🥰

*شہزادوں کا امتحان* 

*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*

*قسط نمبر 12*

جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے، ایک دن وہ خود اس میں ضرور گرتا ہے۔

اچھا! اب مجھے بہادر شہزادے کے بارے میں دکھاؤ کہ وہ کس حال میں ہے۔“ شہزادے نے حازم جن سے کہا تو طلسمی آئینہ دوبارہ روشن ہو گیا۔ پھر پہلے کی طرح رنگین شعاعیں نمودار ہوئیں اور ایک کوٹھڑی کا منظر اُبھر کر آیا۔ شہزادے کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ اُس کا بہادر بھائی پتھر بنا ہوا ایک کونے میں کھڑا تھا اور باہر دو جادوگر پہرا دے رہے تھے۔

حازم! یہ کیا؟ میرا دوسرا بھائی بھی مصیبت میں ہے اور میں یہاں مزے سے بیٹھا ہوں!“ شہزادے نے رونے کے انداز میں کہا تو حازم جن نے پھر کوئی عمل شروع کر دیا تھا۔

 *رحم دل شہزادے کی واپسی* 

رحم دل شہزادے کے دل میں رابیل کے لیے نفرت پیدا ہو چکی تھی۔ اتنے انسانوں کو بت بنا دیکھ کر وہ سخت طیش میں تھا۔ رابیل بھاگ کر اپنے اُڑنے والے گھوڑے پر سوار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

شہزادے کو بزرگ کی آواز سنائی دینے لگی: شہزادے! گھبراؤ نہیں! اللہ تمھاری مدد کرے گا۔ میدان سے باہر ایک سفید رنگ کا گھوڑا تمھارا انتظار کر رہا ہے، اُس پر سوار ہو جاؤ۔ رابیل بھاگ کر اپنے ملک میں پہنچ چکا ہے۔ یہ گھوڑا تمھیں اُس تک پہنچا دے گا۔ وہاں پہنچ کر تم نے اُس کا خاتمہ کرنا ہے۔ اُس کے مرتے ہی یہ تمام لوگ دوبارہ اپنی اصلی حالت میں آ جائیں گے اور جادو کے تمام اثرات ختم ہو جائیں گے۔ شاباش! اس وقت اپنی منزل کی طرف چل پڑو۔ رابیل کی موت کے بعد وہ ملک تمھاری ملکیت ہوگا۔ اللہ تمھارا حامی و مددگار ہوگا۔

آواز کے ختم ہوتے ہی شہزادہ میدان سے باہر نکل گیا۔ باہر ایک خوب صورت اور تنومند سفید ریشم جیسے بالوں والا گھوڑا اسے دیکھ کر دم ہلا رہا تھا۔ شہزادہ گھوڑے پر سوار ہوا تو وہ سرپٹ دوڑنے لگا۔ اس کی ایک چھلانگ سے بہت سارا فاصلہ طے ہو رہا تھا۔ پھر راستے میں ایک دریا حائل ہو گیا۔ گھوڑا اُسی رفتار سے دوڑ رہا تھا اور اب اُس کی اگلی چھلانگ دریا کے اندر، پانی کی تیز موجوں کے درمیان پڑی، لیکن اُسے کچھ نہ ہوا۔ دوسری چھلانگ پر وہ دریا کے پار تھے۔

رابیل کے محل تک پہنچنے میں شہزادے کو زیادہ وقت نہ لگا۔ رابیل شہزادے کو ایک عام آدمی سمجھ رہا تھا، اس لیے تلوار نکال کر شہزادے کے مقابلے میں آ گیا۔ جب شہزادہ اُس پر وار کرتا تو وہ اُڑ کر اس کی پہنچ سے دور ہو جاتا، پھر اوپر ہی سے وار کر دیتا، جس کی وجہ سے شہزادے کو اُس پر وار کا کوئی موقع نہ مل رہا تھا۔

شہزادے کو ایک دم یاد آیا کہ اُس نے مقابلے سے پہلے بسم اللہ تو پڑھی ہی نہیں ہے، اس لیے یہ شیطان بار بار بچ جاتا ہے۔ اس نے اونچی آواز میں بسم اللہ پڑھی تو رابیل کا رنگ زرد پڑ گیا۔ وہ کٹے ہوئے درخت کی طرح نیچے آ گرا۔ شہزادے نے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی تلوار اُس کے جسم کے پار کر دی۔ رابیل اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔

اس کے مرتے ہی ہر طرف سے جادوگروں کی چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ رابیل کے ساتھ سارے جادوگر بھی مر رہے تھے۔ جب ان کی چیخ و پکار ختم ہوئی تو طوفانی بارش شروع ہو گئی۔ اس بارش نے ملک سے تمام جادوئی اثرات ختم کر دیے اور بہت سے لوگ جادو کے اثر سے آزاد ہونے کے بعد محل کی طرف آنے لگے۔ ملک کے آزاد ہونے کی خوشی میں وہ جشن منانا چاہتے تھے۔ انھوں نے رحم دل شہزادے کو اپنا بادشاہ بنا لیا، جس میں اب رحم دلی کے ساتھ ساتھ دوسری تمام خصوصیات بھی پیدا ہو چکی تھیں۔

آخرکار اس کے چھے مہینے کے امتحان کی مدت ختم ہوئی اور وہ اپنے لوگوں سے ایک مہینے کے لیے اجازت لے کر اپنے ملک کی طرف روانہ ہو گیا۔ بزرگ کی دی ہوئی تلوار اور سفید گھوڑا اب تک اُس کے ساتھ تھے۔ شہزادے نے جاتے ہوئے اپنی آدھی فوج بھی ساتھ لے لی، تاکہ بادشاہ سلامت کے سامنے سرخ رو ہو سکے۔

 *بہادر شہزادے کی واپسی* 

بہادر شہزادہ پتھر کے بت میں تبدیل ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے اس کے تمام احساسات ختم ہو چکے تھے۔ ایک دن اچانک وہ اپنی پہلی حالت میں واپس آ گیا تو حیران ہو کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ وہ اپنے ہی محل کے ایک کمرے میں پڑا ہوا تھا۔ پھر اس کو باہر سے چیخنے کی دردناک آوازیں آنے لگیں۔ اُس نے دروازے کے سوراخ سے آنکھ لگا کر باہر دیکھا تو دو آدمی زمین پر پڑے تڑپ رہے تھے۔ پھر اُن کی چیخیں بند ہوئیں تو پانی کی برسات شروع ہو گئی۔ ان دونوں آدمیوں کی لاشیں ایک دم سے غائب ہو گئیں۔

پھر شہزادے کو یاد آنے لگا کہ وہ تو اپنی فوج کے ساتھ ایک میدان میں جمع تھے، جب فضا بادلوں سے بھر گئی اور پھر اسی طرح پانی برسا۔ اس کے بعد کیا ہوا، یہ شہزادے کو معلوم نہیں تھا۔ اُس نے زور سے دروازے پر لات ماری تو وہ ٹوٹ کر باہر جا گرا۔ شہزادہ تیزی سے قریبی بستی میں داخل ہوا۔ یہاں لوگ آپس میں گزرے ہوئے واقعات کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ سب کے ساتھ ایک جیسا عمل ہوا تھا۔ انھوں نے کالے بادلوں کو برستے دیکھا تھا اور اس کے بعد اب ہوش میں آئے تھے۔

بہادر شہزادے کے بوڑھے مشیروں نے اُسے جادوگروں کے حملے کے بارے میں بتایا تو شہزادہ سوچنے لگا کہ آخر وہ ہماری بستیاں چھوڑ کر کہاں بھاگ گئے ہیں؟ یہ بات کسی کی سمجھ میں نہ آئی۔ شہزادے کو وقت گزرنے کا کوئی احساس نہ ہوا تھا۔ اُس نے اسی وقت اپنے ملک واپسی کا ارادہ کیا، جہاں اُس کا باپ شہزادے کے انتظار میں تھا۔ شہزادے نے اپنے بوڑھے مشیروں سے اس بات کا ذکر کیا تو انھوں نے بہت سارا مال و اسباب اور بہادر فوج کے سپاہی اس وعدے کے ساتھ شہزادے کے ہمراہ روانہ کیے کہ وہ اپنے والدین سے مل کر جلد از جلد واپس آ جائے گا۔ شہزادہ خوشی خوشی بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہو گیا۔ بستیوں کے لوگ دور تک بہادر شہزادے اور اس کی فوج کو چھوڑنے کے لیے گئے۔

 *عقل مند شہزادے کی واپسی* 

حازم جن نے حساب لگا کر عقل مند شہزادے کو اُس کے بھائیوں کی مہمات کے بارے میں بتایا۔ حازم جن کی زبانی اپنے بھائیوں کی سلامتی کے بارے میں سن کر وہ مطمئن ہو گیا۔ اب شہزادہ اپنے ملک کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ وقت کے لحاظ سے اُسے اپنے ملک سے نکلے ہوئے چھے مہینے ہو گئے تھے۔

حازم جن نے آئینے پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری تو شعاعیں نکلنے لگیں۔ بادشاہ سلامت کے محل کا منظر سامنے تھا، جہاں کوئی اور شخص تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ شہزادے نے ہنس کر کہا: ”حازم جن! لگتا ہے تمھارے طلسمی آئینے کی یادداشت کمزور ہو گئی ہے؟“

حازم جن نے آئینے میں جھانکتے ہوئے جواب دیا: ”حضور! یہ آئینہ غلط نہیں بتاتا۔ یہ آپ کے والد حضور کا ہی محل اور تخت و تاج ہیں۔“

حازم جن کی بات سن کر شہزادے نے غور کیا تو اُسے بادشاہ سلامت کا وزیر تخت پر بیٹھا نظر آیا۔ ”یہاں بھی معاملہ گڑ بڑ لگتا ہے، حازم!“

حازم نے ادب سے جواب دیا: ”حضور! میں طلسمی آئینے سے کہتا ہوں کہ وہ آپ کے والد صاحب کو ظاہر کرے۔“

حازم نے پھر طلسمی آئینے پر پھونک ماری تو ایک جنگل کا منظر سامنے آ گیا، جہاں ایک بوڑھا آدمی لکڑیاں کاٹ رہا تھا اور ایک بوڑھی عورت آٹا گوندھنے میں مصروف تھی۔ شہزادے نے غور کیا تو وہ اس کے ماں باپ تھے۔ حازم جن نے اپنی آنکھیں بند کیں اور گزرے ہوئے واقعات کے بارے میں شہزادے کو بتانے لگا۔ شہزادہ اس کی باتیں سن کر پیچ و تاب کھانے لگا۔ اُس نے اُسی وقت حازم کو جنوں کی فوج تیار کرنے کا حکم دیا اور خود اڑن قالین پر بیٹھ گیا۔ یہ قافلہ اُس جنگل کی طرف روانہ ہو گیا، جہاں بادشاہ سلامت اور ملکہ شہزادوں کے انتظار میں اپنی زندگی کے دن گزار رہے تھے۔

*جاری ہے ۔۔۔۔////*
🌸♥️🌼🌹