بے مثال مہمان نوازی

حضرت مولانا شمس الحق صاحب افغانی جو دارالعلوم دیوبند کے شیخ التفسیر تھے فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ دیوبند گیا۔ وہاں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کے گھر مہمان ہوا۔ حضرت مدنی خود گھر میں نہیں تھے۔ میں رات کو ایک کمرے میں سویا ہوا تھا۔ کروٹ جو بدلی تو آنکھ کھلی، دیکھا تو مولانا مدنی ایک چٹائی پر جو میری چارپائی کے بالکل قریب تھی لیٹے ہوئے تھے۔ سر کے نیچے اینٹ رکھی تھی۔ مجھے بہت شرم آئی۔ خیال کیا کہ حضرت کو اب جگانا مناسب نہیں ہے۔ ذرا دیر ہوئی تو دیکھا کہ حضرت مدنی نوافل میں مشغول ہیں۔ صبح ہوئی تو پوچھا کہ حضرت یہ کیا غضب کیا؟ نیچے کیوں آرام فرمانے لگے۔ مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔ فرمایا یہ اکرام ضیف (عزت مہمان) ہے کیا آپ نے یہ حدیث نہیں پڑھی مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَہ جو کوئی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو لازم ہے کہ مہمان کی عزت کرے۔

پھر فرمایا دیکھئے ! آج مولوی پڑھتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے ۔ میں اپنے ساتھ ایک من کے قریب کوئٹہ کے عمدہ انگور لے گیا تھا۔ وہ حضرت نے حاضرین مجلس میں تقسیم کر ڈالے۔ گھر سے خادمہ آئی ۔ کہنے لگی سنا ہے افغانی صاحب انگور لائے ہیں ۔ گھر کیلئے بھی دے دیجئے ۔ فرمایا ، اب آئی ہو، وہ تو تقسیم بھی ہو گئے۔ پھر کھانا کا وقت آیا تو ہاتھ دھلانے کیلئے خود لوٹا اٹھایا۔ میں نے عرض کیا ، حضرت ! یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں خود دھولوں گا، مگر وہ دھلانے پر مصر رہے۔ میں نے پھر عرض کیا کہ جناب اس لڑائی سے کیا فائدہ؟ میری طبیعت مکدر ہو گئی طبیعت پر بوجھ رہے گا۔ کیا یہی اکرام ضیف ہے اکرام ضیف تو یہ ہے کہ بوجھ نہ پڑے۔ فرمایا شرعی حکم میں بوجھ ہو تو رہے۔ شرعی حکم اکرام ہے وہ میں بہر حال بجالاؤں گا خواہ بوجھ ہو یا نہ ہو۔ پھر میں نے کہا رات حضرت نے آرام تو کیا ہی نہیں۔ فرمایا صرف آج رات نہیں گزشتہ نو راتوں میں ایک لمحہ بھی نہی سو سکا۔

✍️ الاعظمی