*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ*
*احکام رمضان المبارک*
*روزے کے چند مسائل*
(۱) اگر روزہ دار دانت صاف کئے بغیر سو گیا اور دانتوں میں اٹکا ہوا کھانا چنے کی مقدار یا اس سے زیادہ حلق میں اتر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ، قضا واجب ہوگی کفارہ نہیں۔ اور اگر چنے کی مقدار سے کم ہے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔
(۲) دانت کے درمیان اگر کوئی چیز چنے سے بڑی لگی ہوئی تھی اور اسے نگل گیا تو روزہ فاسد ہو گیا ، اگر چنے سے چھوٹی ہے تو روزہ فاسد نہ ہوگا لیکن مکروہ ہے۔ البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اس کے بعد نگل لیا تو ہر حال میں روزہ ٹوٹ جائے گا، چاہے چنے کے برابر ہو یا اس سے بھی کم ہو، دونوں صورتوں میں روزہ فاسد ہو جائے گا۔
(۳) اگر دانت سے خون نکلا اور تھوک کے ساتھ مل کر حلق کے اندر چلا گیا تو دیکھا جائے گا کہ خون زیادہ ہے یا تھوک ، اگر خون زیادہ ہے تو روزہ فاسد ہے، قضاضروری ہے، کفارہ نہیں۔ اگر تھوک زیادہ ہے تو روزہ فاسد نہیں ہوا ۔
(۴) مصنوعی دانت منہ میں لگے رہنے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ روزہ بدستور صحیح رہے گا، کیونکہ مصنوعی دانت لگانے کے بعد اصل دانت کے حکم میں ہو جاتا ہے۔
(۵) اگر روزے کے دوران دانت نکالنے کی شدید ضرورت ہے تو دانت نکالنا جائز ہوگا ، البتہ خون حلق سے نہ اترے، اس کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔ اس لئے روزے کے دوران نہ نکالنا بہتر ہے۔
اگر خون یا دوا پیٹ کے اندر چلا جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا ، قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔
(۲) روزے کے دوران دانت میں درد ہونے کی صورت میں دوائی لگانا منع ہے، کیونکہ اگر دوائی اندر جائے گی تو روزہ فاسد ہوگا ، قضا لازم ہوگی اور اگر دوائی اندر نہیں جائے گی تو اندر جانے کا احتمال ہے۔ لہٰذا اس احتمال کی وجہ سے روزہ مکروہ
ہوگا۔
(۷) اگر روزے کی حالت میں دانت سے خون نکل کر حلق میں چلا گیا تو روزہ فاسد ہو گا یا نہیں ، اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر خون کی مقدار کم اور تھوک کی مقدار زیادہ ہے تو روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ اور اگر خون کی مقدار زیادہ یا برابر ہے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہو جائے گا۔
واللّٰہ اعلم بالصواب