کوئی ہمیں واپس آنے کو کہے، تو یہ اُس کی خوبصورتی ہے…
زندگی کے سفر میں کبھی انا درمیان آ جاتی ہے اور کبھی غلط فہمیاں فاصلے بڑھا دیتی ہیں۔ بسا اوقات ہم خاموشی کو ہی حل سمجھ لیتے ہیں
 اور فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ مگر انہی فاصلات کے بعد اگر کوئی ادارہ، کوئی پلیٹ فارم یا کوئی اپنا ہمیں محبت سے یہ کہے کہ
“واپس آ جاؤ” —
 تو یہ صرف ایک دعوت نہیں ہوتی، یہ اعتماد کی تجدید اور تعلق کی بحالی کا اعلان ہوتا ہے۔
 SADA e Qalam
 ایپ کی جانب سےمجھے دوبارہ مضمون لکھنے کی دعوت ملی تو یہ میرے لیے محض ایک نوٹیفکیشن نہیں تھا، بلکہ میرے قلم پر کیے گئے اعتماد کا اظہار تھا۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ اختلافات وقتی ہو سکتے ہیں، مگر قدر اور پہچان باقی رہتی ہے۔
واپس بلانا کمزوری نہیں، بلکہ ظرف کی بلندی ہے۔ ہر کوئی یہ حوصلہ نہیں رکھتا کہ ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر کسی کو دوبارہ موقع دے۔ جو یہ کہتا ہے کہ “آپ دوبارہ لکھیے”، وہ دراصل یہ پیغام دیتا ہے کہ “ہمیں آپ کی تحریر کی ضرورت ہے، آپ کی آواز کی اہمیت ہے۔”
ایسے جذبے کی قدر کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ اگر ہمیں دوبارہ عزت دی جائے تو ہمیں بھی اپنے رویّے، اپنے الفاظ اور اپنے انداز سے اس اعتماد کو مضبوط کرنا چاہیے۔
 انا کو ایک طرف رکھ کر مثبت انداز میں آگے بڑھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
کیونکہ قلم کا سفر رُکنے کے لیے نہیں ہوتا۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے،
 مگر ادب اور احترام کے ساتھ آگے بڑھنا ہی اصل شعور ہے۔
 اگر کوئی ہمیں واپس آنے کو کہے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ہمارے وجود، ہماری صلاحیت اور ہماری تحریر کی قدر ہے۔
اور سچ تو یہ ہے کہ
Sada e qalam
 ایک پر اخلاص پلیٹ فارم ہے ورنہ یہاں لکھاریوں کی کون سا کمی ہے
 اللّہ تعالیٰ ہم سب کو کامیابی سے نوازےاور 
🤲🏻
ایک بار پھر سے ہم صداۓ قلم پر حاضر ہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ 
عائشہ ❤