*آخری قسط*
🥰
*شہزادوں کا امتحان*
*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*
*آخری قسط نمبر 13*
*آخری امتحان کی تیاری*
غدار وزیر بڑے مزے سے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے خوشامدی وزیر اور دوسرے درباری بیٹھے ہوئے اُس کی تعریفیں کر رہے تھے۔ اُس نے محل میں ایک بڑا سا قید خانہ بنا دیا تھا، جس میں بادشاہ کے وفاداروں کو قید کیا ہوا تھا۔ اُن کو خوف ناک سزائیں دی جاتی تھیں۔ اب بھی قید خانے سے اُن کی چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔
غدار وزیر کا ایک ہی بیٹا تھا، جو شہزادوں کا لباس پہنے ہوئے باہر باغ میں سیر کر رہا تھا۔ سیر کرتے کرتے وہ باغ کے مالیوں کو ڈانٹ رہا تھا اور اُن کو نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اچانک ایک طرف سے تیز ہوا آنے لگی۔ سب کی نظریں اُس جانب اُٹھ گئیں۔ اسی وقت ایک سفید گھوڑا لمبی چھلانگ لگا کر باغ میں داخل ہوا۔ اس گھوڑے پر ایک خوب صورت نوجوان سوار تھا۔ گھوڑے کے رکتے ہی ہوا بند ہوگئی۔
باغ کے مالیوں نے فوراً پہچان لیا۔ وہ اُن کے بادشاہ کا گم شدہ شہزادہ تھا، جسے وہ سب رحم دل شہزادہ کہتے تھے۔ شہزادے کے ہاتھ میں نکلی تلوار دیکھ کر غدار وزیر کا بیٹا دل میں ڈرنے لگا۔
"کون ہو تم اور تمہیں یہاں آنے کی جرات کیسے ہوئی؟" اُس نے رحم دل شہزادے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کی بات کا جواب ایک بوڑھے مالی نے دیا: "یہ ہمارے بادشاہ کا شہزادہ ہے، یہ رحم دل شہزادہ ہے۔ یہ تم اور تمہارے باپ جیسے ظالم آدمیوں سے ہماری جان چھڑائے گا!"
یہ کہتے کہتے بوڑھے مالی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ شہزادہ گھوڑے سے نیچے اُترا تو مالی نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ باقی ملازم بھی شہزادے کو اپنے درمیان دیکھ کر سسکیاں بھرنے لگے۔ پھر شہزادے کو پورے واقعے کے بارے میں بتایا گیا۔
اس دوران میں غدار وزیر کا بیٹا بھاگ کر محل میں داخل ہو گیا تھا اور اس نے اپنے باپ کو شہزادے کی آمد کی اطلاع دے دی۔ غدار وزیر نے اپنی فوج کو شہزادے کی گرفتاری کا حکم دیا۔ غدار وزیر کے ساتھ ملا ہوا فوج کا ایک دستہ باغ میں پہنچا تو اتنی دیر میں شہزادے کی باقی فوج بھی پہنچ چکی تھی۔
غدار وزیر بھاگ کر محل کی چھت پر چڑھ گیا، تا کہ وہاں سے شہزادے کی گرفتاری کا منظر دیکھ سکے۔ اس وقت اسے ایک جانب سے جنوں کی فوج محل کی طرف آتی دکھائی دی۔ جب وہ قریب پہنچے تو غدار وزیر نے بادشاہ اور ملکہ کو پہچان لیا۔ اُن کے درمیان عقل مند شہزادہ بیٹھا ہوا تھا اور وہ ایک اڑن قالین پر بیٹھے محل میں اتر رہے تھے۔
غدار وزیر نے جب ہر طرف فوج دیکھی تو وہ دل ہی دل میں اپنے کیے پر نادم ہونے لگا۔ شہزادوں کی واپسی بڑے شان دار طریقے سے ہو رہی تھی۔ غدار وزیر نے بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی اور محل کی چھت سے چھلانگ لگا دی۔ نیچے پانی کا تالاب تھا اور وہ اس میں آ کر گرا۔ تالاب سے نکل کر اس نے محل کی مخالف سمت دوڑ لگا دی، لیکن اب اُس کی بے ایمانی، ظلم اور غداری کے بدلے کا وقت آ گیا تھا۔
اس کی بد قسمتی تھی کہ اس طرف سے بہادر شہزادے کی فوج محل میں داخل ہوئی اور سپاہیوں نے اُسے گرفتار کر لیا۔ تینوں فوجوں کی آمد سے دور دور تک محل میں رونق لگ گئی تھی۔ بادشاہ سلامت دوبارہ اپنے تخت پر بیٹھ چکے تھے۔ اگلے دن تک رعایا کو بادشاہ اور شہزادوں کی واپسی کی خبریں مل گئی تھیں۔ سارے ملک کے لوگ دارالحکومت میں جمع ہو رہے تھے، جہاں بادشاہ کی واپسی اور غدار وزیر سے نجات کا جشن منایا جا رہا تھا۔
اس جگہ عدالت بھی لگ چکی تھی اور مجرموں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے قاضی صاحب تشریف لا چکے تھے۔ انھوں نے ملک کے قانون کے مطابق غدار وزیر اور اس کے ساتھیوں کے لیے سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا گیا کہ سزائے موت سے پہلے ان سب کا منہ کالا کر کے سارے شہر میں گھمایا جائے۔
قاضی صاحب کا فیصلہ سن کر لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ فوراً ہی موٹے تازے گدھوں کا بندوبست کیا گیا۔ پھر غداروں کے منہ پر سیاہی مل کر انھیں کالا کیا گیا۔ اس کے بعد انھیں زبردستی گدھوں پر بٹھایا گیا۔ جیسے ہی وہ گدھوں پر بیٹھے، بچے ڈنڈے لے کر اُن کے پیچھے دوڑ پڑے۔ یہ عبرت ناک منظر دیکھنے کے قابل تھا۔ جہاں سے گدھے گزرتے، لوگ تالیاں بجا بجا کر غداروں پر لعنت بھیجتے۔ لوگ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اپنے ملک اور قوم کے ساتھ غداری کرنے والوں کا یہی انجام ہونا چاہیے۔
کافی دیر تک یہ تماشا ہوتا رہا۔ پھر شام کے وقت ان کو پھانسی گھاٹ لے جا کر پھانسی دے دی گئی اور اس طرح ملک غداروں کے وجود سے پاک ہو گیا۔
بادشاہ اور شہزادوں کی آمد کی خوشی میں ایک سال تک جشن منایا جاتا رہا۔ اس کے بعد بادشاہ نے تینوں شہزادوں کی شادیاں اپنے ملک کی تین خوب صورت اور سمجھ دار لڑکیوں سے کر دیں۔ شہزادے اپنے اپنے امتحان میں کامیاب ہو چکے تھے، لہٰذا بادشاہ نے آخری فیصلہ کرتے ہوئے شہزادوں کے ملکوں کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کیا اور حکومت کی ذمہ داریاں تینوں شہزادوں کے حوالے کر کے باقی زندگی اللہ کی یاد میں گزارنے لگا۔
کہتے ہیں کہ ان تینوں شہزادوں نے اتفاق اور محبت سے بہت طویل عرصہ تک حکومت کی اور بالآخر اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے، جس کی تیاری سب سے زیادہ ضروری ہے، کیوں کہ ہر زندہ شے کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے!
آئیے! ہم سب بھی اپنی آخرت کی فکر کریں اور اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی بسر کر کے سب سے بڑے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کی مہم ابھی سے شروع کر دیں!
کیا آپ کو یہ سلسلہ پسند آیا؟
کیا ہم اس طرح کی مزید اصلاحی اور سبق آموز کہانیاں شروع کریں؟
اپنی قیمتی رائے ضرور دیں 👇