🥰
*شہزادوں کا امتحان*
*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*
*قسط نمبر 11*
*بہادر شہزادہ رابیل کی قید میں*
مکار ایلچی کا پیغام سن کر بہادر شہزادہ گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔ جادوگروں کے مقابلے کے لیے اسے کوئی تدبیر نہیں سوجھ رہی تھی۔ اُس نے ایلچی کو اگلے دن آنے کے لیے کہا۔ ایلچی ایک دم غائب ہو گیا۔ اب شہزادے نے تمام بستیوں سے اپنے مشیروں کو بلوا بھیجا۔ جب سب اکٹھے ہو گئے تو اُس نے ساری بات اُن کو بتا دی۔ وہ پوری رات اس مسئلے کا حل سوچتے رہے۔ آخر فیصلہ ہوا کہ ہم چپ چاپ شکست نہیں مانیں گے اور جادوگروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
دوسرے دن وہی ایلچی پھر آ گیا۔ شہزادے نے اُسے اپنا فیصلہ سنا دیا اور وہ اُسی وقت دھمکیاں دیتا ہوا واپس چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد شہزادے نے اپنی فوج کو اُس خاص میدان میں جمع کیا جس کے چاروں طرف سیڑھیوں کی شکل میں بیٹھنے کے لیے نشستیں موجود تھیں۔ یہ بہت بڑا میدان تھا، جس طرح آج کل کرکٹ کے لیے اسٹیڈیم ہوتے ہیں۔ اس جگہ شہزادہ اپنی فوج کو مشقیں کراتا تھا اور میلے وغیرہ لگتے، جن میں ساری بستیوں کے لوگ حصہ لیتے۔ شہزادے نے اپنی فوج کو جنگ کی حکمتِ عملی سمجھانے کے لیے اکٹھا کیا تھا، مگر اس کی یہ آرزو پوری نہ ہو سکی۔ اچانک ہی سارے آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے اور رنگین بارش شروع ہو گئی۔ ان کی نظریں آسمان کی طرف اُٹھیں اور پھر سب لوگ پتھر کے بت بن گئے۔ کسی کو ہلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔
رابیل نے ایلچی کے پیغام کے بعد بوڑھے جادوگر کو اسی وقت حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اُس نے شہزادے کو سنبھلنے کا موقع تک نہ دیا تھا۔ جادوگروں کی پوری فوج دریا کے پار کی بستیوں پر قبضہ کرنے کے لیے روانہ ہو گئی۔ پہلے تو جادوگروں نے فضا میں مصنوعی بادل بنائے، پھر انسانوں کو پتھر میں تبدیل کرنے والی رنگین بارش برسائی۔ اس کے برستے ہی لوگ پتھر میں تبدیل ہو گئے اور تمام بستیوں پر رابیل جادوگر کا قبضہ ہو گیا۔ رابیل نے مکار جادوگر کی مدد سے بہادر شہزادے کو پہچان کر اُسے اُس کے محل میں قید کر دیا اور دو جادوگروں کو پہرے کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔ اس کے بعد جادوگروں نے مختلف عمل کر کے لوگوں کے ذہنوں کو اپنے قابو میں کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن کے بعد جب سب لوگوں کو دوبارہ ہوش آیا تو وہ پوری طرح رابیل اور اس کے جادوگروں کے غلام بن چکے تھے۔
*رحم دل شہزادے کی موت*
رحم دل شہزادے کو ہوش آیا تو وہ ایک آرام دہ بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ کمرہ بھی انتہائی شان دار انداز میں سجا ہوا تھا۔ پتہ نہیں کتنے دن وہ بے ہوشی کی حالت میں رہا۔ گزرے ہوئے واقعات ایک ایک کر کے اُسے یاد آنے لگے تو وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ تلوار ابھی تک اُس کے ہاتھ میں تھی۔ شہزادے کے اُٹھ کر بیٹھتے ہی ایک جادوگر اندر آیا اور شہزادے کو زندہ سلامت رابیل کے محل میں واپس آنے پر مبارک باد دی۔ شہزادے کا ذہن جاگ چکا تھا۔ اُسے بزرگ کی باتیں یاد آنے لگیں۔ اُنہوں نے رابیل کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ شہزادے کو گم سم دیکھ کر جادوگر کہنے لگا کہ آپ کو رابیل یاد کر رہے ہیں، وہ بہت خوش ہیں۔
شہزادہ تیار ہو کر رابیل کے پاس پہنچ گیا۔ رابیل نے کامیابی پر شہزادے کی تعریف کی اور جلد ہی اُسے انعام دینے کا وعدہ کیا۔ اُس نے شہزادے کو اپنی نئی سلطنت دیکھنے کی دعوت دی اور تیار رہنے کا حکم دیا۔ اگلے دن صبح کے وقت اُن کا قافلہ تیار ہو گیا۔ سب لوگ جادوئی گھوڑوں پر سوار تھے۔ سب سے آگے رابیل کا گھوڑا تھا۔ جادوئی گھوڑے ہوا میں اُڑتے ہوئے دریا کی سمت جانے لگے۔ دریا پار کرنے کے بعد وہ کھلی زمین پر اُتر آئے اور ایک جیسی رفتار سے بستیوں میں سے گزرنے لگے، جہاں مکان بڑے سلیقے سے قطاروں کی شکل میں بنے ہوئے تھے۔
شہزادہ بڑی دل چسپی سے مکانوں کی قطاروں کو دیکھ رہا تھا۔ ہر گھر کے سامنے سے پانی کی دو پتلی پتلی نہریں گزر رہی تھیں۔ ایک نہر جو نسبتاً بلندی پر تھی، اس میں صاف شفاف پانی تھا۔ دوسری نہر کچھ پستی میں تھی۔ اس میں گھروں کا استعمال شدہ پانی گزر کر نہ جانے کہاں جا رہا تھا۔ یہ بل کھاتی نہریں تمام آبادیوں میں تسلسل کے ساتھ رواں دواں نظر آئیں۔ شہزادے کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ اتنا زیادہ پانی کہاں سے آتا ہے اور کہاں غائب ہوتا ہے؟ لیکن اُس کا یہ تجسس ابھی مزید امتحان چاہتا تھا۔ جب قافلہ بھری آبادی کے درمیان پہنچا تو اچانک گہرائی میں ایک بڑا جدید طرز کا میدان آ گیا۔ یہ بہت بڑا گول دائرے کی شکل کا میدان تھا، جس کے چاروں طرف سیڑھیوں کی صورت میں بیٹھنے کے لیے آرام دہ نشستیں موجود تھیں۔
رابیل کے پہنچنے کی اطلاع پہلے ہی سے یہاں پہنچ چکی تھی۔ اُس کے لیے الگ سے ایک تخت بچھایا گیا تھا۔ قافلے کے پہنچتے ہی ہر طرف سے لوگوں کی آمد شروع ہوگئی اور چند لمحوں میں سارا میدان کھچا کھچ بھر گیا۔ رابیل شاہانہ چال چلتا ہوا تخت کی طرف بڑھ گیا۔ شہزادہ تخت کے قریب پڑی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ جب سب لوگ بیٹھ گئے تو فضا میں پھلجھڑیاں سی پھیلنے لگیں۔ تمام لوگوں کی نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی تھیں۔ شہزادہ بھی حیرت سے آسمان پر پھیلتی روشنی اور رنگوں کو دیکھ رہا تھا۔ روشنی آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ جب یہ روشنی میدان کے بالکل اوپر پہنچی تو اس میں اُڑتے ہوئے جادوگر نظر آنے لگے۔ وہ بڑی تیزی سے زمین کی طرف آ رہے تھے۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجانی شروع کر دیں۔ نوجوان نعرے لگانے لگے اور ڈھول بجنے کے ساتھ موسیقی کی تیز آوازیں بڑھنے لگیں۔ اگلے ہی لمحے اُڑنے والے جادوگر تخت کے سامنے اُتر گئے۔ اُنہوں نے جھک کر رابیل کو سلامی دی اور اپنی زبان میں کچھ بڑبڑانے لگے۔ ان لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی۔ رابیل نے اپنا بایاں ہاتھ بلند کیا تو یہ جادوگر بڑبڑاتے ہوئے تخت کے چاروں طرف پھیل گئے۔ اُنہوں نے اپنے اپنے ہاتھ فضا میں بلند کیے، جیسے وہاں سے کوئی چیز پکڑنا چاہتے ہوں۔ بغیر کسی دیر کے سب کے ہاتھوں میں چمک دار برچھیاں نظر آنے لگیں۔ ان برچھیوں کی نوکیں اتنی تیز تھیں کہ دن کے اجالے میں بھی اُن کی چمک نظر آ رہی تھی۔ اُنہوں نے برچھیوں کو دائرے میں گھمانا شروع کر دیا۔ ساتھ ساتھ وہ خود بھی ایک گھومتے دائرے کی طرح چکر لگا رہے تھے۔ وہ اتنی تیزی سے گھوم رہے تھے کہ اُن پر نظر تک نہ ٹھہرتی تھی۔ پھر اچانک دھماکوں کی آوازوں سے میدان گونج اُٹھا۔ جادوگر دوبارہ فضا میں بلند ہوئے اور آسمان پر جال سا پھیلتا نظر آیا، پھر اُس میں سے رسیاں کٹ کٹ کر میدان کی طرف آنے لگیں۔ میدان میں سناٹا چھا چکا تھا۔ لوگوں کے جسم رسیوں میں لپٹنے لگے، لیکن کسی نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ شہزادے پر بھی بہت ساری رسیاں گریں۔ ان رسیوں سے بھینی بھینی مہک اُٹھ رہی تھی، جس سے دماغ بوجھل ہوتا جا رہا تھا۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی شہزادے نے بھی اپنے اوپر پڑی رسیاں ہٹانے کی کوشش نہ کی۔ رسیوں کے بعد پانی کی تیز پھوار جاری ہونے لگی، جیسے بارش آتی ہے۔ جہاں جہاں یہ پھوار پڑتی گئی، وہاں سے رسیاں غائب ہونے لگیں۔ پانی کی پھوار میں ہر رنگ شامل تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس پانی سے میدان ذرا بھی گیلا نہ ہوا اور نہ کوئی آدمی اس سے بھیگا۔ بس ساری رسیاں غائب ہو گئیں۔ پھر جادوگر نیچے آنے لگے۔ شہزادہ غور سے اُن کی جانب دیکھ رہا تھا۔ جب وہ زمین پر آئے تو ادب سے رابیل کے سامنے جھک گئے۔ شہزادے نے چاروں طرف دیکھا لیکن لوگوں کی نگاہیں ابھی تک آسمان کی طرف ہی تھیں، جہاں کچھ بھی نہ تھا۔ شہزادے کے حرکت کرتے ہی جادوگروں میں تہلکہ مچ گیا۔ وہ اونچی آواز میں چیخنے لگے۔ شہزادے نے آس پاس دیکھا تو تمام لوگ پتھر کے بت بنے نظر آئے۔ اُس نے اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کو چھوا تو اُس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ وہ آدمی پتھر بن چکا تھا۔ صرف رابیل اور شہزادہ اپنی اصل حالت میں تھے۔ رابیل کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے شہزادے کو حرکت کرتے دیکھ لیا تھا۔ تلوار کی وجہ سے جادوگروں کا جادو شہزادے پر نہیں چل سکا تھا۔ اچانک رابیل اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اُڑنے والے اُس کے گرد جمع ہو گئے۔ شہزادہ بھی کھڑا ہو چکا تھا اور اُس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔ بہت پہلے ایک نجومی نے رابیل کو بتایا تھا کہ تمہاری موت ایک نوجوان شہزادے کے ہاتھوں ہو گی۔ تم خود اُسے اپنے پاس بلاؤ گے اور تمہارا جادو اُس پر کوئی اثر نہیں کرے گا۔ اس وقت رابیل کو وہ پیش گوئی یاد آ گئی۔ اس نے غصے میں آ کر جادوگروں کو شہزادے پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ وہ برچھیاں لے کر شہزادے کی طرف بڑھے۔ خوف کی وجہ سے شہزادے کو ایک سرد لہر اپنی ریڑھ کی ہڈی میں اُترتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اُسے موت اپنے سامنے کھڑی نظر آ رہی تھی
*طلسمی آئینہ*
طلسمی آئینہ عقل مند شہزادے کے سامنے رکھا تھا۔ حازم جن نے ادب سے کہا:
"حضور! آپ اس میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟"
شہزادے نے کہا:
"میں اپنے بھائی، رحم دل شہزادے کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہ اب کس جگہ اور کس حال میں ہے؟"
اسی وقت آئینے میں روشنی پھیلنے لگی اور مختلف رنگوں کی شعاعیں ظاہر ہونے لگیں۔ پھر ایک میدان کا منظر اُبھرا جہاں رحم دل شہزادہ بہت سے پتھر کے بتوں کے درمیان کھڑا تھا اور کچھ لوگ برچھیاں لے کر اُس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر عقل مند شہزادہ پریشان ہو گیا۔ اس نے حازم جن کو حکم دیا:
"حازم! فوراً کچھ کرو اور میرے بھائی کو ان دشمنوں سے بچاؤ!"
حازم جن نے کچھ پڑھ کر طلسمی آئینے پر پھونک ماری تو رحم دل شہزادے کے گرد سبز شعاعوں کا ایک حصار کھنچ گیا۔ اسی وقت برچھیاں چلیں لیکن اُن کا اُلٹا اثر ہوا۔ برچھیاں واپس ہوئیں اور اُسی رفتار سے جادوگروں کے سینوں کو چیرتی ہوئی دوسری جانب سے نکل گئیں۔ وہ وہیں گر کر تڑپنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر تخت پر بیٹھا ہوا آدمی اُٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا اور رحم دل شہزادہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
"یہ سب کیا ہو رہا ہے، حازم؟ اپنے علم سے اس وقت پتا لگاؤ!" عقل مند شہزادے نے حازم کو حکم دیا تو وہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگا۔ پھر اُس نے کہا:
"آپ فکر نہ کریں، آپ کا یہ بھائی سلامت رہے گا اور بھاگنے والا جادوگر اسی شہزادے کے ہاتھوں اپنے انجام تک پہنچے گا، کیوں کہ ظالموں کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے، ایک دن وہ خود اس میں ضرور گرتا ہے۔"
*جاری ہے ۔۔۔۔////*
🌹🌸♥️🌼