*عورت عزت، وقار اور حیا کی علامت*
عورت اللہ تعالیٰ کی نہایت حسین اور عظیم مخلوق ہے، وہ ماں ہے تو جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی گئی، وہ بیٹی ہے تو رحمت کہلائی، وہ بیوی ہے تو سکونِ قلب کا ذریعہ بنی،قرآنِ کریم نے عورت کے مقام کو عزت و احترام کے ساتھ بیان کیا اور *حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو* اسلام نے عورت کو قید نہیں کیا بلکہ اسے عزت، حفاظت اور مقام عطا کیا ہے، حیا اور پردہ اسی عزت کا حصہ ہیں، نہ کہ کوئی بوجھ۔
تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ اچھے اور برے کی تمیز پیدا کرنا ہے،اگر تعلیم انسان میں اخلاق، حیاء اور ذمہ داری کا احساس پیدا نہ کرے تو وہ تعلیم ادھوری ہے،تعلیمی اداروں کا کام صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ کردار سازی بھی ہے، اگر میڈیا، ڈرامے اور سوشل پلیٹ فارمز بے حیائی کو فیشن بنا کر پیش کریں تو نوجوان ذہن متاثر ہوتے ہیں، لیکن اصل ذمہ داری گھر کی تربیت پر عائد ہوتی ہے، والدین کا فرض ہے کہ وہ بیٹیوں اور بیٹوں دونوں کو حیا، سلیقہ اور وقار سکھائیں۔ کیونکہ بیٹی کل ماں بنے گی، اور ماں پوری نسل کی معلمہ ہوتی ہے۔
*لباس اور اسلامی تعلیمات* اسلام میں لباس کا بنیادی مقصد ستر ڈھانپنا اور وقار قائم رکھنا ہے،
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے *کہ ایمان والی عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں* یہ حکم کسی کی آزادی چھیننے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کو پاکیزہ بنانے کے لیے ہے، فیشن کرنا منع نہیں، مگر ایسا فیشن جو جسم کو نمایاں کرے، نگاہوں کو دعوت دے اور معاشرے میں بے راہ روی پھیلائے،وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، خوبصورتی سادگی میں بھی ہوتی ہے، باوقار لباس، دوپٹہ یا اسکارف، ڈھیلا ڈھالا لباس یہ سب بھی خوبصورت انداز کا حصہ ہیں، عزت جسم دکھانے میں نہیں بلکہ کردار اور اخلاق میں ہے،جب قرآن پاک اتنے مدلل اور مفصل انداز میں تمہارے وقار کو بیان کرتا ہے،اور تمہارے پردے کی بات کرتا ہے،پھر آپکو کس نے رائٹ منڈل دیا آپ جیسا چاہو کرو،جیسا چاہو کپڑا پہنوں جب چاہو لباس کو ادھورا کرکے اسے ماڈرن ماڈل کا نام دے دو۔
مجھے آج بھی یاد ہے جب ایران کی ایک لڑکی نے ایران میں انجینئرنگ میں ملک ٹاپ کیا تھا،تب اسکو ایوارڈ دیا گیا تھا تب ایک صحافی نے اسے مدعو کرتے ہوئے پوچھا تھا،جب آپ نے اتنی بڑی ڈگری حاصل کی ہے،آپکو کیسا لگ رہا ہے اس نے کہا تھا،میں کروڑہا بار شکر گذار ہوں اس خالق ارض و سماوات کی جس نے مجھے اس قابل بنایا،صحافی اس سے سوال کرتا رہا ایک سوال کیا اچانک اس نے کیا،آپ نے اتنی بڑی ڈگری حاصل کی ہے لیکن آپ پھر بھی نقاب اور پورے پردے میں ہیں، جب کہ آپکو اپنے آپکو سب دکھانا چاہیے،یعنی پردہ نہیں کرنا چاہیے اس کا مطلب یہ تھا،تب اس نے کہا تھا جب انسان بے شعور تھا تب وہ ننگا رہتا تھا، جب اس نے شعور سیکھا تب اپنے جسم پر پتے لپیٹنا شروع کر دیا،جب اور شعور آیا تب اس نے اون لپیٹنا شروع کر دیا،پھر اور شعور آیا تب اس نے ٹاٹ پہننا شروع کیا،جب اور شعور آیا تو اس نے اپنے آپکو مزید ڈھکنا شروع کر دیا،اور اب اتنا شعور انسان کے پاس آ گیا کہ ہر ایک اپنے آپکو ڈکھتا ہوا نظر آتا ہے،پھر اس نے فائنلی جملہ کہا کہ جب میں بے شعور تھی تب میں بغیر نقاب کے رہتی تھی،اب مجھے شعور آیا تب میں نے اب اپنے آپکو پورا کور (Cover) کر لیا، تب پورا نقاب میرے شعور کا متقاضی ہے،جو اس چیز کو بتاتا ہے میں شعور دار ہو گئیں ہوں بے شعور نہیں، یہی میری تعلیم کا تقاضہ ہے۔
*میڈیا اور معاشرتی اثرات* آج کل میڈیا پر جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ اکثر مغربی طرزِ زندگی کو مثالی بنا کر پیش کرتا ہے،لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا معیار قرآنِ کریم اور حضرت محمد ﷺ کی سنت ہے، نہ کہ ڈراموں اور فلموں کے کردار،اگر ہم اپنی بچیوں کو صرف *ماڈرن* دکھانے کے لیے ایسے لباس کی طرف مائل کریں جو اسلامی حدود سے باہر ہو، تو یہ دانشمندی نہیں۔ جدید ہونا اور بے حیائی اختیار کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔
*اصلاح کا طریقہ* البتہ ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اصلاح نفرت، گالی یا تشدد سے نہیں ہوتی،کسی عورت یا لڑکی کو برا بھلا کہنا، مارنے یا چھترول کی بات کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، اسلام نے ہر انسان کی عزت سکھائی ہے۔
*اگر معاشرے میں بگاڑ نظر آئے تو اس کا حل یہ ہے*
1 گھر میں مضبوط دینی تربیت،
2 بیٹیوں کے ساتھ محبت اور حکمت سے گفتگو
3.بیٹوں کو بھی نظریں نیچی رکھنے اور عورت کی عزت سکھانا۔
4.میڈیا کے منفی اثرات سے آگاہی دینا۔
5.خود عملی نمونہ بننا۔
*اسلام کی بیٹیاں* اسلام کی بیٹیاں وہ ہیں جو علم بھی حاصل کریں، کردار بھی سنواریں، اور حیا کو اپنا زیور بنائیں،وہ ڈاکٹر بھی بن سکتی ہیں، انجینئر بھی، استاد بھی مگر اپنی پہچان اور وقار کے ساتھ،عورت نہ طعن و تشنیع کی مستحق ہے اور نہ تضحیک کی، وہ عزت کی مستحق ہے،اصل جدوجہد یہ ہونی چاہیے کہ معاشرہ پاکیزہ ہو، نظریں پاک ہوں، اور مرد و عورت دونوں اپنی حدود پہچانیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی بہنوں کی عزت اور بیٹوں کی صحیح اسلامی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو پاکیزہ بنائے،آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*