🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
رمضان آیا… فضا میں نور کی سی چمک گھل گئی، اذانوں کی صدائیں اور بھی شیریں محسوس ہونے لگیں، مساجد آباد ہو گئیں، اور زبانوں پر تسبیح و استغفار کے ترانے جاری ہو گئے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا میرا دل بھی جاگ گیا؟ کیا میرے باطن کی ویران بستی میں بھی کوئی چراغ روشن ہوا؟ یا میں حسبِ معمول ظاہری تیاریوں میں مصروف رہی اور میرا دل بدستور غفلت کی دبیز چادر اوڑھے سویا رہا؟
رمضان محض کیلنڈر کی ایک تاریخ کا نام نہیں، نہ یہ صرف سحری و افطاری کے اہتمام، انواع و اقسام کے کھانوں اور راتوں کی مصروفیات کا عنوان ہے۔ رمضان تو روح کا موسمِ بہار ہے، دلوں کی تطہیر کا مہینہ ہے، اور بندگی کے شعور کی تجدید کا لمحہ ہے۔ یہ وہ مقدس ساعتیں ہیں جن میں رحمتوں کی بارش برستی ہے، مغفرت کے دروازے وا ہوتے ہیں، اور بخشش کے پروانے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ مگر یہ سب ان دلوں کے لیے ہے جو بیدار ہوں، جو تڑپ رکھتے ہوں، جو اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے درِ الٰہی پر جھکنا جانتے ہوں۔
کتنے ہی رمضان ہم نے دیکھے، کتنی ہی بار سحری کی ساعتوں میں آنکھ کھلی
کتنی ہی بار افطار کے وقت ہاتھ دعا کے لیے اٹھے، مگر کیا کبھی دل بھی کانپا؟ کیا کبھی آنکھ اشکبار ہوئی؟
کیا کبھی تنہائی کی کسی ساعت میں ہم نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا؟
یا ہم نے روزہ صرف بھوک و پیاس کی حد تک محدود رکھا اور دل کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرنے کی کوشش نہ کی؟
رمضان ہمیں جھنجھوڑ کر کہتا ہے: اے غافل انسان! یہ مہینہ تیرے لیے آخری موقع بھی ہو سکتا ہے۔ کون جانتا ہے کہ اگلا رمضان نصیب ہو یا نہ ہو؟ کتنے لوگ تھے جو پچھلے سال ہمارے ساتھ سحری کرتے تھے، آج وہ مٹی کی آغوش میں سو رہے ہیں۔ ان کی قبریں شاید یہ حسرت لیے خاموش ہیں کہ کاش ایک اور رمضان مل جاتا، کاش ایک اور موقع میسر آتا۔ اور ہم ہیں کہ ہمیں موقع بھی ملا، مہلت بھی ملی، صحت بھی عطا ہوئی، مگر دل کی بیداری نصیب نہ ہوئی۔
دل کا جاگنا یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت محض الفاظ کی ادائیگی نہ رہے بلکہ ہر آیت ہمارے باطن پر دستک دے۔ جب ہم اللہ کے کلام کو پڑھیں تو محسوس ہو کہ یہ پیغام براہِ راست ہمیں مخاطب کر رہا ہے۔ جب جہنم کا ذکر آئے تو بدن کانپ اٹھے، جب جنت کی بشارت ہو تو امید کی کرن دل میں روشن ہو جائے۔ جب مغفرت کا اعلان ہو تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں اور لبوں پر سچی توبہ کے الفاظ جاری ہو جائیں۔
اگر رمضان آیا اور ہماری نمازوں میں خشوع پیدا نہ ہوا، اگر ہماری آنکھیں گناہوں پر اشکبار نہ ہوئیں، اگر ہمارے اخلاق میں نرمی اور معاملات میں دیانت نہ آئی، تو ہمیں اپنے دل کی کیفیت پر غور کرنا ہوگا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے رمضان کو تو پا لیا، مگر رمضان نے ہمیں نہیں پایا؟
آئیے! اس رمضان کو معمول کی ایک رسم نہ بننے دیں۔ اسے اپنی زندگی کا نقطۂ آغاز بنائیں۔ اپنے باطن کی دنیا کو بدل ڈالیں۔ سچی توبہ کریں، ٹوٹے دل کے ساتھ دعا کریں، اور یہ عہد کریں کہ ہم اس مہینے کو اپنی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بنائیں گے۔ کیونکہ کامیاب وہی ہے جس کا دل جاگ گیا، جس نے اس مہلت کو غنیمت جانا، اور جس نے اپنے رب کی طرف رجوع کر لیا۔
رمضان آیا… اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کیا ہم بھی جاگ جائیں گے؟ یا ایک اور رمضان گزر جائے گا اور ہم خوابِ غفلت میں ہی پڑے رہیں گے؟
اللہ ہمیں وہ بیدار دل عطا فرمائے جو رمضان کی حقیقی روح کو پا لے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کے لیے یہ مہینہ واقعی نجات کا پروانہ بن جائے… آمین۔