💔 ایک درد کی داستان اور معاشرے کی بے حسی 💔.
کبھی ایک جملہ انسان کے وجود کو ہلا دیتا ہے ایک لفظ دل کو چیر دیتا ہے اور ایک صدا روح میں برسوں گونجتی رہتی ہے.
آج مجھے بھی ایک ایسا ہی پیغام ملا.
ایک بہن نے سلام کے بعد لکھا کہ بھائی میں آپ کی تحریریں پڑھتی ہوں دل کو سکون ملتا ہے آپ بہت اچھا لکھتے ہیں اللہ آپ کو کامیاب کرے میں نے کہا آپ کی دعا ہے آپی میں تو بس سیکھنے والا ہوں اللہ حق لکھنے کی توفیق دےآمیـــــــــــــــــن۔ بات چلتی رہی مگر اچانک ایک جملہ آیا جس نے میرے سینے کو پھاڑ دیا۔
*🥹بھائی مرنے کو دل کرتا ہے🥹*
یہ پڑھ کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی آنکھیں نم ہو گئیں اور دل جیسے کسی نے سخت مٹھی سے دبا دیا ہو،
میں نے لکھا اللہ کے لیے ایسا نہ کہیے زندگی اللہ کی امانت ہے یہ آزمائش ہے صبر کیجیے امید رکھیے، اللہ بہترین کارساز ہے اور وہ ہر پریشانی کے بعد آسانی کا در کھولتا ہے جیسے خود قرآن کریم میں ہے۔
[إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا](سورۃ الشرح)
وہ جی جی کہتی رہی مگر اُس جی کے پیچھے ایک ایسی تریاقی چیخ چھپی تھی جس نے دل کو مضطر کر دیا۔
پھر انہوں نے جو درد عیاں کر سنایا وہ چھینٹ کی طرح سینے میں لگ گیا:
کہنے لگی میں چوبیس سال کی ہو چکی ہوں تین بہنیں تھیں دو کی شادی ہو چکی اب صرف میں رہ گئی ہوں،
ابو بوڑھے مزدور ہیں میل میں روز بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں ان کے کندھے جھک گئے ہیں ہاتھوں کی رگیں سخت ہو گئیں سانس پھول جاتی ہے مگر وہ روز نکل جاتے ہیں ہمارا پیٹ پالنے کی خاطر،اور کہتے ہیں جب تک روح ہے میں تمہیں کما کر کھلاؤں گا،بیٹی اللہ نے تمہیں میری کفالت میں رکھا ہوا ہے،انکے قدم اب لڑکھڑاتے ہیں مگر آنکھوں میں تسلی دینے والی مسکان ہوتی ہے ایک ایسی مسکان جو بیٹی کے لیے تمام مصائب و آلام چھپا دیتی ہے۔
میں کہتی ہوں ابو آرام کر لیجیے وہ ہلکی سی ہنسی دیتے ہیں مگر اس ہنسی کے پیچھے برسوں کی تھکن بھوک اور درد چھپا ہوتا ہے،
دو سال سے میرے لیے رشتہ تلاش کر رہے ہیں، مگر جو بھی آتا ہے وہ ہمارے حالات دیکھ کر رک جاتا ہے اور کچھ ہنس کر کہہ کر چلے جاتے ہیں کہتے ہیں جہیز میں کیا دے دوگے میرے باپ کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ کچھ دے سکیں، اور دے بھی کیا سکتے ہیں وجود لاغر ہو گیا ہے یہی بہت بڑی بات ہے کے آج بھی وہ ہمیں کما کر کھلا رہے ہیں۔
میں تو کہتا ہوں:
میری غربت نے کیا مجھ کو بدنام
تیری دولت نے عیب چھپا رکھیں ہیں،
جس کے گھر میں بھی امیری کا شجر ہوتا ہے
اسکا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے۔
پھر بولی بھائی بتاؤ کیا میں اس لیے اکیلی رہ جاؤں کہ میرا باپ غریب ہے کیا میں اس لیے رد کر دی جاؤں کہ اس کے ہاتھوں میں طاقت نہیں ہے کیا میرے سر پر میری قسمت لکھ دی جائے کہ میرے گھر میں آسائشیں نہیں ہیں کیا غربت کا نقاب اتنا بدنصیب ہے کہ محبت بھی اس کے سامنے جھک جائے، کیا میرا قصور یہ ہے کہ میرے باپ نے زندگی بھر ایک غلام بن کر ہمیں پالا ہے اور اب اس کا سر جھک گیا ہے کیا میرے خواب ادھورے رہ جائیں گے صرف اس لیے کہ ہمارے پاس سونے چاندی کا ٹھکانہ نہیں🥹
یہ الفاظ میرے سینے میں خنجر بن کر اتر گئے اور میں خاموش رہ گیا مگر اندر سے ٹوٹ گیا،یہ لڑکی قصوروار نہیں معاشرہ قصوروار ہے ہمارا یہ سماج قاتل ہے۔
ہم قاتل ہیں اس باپ کی غیرت کا قاتل اس بیٹی کے خوابوں کا قاتل اور اس نکاح کی سادگی کا قاتل جسے ہم نے دکھاوے میں دفن کر دیا،جو زبان پر کہتے ہیں جہیز میں کیا ہے وہ مانگ رہے ہیں کسی مزدور کے پسینے کا قطرہ کسی باپ کے خون کا ٹکڑا، اور جو خاموش ہیں وہ بھی شریک جرم ہیں کیونکہ ان کی خاموشی نے ظلم کو دوام دیا ہے۔
میں تو کہتا ہوں;
مال و زر کے اسیر لگتے ہو
با خدا بے ضمیر لگتے ہو
مانگتے ہو جہیز شادی میں
خاندانی فقیر لگتے ہو۔
اے امت محمدیہ کے معزز افراد کیا یہ دن بھی امت کی بیٹیوں کو دیکھنا تھا؟ کیا یہی ہے اللہ کے نبی کا دیا ہوا دین ہے کہ ایک غریب باپ کو وقت سے پہلے ٹینشنوں میں بوڑھا کر دیا جائے؟
میرے عزیز مجھے بتائیں کیا ہے پیغمبر اسلام کا بتایا ہوا دین، کیا یہ کہ مالدار باپ خوشی سے شادی کریں اور غریب اپنی بیٹیوں لے کر زمانے میں گھومتا رہے، خدارا سنبھل جائیں اللہ کی عزت کی قسم حشر کا میدان دھجیاں اڑا دے گا،
رسولِ کریم ﷺ نے تو یوں فرمایا کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔
ہم نے برکت کو چھوڑ کر بوجھ کو اختیار کر لیا، آج غریب باپ اپنی بیٹی کی مسکراہٹ کے بدلے اپنی جوانی بیچ رہا ہے اور ہم سب تماشائی ہیں بظاہر مہذب مگر اندر سے سنگدل،کاش ہم سمجھ جائیں جہیز عزت نہیں ذلت ہے سادگی کمزوری نہیں سنت ہے،کاش وہ دن آئے جب باپ بیٹی کی رخصتی پر مسکرا کر کہے بیٹا تم خوش رہنا نہ کہ دل میں ہزاروں ادھورے خواب دبا کر خاموشی اختیار کرے،
اللہ کی قسم جب تک ہم اس ظلم کے خلاف نہیں اٹھیں گے تب تک کتنی بیٹیاں یونہی کہیں گی بھائی مرنے کو دل کرتا ہے، اور نامعلوم کتنی بیٹیاں اس صدمے سے اپنی جان دے چکی ہیں ایک رپورٹ کے مطابق 2019 میں 430 لڑکیاں اپنی جان فقط اس وجہ سے گنوا بیٹھیں کہ کسی نے غربت کی وجہ سے ان کا ہاتھ نہیں تھامہ،اور بے انتہا لڑکیاں طوائف خانوں کی نظر ہو گئیں، اور ارتداد میں اس چیز کا بھی اچھا خاصہ دخل ہے۔
اللہ کے لیے: آؤ آج عہد کریں نہ جہیز مانگیں گے نہ دیں گے اور نکاح کو سادہ پاکیزہ اور سنت کے مطابق بنائیں گے، اللہ وہ دن لائے جب کسی بیٹی کے آنسو بہنے سے پہلے کوئی امتِ محمد ﷺ کا بیٹا اس کے لیے دیوار بن جائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن۔
نا سنبھلوگے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک بھی نا ہوگی داستانوں میں۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*