رمضان تم سے کہتا ہے: تم کر سکتے ہو!
رمضان ہمیشہ عین وقت پر آتا ہے۔ ہمارا رب اسے ہمارے پاس اس طرح بھیجتا ہے کہ یہ دنیا کی دی ہوئی ہر ٹوٹ پھوٹ کو درست کر دے، ہمارے قدموں کو دوبارہ توازن بخشے اور ہمیں پھر اسی راستے پر کھڑا کر دے جو اس تک جاتا ہے۔
رمضان کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ ہمارے اندر چھپی طاقتوں کو آشکار کرتا ہے اور ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہم کر سکتے ہیں۔
1. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ روزانہ قرآن کا ایک پارہ پڑھنا کوئی مشکل کام نہیں، مگر دنیا ہمیں، خود ہم سے دور کر دیتی ہے۔  
2. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنا ناممکن نہیں، لیکن ہم سارا سال اس چیز میں مشغول رہتے ہیں جسے اللہ نے ہمارے لیے پیدا کیا، اور اس مقصد کو بھول جاتے ہیں جس کے لیے اس نے ہمیں پیدا کیا۔
3. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ رات میں دو رکعت قیام کے لیے وقت نکل سکتا ہے، اور عبادتیں اتنی مشکل نہیں جتنی ہم سمجھتے تھے، اصل میں ہمارے دل ہی ویران تھے۔ 
4. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اللہ کے لیے چیزیں چھوڑ سکتے ہیں، اور اس کی رضا کے لیے چھوڑنے میں جو لذت ہے وہ انہیں پکڑے رکھنے کی لذت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ہم بے بس نہیں تھے، بس کمزور ہمت تھے۔
5. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ صدقہ صرف اسی مہینے تک محدود نہیں، پورا سال اس کی گنجائش ہے۔ انسان دل سے بھی غریبوں کا درد محسوس کر سکتا ہے، اس کے لیے بھوکا ہونا ضروری نہیں۔
6. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ فجر کی نماز اتنی مشکل نہیں جتنا شیطان ہمیں باور کراتا رہا، اور جس کے آگے ہم ہار مانتے رہے۔ حقیقت یہی ہے جیسا کہ مؤذن پکارتا ہے: نماز نیند سے بہتر ہے۔
7. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ مسجد کی طرف اٹھنے والے قدم کتنے خوشگوار ہوتے ہیں، وہاں تک کا سفر کتنا شیریں لگتا ہے، اور اصل خوشی صرف اللہ کے ساتھ ہے۔
8. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ گھر دنیا کی سب سے گرمجوش جگہ ہے، اور خاندان کا اکٹھا ہونا روح کو تازگی دے دیتا ہے۔
9. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ پڑوسیوں کو کھانے کی ایک پلیٹ دینا محبت پیدا کرتا ہے، اور ان کی طرف سے پلیٹ آنا گویا محبت کا پیغام ہوتا ہے۔
10. رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ گھروں کی بنیاد عورتوں کے صبر پر قائم ہے۔ جب ہم مرد روزے کے آخری لمحوں میں خود کو بھی برداشت نہیں کر پاتے، تب وہ اپنے کچن میں محنت اور جدوجہد کر رہی ہوتی ہیں، اور حقیقتاً وہ پیشانی پر بوسہ کی مستحق ہیں۔

﴿عربی تحریر - ادہم شرقاوی﴾
مترجم - عبید وسیم
متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
۲۴؍فروری ؁٢٠٢٦ مطابق ٦؍رمضان المبارک ؁١٤٤٧