*رمضان کی آمد*


بقلم معاذ حیدر، کلکتہ

١/ رمضان ١٤٤٧ھ


کل صبح سے فضا میں تبدیلی محسوس ہو رہی تھی، پر سکون ماحول میں پرندوں کی چہچہاہٹ سے الگ لطف مل رہا تھا، آسمان ابر سے لدا ہوا تھا، آخری پہر تک سورج کو جلوہ گر ہونے کی اجازت نہ مل سکی، ہم نے اس بدلاؤ کو معمول پر محمول کیا؛ لیکن ایسا نہیں تھا۔

مغرب پڑھ کر نکلا تو ہر طرف چہل پہل تھی، *"مسجد چھتہ"* رمضان کے استقبال کے لیے بالکل تیار تھی، *حضرت الاستاذ مولانا سید ارشد مدنی صاحب -دامت برکاتہم-* اپنے معتکف میں بیٹھ چکے تھے، کچھ ہی دیر میں گھنٹی بجی پھر دیر تک سائرن کی آواز آتی رہی۔

دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ رمضان کے آمد کی اطلاع دی جا رہی ہے، تب پتہ چلا کہ فضا کی خنکی، ماحول کی تبدیلی، موسم کا انقلاب، قلب کا رجحان، نیکیوں کی رغبت و غیره تغییرات معمول کا نتیجہ نہیں ہیں؛ بل کہ ماورائی انقلاب کا عکس ہیں۔

اس لیے کہ آج رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے، شیاطین کو قید کر دیا گیا، اجر کے تناسب کو پڑھا دیا گیا، اعمال کی حیثیت اونچی کر دی گئی ہے۔

رمضان کی نورانیت نے دیوبند کی علمی فضا کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے، اس ماہ کو سلف نے بڑے اہتمام سے گذارا ہے، پہلی دفعہ ہمیں اس کی پر نور ساعتوں کو پر نور ماحول میں گذارنے کا موقع ملا ہے، اکابر کی زمین میں اکابر جیسا رمضان گزارنے کی ترتیب سوچی ہے، رب کریم اسے عملی جامہ پہنا دے۔ آمین