یقیناً آپ نے بزرگوں کو اکثر کام کرتے دیکھا ہوگا کبھی رکشہ چلاتے، کبھی روڈ کے کنارے ٹھیلہ لگا کر کھڑے ہو کر پھل یا سبزی وغیرہ بیچتے ہوۓ، لاغر اور کمزور جسم کبھی تپتی دھوپ میں تو کبھی کڑکتی ٹھنڈ میں محنت و مشقت کر رہا ہوتا ہے، کیا کبھی آپ نے ان سے پوچھا...!! کہ وہ یہ کام کیوں کر رہے ہیں؟؟؟ کیا ان کو شوق ہے کام کرنے کا، کیا ان کا کوئ بیٹا نہیں ہے؟ یا کیا وہ گھر میں آرام سے سونا بیٹھنا نہیں چاہتے؟ کیا وہ یہ کام خوشی سے کر رہے ہیں؟ یا مجبوری میں یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا کہ مجبوری میں_
یہ کہانی بھی ایسے ہی ایک بزرگ کی ہے جو کہ رکشہ چلاتے تھے شدید گرمی کے دنوں میں تیز دھوپ میں وہ رکشہ چلا رہے تھے ایک کمزور جسم جو خود کو سنبھالنے کی بھی سکت نہ رکھتا تھا وہ رکشہ چلاتے ہوۓ جا رہا تھا
 وہ بہت ضعیف تھے اور ان کا رکشہ بھی کچھ ٹوٹا ہوا تھا کبھی کبھی خوف محسوس ہوتا تھا کہ کہیں رکشہ پلٹ نہ جاے_
میں نے ان سے پوچھا دادا آپ رکشہ کیوں چلاتے ہیں؟ کیا آپ کے گھر میں اور کوئ کمانے والا نہیں ہے؟ یا کیا آپ کے بیٹے نہیں ہیں؟؟ ان بزرگ نے جو جواب دیا وہ سن کر دل پہ ایک چوٹ سی لگی دل بے اختیار ان بزرگ کے لیۓ غمزدہ ہو گیا انہوں نے غالباً یہ بتایا کہ ان کے تین یا چار بیٹے ہیں، سب کی شادیاں ہو گئ ہیں سب اپنے بیوی بچوں میں مصروف ہیں ہمیں کوئ نہیں پوچھتا وہ اپنی بیویوں کی سنتے ہیں اور انہیں ہماری کوئ پرواہ نہیں، بیٹی کی بھی شادی ہو گئ ہے وہ اپنے گھر رہتی ہے یہ بزرگ اور ان کی بیوی اکیلے ہیں وہ کہنے لگے ہمارے خرچے کون پورے کرے.. ؟؟ اپنے خرچے پورے کرنے کے لیۓ، پیٹ بھرنے کے لیۓ، دوا علاج کے لیۓ کمانا ہی پڑتا ہے اس عمر میں بھی گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے مشقت اٹھانی پڑتی ہے_
سن کر افسوس تو بہت ہوا لیکن اب کر بھی کیا سکتی تھی! 
 بہر حال ہمیں ایسے بزرگوں کا خیال کرنا چاہیۓ اور جب کبھی آپ ایسے لوگوں سے کسی معذور یا کسی بزرگ سے کوئ لین دین کریں تو ان کو کچھ زیادہ اجرت دے دیا کریں اس سے ان کی تکلیف تو کم نہیں ہوگی ان کا کام کرنا تو بند نہیں ہوگا لیکن ان کی تھوڑی سی مدد ضرور ہو جاے گی_
افسوس ہے ایسی اولادوں پر جن کے لیۓ وہی ماں باپ بوجھ بن جاتے ہیں جنہوں نے ان کے لیۓ اپنی ساری خواہشات کو قربان کر دیا، خود پر ان کو فوقیت دی، ان کا فیوچر ان کا مستقبل اچھا بنانے کی فکر کی، ان کو اچھا کھانے اچھا پہنانے اچھی تعلیم اور اچھی زندگی دینے کی فکر کی_
اور جب والدین عمر کے اس نازک حصے میں پہنچتے ہیں تو وہی بیٹے اپنے والدین کے سارے احسانات کو بھلا کر، ان کی تکلیفوں سے غافل ہو کر، اپنی زندگیوں میں اپنے بیوی بچوں میں مصروف ہو جاتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ یہ غفلت نہیں بے حسی ہے، یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان پر بھی یہی وقت آے گا وہ بھی ایک دن عمر کے اسی حصے میں ہونگے، دنیا مکافات عمل ہے، جو کیا ہے وہ لوٹ کر آپ تک ضرور پہنچے گا آپ کے بچے بھے آپ کے ساتھ وہی سلوک کریں گے اس وقت پچھتاوا ہو گا لیکن تب کوئ فائدہ نا ہوگا تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی_

مجھے تھکنے نہیں دیتا ہے ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے....

💫بنت شہاب✍🏻