*جہلا کی مفتیانہ موج مستی*


عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ:

إن الله لا يقبضُ العلمَ انتزاعًا ينتزعُه من الناسِ، ولكنْ يقبضُ العلمَ بقبضِ العلماءِ، حتى إذا لم يُبقِ عالمًا اتخذَ الناسُ رؤوسًا جُهَّالًا، فسُئلوا فأفتَوا بغير علمٍ، فضلُّوا وأضلُّوا

(صحیح بخاری: 100)

قربِ قیامت کی ایک لرزہ خیز نشانی یہ بھی ہے کہ جہلا فتویٰ دینے بیٹھ جائیں گے، ان کے لیے مسند علم بچھا دی جائے گی، وہ مفتی کہلائیں گے، اور حیرت یہ کہ عوام ان کی جانب دوڑتی ہوئی آئیں گی، جیسے ہدایت کی آخری کرن وہی ہوں یہ فتوے دینے والے خود بھی گم راہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گم راہ کریں گے۔

حدیث میں جُہّال کا لفظ محض لاعلمی کا مفہوم نہیں رکھتا بلکہ ایک عجیب حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو علم کے ظاہری لبادے میں چھپے ہوئے ہوں گے، مگر ان کے دل علم سے خالی ہوں گے ان کے چہروں پر عقل کی روشنی نہیں بلکہ شہرت کا خمار چمک رہا ہوگا۔

پہلے زمانوں کے جہلا علم کی صورت اختیار کرتے تھے جبہ و عمامہ اوڑھ کر سادہ دلوں کو دھوکہ دیتے تھے مگر اب زمانہ الٹ گیا ہے آج جہلا نے دین کو جدید تعبیر کا نام دے کر مغربی فیشن میں لپیٹ لیا ہے داڑھی اور عمامہ اب بوجھ سمجھے جاتے ہیں، اور ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھے مفتی جدید ٹائی لگا کر دین کو عقلیت کے ترازو میں تولتے ہیں۔

یہ وہی فتنے ہیں جن سے نبی کریم ﷺ نے امت کو بارہا خبردار کیا تھا فرمایا گیا کہ ایک وقت آئے گا جب علم تو موجود ہوگا، مگر اہل علم باقی نہیں رہیں گے علم کتابوں میں قید ہو جائے گا، مگر بصیرت مر جائے گی ایسے میں زبان کے بازیگر اور عقل کے ٹھیکیدار دین کے رہنما بنیں گے۔


اب معاملہ یہ ہے کہ جو کل تک مغربی یونیورسٹیوں سے لبرل تھیوری پڑھاتے تھے، آج وہی قرآن کی تفسیر کرنے بیٹھے ہیں جو کل تک مذہب کو قدامت کہہ کر ٹھکراتے تھے، آج وہ نرم اسلام کے نمائندے ہیں، اور افسوس! ادارے، میڈیا اور عوام سب ان کے سحر میں مبتلا ہیں۔

یہ وہ زمانہ ہے جب دجال ابھی ظاہر نہیں ہوا، مگر اس کے سپاہی سرگرم ہیں وہ سنت کے محافظ بن کر سنت پر ہی وار کرتے ہیں وہ روایت کی زبان میں بغاوت کا پرچار کرتے ہیں ان کے الفاظ میں شیرینی ہے مگر نیتوں میں زہر ہے۔


علماء کی رخصتی کے ساتھ علم کی روح بھی اٹھ چکی ہے، اب باقی ہیں بس الفاظ، عنوانات، اور خودنمائی کے طوفان ان کے فتویٰ علم پر نہیں، لائکس اور فالوورز پر مبنی ہیں اور امت ان کے پیچھے بے خبر چل رہی ہے جیسے پروانے آگ کی طرف۔

یہی وہ گھڑی ہے جس کا رسولِ اکرم ﷺ نے اشارہ دیا تھا، فتویٰ علم سے نہیں، ریٹنگ سے دیا جا رہا ہے قرآن تلاوت کے لیے نہیں، حوالہ دینے کے لیے پڑھا جا رہا ہے اور امت، علم کے نام پر جہالت کے شکنجے میں جکڑتی جا رہی ہے۔

یہ فتنہ فقط لاعلمی کا نہیں، بلکہ علم کے نام پر گمراہی کا فتنہ ہے

اور یہی اصل خطرہ ہے کہ جہلا جب علم کی مسند پر بیٹھ جائیں تو قیامت کا دروازہ کھلنے میں دیر نہیں رہتی۔


نوٹ : یہ تحریر فقط ان مفتیوں کے لیے ہے جو مفت سے ہیں باقی جو مفتیان حقہ میں ان پر دل و جان وارنے کو تیار ہوں اور ہمیشہ انکی تائید میں کھڑے ہونے کا عزم کرتا ہوں، مجھے غلا فقط ان مفتیوں سے ہے جو چند ڈولر کے لیے اپنے ضمیر کو بیچ دیتے ہیں، اور حق سے روگردانی کا ارتکاب کرتے ہیں، اور انکے فتاوی میں انانیت کا علم نظر آتا ہے اور حقیقت حال یہ ہے کہ جب ان سے فتاوی کے علل کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو ایک دلیل دے کر چپ کرنے کی بات کرتے ہیں جبکہ حدیث کی بات کی جائے تو کہتے ہیں فلاں نے ایسا لکھا ہے فلاں نے ایسا لکھا ہے، مجھے ایک بات سمجھ آتی ہے کوئی اپنے وقت کا کچھ بھی ہو اگر اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا تو یقیناً اس پر زبان بولے گی قلم لکھے گا، اور اس عبارت کو دیکھا جائے گا کس زمرے کے تحت لکھی گئی ہے، بھائی آپ سب کچھ کہو لیکن یاد رکھو ہم صرف حق کو قبول کریں گے مجھے فرق نہیں پڑتا کوئی کیا کہتا ہے، اللہ کریم ہمیں علماء حقہ کی تائید کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔


*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*