دعا عبادت کا مغز ہے،
 تقدیروں کو بدل دینے والا ہتھیار اور ناممکن کو ممکن کے سانچے میں ڈھالنے کا نام ہے۔
 یہ لاحاصل کو حاصل کرنے کی وہ کلید ہے جو بندے کو رب کے قریب کر دیتی ہے۔
 مگر سوال یہ ہے کہ,
 جب ہم اپنے رب کے حضور دستِ سوال دراز کریں، تو ہمارا انداز کیسا ہو؟
آئیے! انبیاء علیہم السلام کے طرزِ دعا پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں:
حضرت ایوب علیہ السلام: بیماری کی شدت انتہا کو پہنچی، جسم نڈھال تھا، مگر زبان پر شکوہ تھا نہ مطالبہ۔ آپؑ نے یہ نہیں کہا کہ 'اے رب! مجھے صحت دے'، بلکہ کمالِ ادب سے عرض کیا: "اے میرے رب! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔" یعنی اپنی تکلیف بیان کی اور رب کی صفتِ رحیمی کو پکارا، فیصلہ رب پر چھوڑ دیا۔
 حضرت یونس علیہ السلام: مچھلی کے پیٹ میں، سمندر کی تہہ اور رات کی سیاہی یعنی تین تاریکیوں کے حصار میں پکارا تو اپنی خطاؤں کا اعتراف کیا: "تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصوروار ہوں۔" یہ پکار معافی اور نجات کا ذریعہ بن گئی۔
حضرت زکریا علیہ السلام: بڑھاپے کی لاچاری میں  بھی امید کا دامن نہ چھوڑا اور خاموشی سے اپنے رب کو پکارا: "اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور تو بہترین وارث ہے۔"
 *حضرت موسیٰؑ کا انداز : جب آپؑ مدین پہنچے اور تھک کر سائے میں بیٹھے تو یہ نہیں کہا کہ مجھے کھانا یا گھر دے، بلکہ عرض کیا: "اے رب! تو جو بھی خیر میری طرف اتارے، میں اس کا محتاج ہوں۔" (یہ بہترین انداز ہے کہ اللہ سے 'خیر' مانگی جائے)۔
                                                           یاد رکھیں!
جو چیزیں ہم ضد کر کے یا اصرار کر کے مانگتے ہیں، وہ کبھی کبھی ہماری آزمائش بن جاتی ہیں۔ اصل بندگی یہ ہے کہ اپنی حاجت اللہ کے سامنے رکھ دی جائے اور پھر اس کی رضا پر سرِ تسلیمِ خم کر دیا جائے۔"
دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ دل کی کیفیت کا نام ہے۔ جتنا زیادہ عجز ہوگا، قبولیت اتنی ہی قریب ہوگی۔
دعا رب کو اپنی مرضی بتانے کا نام نہیں، بلکہ اپنی بندگی کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو آواز دینے کا نام
ہے۔"
از قلم:زا-شیخ