ بن جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے اسے دنیاوی مقابلہ آرائی اور تنقید کا میدان بنا دیا تو ہم اس کی اصل برکت سے محروم ہو جائیں گے۔
*نمازیوں کے ساتھ حسن ظن*
عام طور پر ہم بدگمانی کر بیٹھتے ہیں کہ اس رمضان میں نماز پڑھتا ہے ہو سکتا ہے وہ اپنی مصروفیات کی اعتبار سے جہاں وقت ملے وہاں نماز پڑھتا ہو اور رمضان میں مستقل مسجد آرہا ہو ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے
قرآن نے بدگمانی سے سخت منع فرمایا: اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (الحجرات:12)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث (صحیح بخاری، حدیث6064؛ صحیح مسلم، حدیث2563)۔ یعنی بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ جب ہم کسی نمازی کی نیت پر حملہ کرتے ہیں تو یہ صرف زبان کا گناہ نہیں بلکہ دل کا فساد ہے۔ دل کی یہی خرابی تمسخر کو جنم دیتی ہے، اور یہی خرابی روحانیت کو ختم کرتی ہے۔
دل آزاری کی قباحت اس سے بھی زیادہ شدید ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يحقره (صحیح مسلم، حدیث2564)۔ یعنی مسلمان اپنے بھائی کو حقیر نہیں سمجھتا۔ اور ایک دوسری روایت میں فرمایا: إن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالاً يهوي بها في جهنم (صحیح بخاری،7 حدیث6478)۔ بندہ ایک ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جس کی پروا نہیں کرتا مگر وہ اسے جہنم میں گرا دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ طنزیہ جملہ محض ہنسی مذاق نہیں بلکہ آخرت کا معاملہ ہے۔
اسی مقام پر اجر و ثواب اور گناہ و وبال دونوں کا پہلو بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص رمضان میں نماز شروع کرے اور ہم اس کی حوصلہ افزائی کریں، اسے استقامت کی دعا دیں اور اس کا سہارا بنیں تو نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ہمیں بھی اجر مل سکتا ہے: من دل على خير فله مثل أجر فاعله (صحیح مسلم، حدیث1893)۔ یعنی جو کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے اسے بھی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس کا مذاق اڑائیں اور وہ دل برداشتہ ہو کر پیچھے ہٹ جائے تو ہمیں اس کے دل توڑنے اور نیکی سے روکنے کا وبال بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
یہ سب باتیں دراصل ایک ہی اصل کی مختلف صورتیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ تکبر انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الكبر بطر الحق وغمط الناس (صحیح مسلم، حدیث91) یعنی تکبر حق کو ٹھکرانا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔ جب انسان خود کو پرانا نمازی سمجھ کر نئے نمازی کو کمتر سمجھتا ہے تو وہ اسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جس نے ابلیس کو ہلاک کیا۔ علاج اس کا تواضع ہے، اور یہ یقین کہ استقامت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك (سنن ترمذی، حدیث2140)۔
نماز کی عظمت خود قرآن نے بیان فرمائی: إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (العنکبوت:45) اور قیامت کے دن سب سے پہلے اسی کا حساب ہوگا (سنن ابی داؤد، حدیث864)۔ لہٰذا جو شخص رمضان میں نماز کا آغاز کرے وہ دراصل برائی سے بچنے اور اپنی آخرت سنوارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی اس کوشش کو تقویت دینا تقویٰ ہے، اور اس کا مذاق اڑانا فسق کے قریب لے جانے والا عمل ہے۔
ہر نمازی نئے آنے والے مصلیوں کا احترام کریں اور ان کو محبت سے قریب کریں اور ان کے دل میں مسجد کی محبت بٹھائیں جب مسجد محبت اور احترام کا مرکز بن جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف اس کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں پھیل جاتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کی عبادت کا احترام کرتے ہوں وہاں حسد اور بدگمانی کم ہو جاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں، مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اخلاقی قدریں مضبوط ہو جاتی ہیں۔ نوجوان دین سے قریب رہتے ہیں کیونکہ انہیں عزت اور رہنمائی ملتی ہے۔ بزرگ باوقار محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے تجربات کی قدر کی جاتی ہے۔ بچے اپنے بڑوں کو محبت اور اتحاد کے ساتھ دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں بھی دین کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح مسجد کا نرم اور محبت بھرا ماحول گھروں تک منتقل ہوتا ہے؛ باپ بیٹے سے نرمی سے پیش آتا ہے، پڑوسی پڑوسی کا خیال رکھتا ہے اور اختلافات بات چیت سے حل ہونے لگتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر مسجد میں تحقیر، طنز اور سرد مہری کا ماحول ہو تو یہی رویہ معاشرے میں سرایت کر جاتا ہے۔ دلوں کی دوریاں بڑھتی ہیں، چھوٹے اختلاف بڑے جھگڑوں میں بدل جاتے ہیں اور دین لوگوں کو سخت محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس لیے مسجد کی فضا دراصل پورے معاشرے کے مزاج کو تشکیل دیتی ہے۔ اگرk مسجد میں محبت ہوگی تو معاشرہ محبت سیکھے گا؛ اگر مسجد میں احترام ہوگا تو معاشرہ احترام اپنائے گا؛ اور اگر مسجد میں خیرخواہی ہوگی تو معاشرہ بھی خیرخواہی کا گہوارہ بن جائے گا۔
لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مسجد کو محبت، تواضع اور اخوت کا مرکز بنائیں۔ ہم اپنے رویوں سے ایسا ماحول قائم کریں جہاں ہر آنے والا سکون، عزت اور اپنائیت محسوس کرے۔ جب مسجد دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن جائے گی تو یقیناً ہمارا معاشرہ بھی اتحاد، رحمت اور بھلائی کی روشن مثال بن جائے
پس تمسخر، بدگمانی، دل آزاری، اجر و وبال اور تکبر—یہ سب الگ الگ موضوعات نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اگر ہم محبت اختیار کریں تو دل جڑیں گے، اجر بڑھے گا اور معاشرہ مضبوط ہوگا۔ اگر ہم تمسخر اختیار کریں تو دل ٹوٹیں گے، گناہ بڑھے گا اور ایمان کمزور ہوگا۔
لہٰذا رمضان میں مصلیوں کا احترام کرنا، ان کے لیے دعا کرنا اور ان کی استقامت کی کوشش کرنا ہی ایمان، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کا تقاضا ہے۔
اَللّٰهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا وَطَهِّرْهَا مِنَ الْكِبْرِ وَالسُّخْرِيَّةِ وَاجْعَلْنَا سَبَبًا لِلْهُدَى وَلَا تَجْعَلْنَا سَبَبًا لِلضَّلَالَةِ وَثَبِّتْنَا عَلَى الصَّلَاةِ دَائِمًا أَبَدًا آمین یا رب العالمین۔