کلماتِ تشکر حضرت مولانا قاری عبدالرؤف صاحب دامت برکاتہم شیخ القرآء دارالعلوم دیوبند 

ازقلم محمد عادل ارریاوی


محترم قارئین کرام

یہ ہماری خوش نصیبی اور سعادت مندی کی بات ہے کہ آج اس بابرکت محفل میں دارالعلوم دیوبند کے علمی و روحانی گلستان کے مہکتے ہوئے گلاب شیخ القراء حضرت قاری عبدالرؤف صاحب دامت برکاتہم کی پرنور تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ مسرت موجبِ افتخار اور سرمایۂ سعادت رہی۔

حضرت کی تشریف آوری نے اس اجلاس کی فضاؤں کو معطر کر دیا قرآن کی خوشبو سے مہکتی ہوئی ان کی تلاوت نے دلوں کو منور روحوں کو سرشار اور ایمانوں کو تازگی بخشی۔

حضرت کے مبارک لبوں سے نکلنے والے کلماتِ خیر و نصیحت نے ہمارے قلوب پر نقش چھوڑے ہیں جو ان شاء اللہ دیرپا اثرات کے حامل رہیں گے۔

آپ نے اپنی مصروفیات کے باوجود آغاز تا اختتام اس پروگرام کو رونق بخشی اپنی موجودگی سے اس محفل کو جِلا بخشی اور اپنی قرآنی معنویت و روحانیت سے ماحول کو پرنور فرمایا۔

آپ کی زیارت اور صحبت نے ہم سب کو احساس دلایا کہ اہلِ قرآن ہی دراصل اہلِ ایمان کے دلوں کا قرار ہیں اور واقعی اَهلُ القُرآنِ هُم أهلُ اللهِ وخاصّتُه کا عملی مظہر آپ کی ذاتِ گرامی ہے۔

ہم ادارۂ مدرسہ حسینیہ کے منتظمین اساتذۂ کرام طلبۂ عزیز اور تمام شرکاءِ اجلاس کی جانب سے حضرتِ والا کی خدمت میں اپنی عمیق تشکر و امتنان کا اظہار کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت کو صحت و عافیت کے ساتھ درازیِ عمرِ خضر علم و عمل میں برکت اور خدمتِ قرآن و اہلِ قرآن میں مزید رفعت عطا فرمائے اور ہمیں بار بار حضرت کی زیارت و دعاؤں سے فیضیاب ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس اجلاس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اسے ہمارے لیے ذریعۂ مغفرت بنائے اور ہم سب کو قرآنِ کریم کے نور سے منور فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔


جزاکم اللہ احسن الجزاء

بخدمت اہلِ مدرسہ حسینیہ