اوور تھنکنگ بھی عجیب چیز ہے۔
بات چھوٹی سی ہوتی ہے… مگر ہمارا دماغ اس پر پوری کہانی بنا لیتا ہے۔ 
کسی نے “اوکے” لکھ دیا؟
بس پھر کیا تھا!
“اس نے صرف اوکے کیوں لکھا؟ پہلے تو ایموجی بھی بھیجتا تھا… کیا ناراض ہے؟ کیا میں نے کچھ غلط کہا؟ کیا دوستی ختم؟”
ادھر سامنے والا بندہ بس مصروف ہوتا ہے، اور اِدھر ہم پوری کہانی لکھ چکے ہوتے ہیں۔
اوور تھنکر وہ مخلوق ہے جو رات کو سونے لگے تو دماغ کہتا ہے:
“آؤ پانچ سال پرانی بے عزتی یاد کریں!”
اور ہم کمبل اوڑھ کر سوچتے رہتے ہیں کہ اُس وقت ہمیں کیا جواب دینا چاہیے تھا۔
نیند بیچاری دروازہ کھٹکھٹاتی رہتی ہے اور ہم ماضی کی پریس کانفرنس کرتے رہتے ہیں۔
ہم بازار جائیں تو بھی اوور تھنکنگ ساتھ جاتی ہے۔
دکاندار نے ذرا سا گھور کر کیا دیکھ لیا،
ہم سوچنے لگتے ہیں:
“شاید میں عجیب لگ رہا ہوں… شاید کپڑے ٹھیک نہیں… شاید بال خراب ہیں…”
حالانکہ بیچارہ دکاندار صرف یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ “یہ گاہک لے گا بھی یا صرف پوچھ کر چلا جائے گا؟” 
اور اگر کسی نے ذرا سا سنجیدہ لہجے میں کہا:
“تم سے ایک بات کرنی تھی…”
بس!
پھر دماغ دو سو کی اسپیڈ سے دوڑتا ہے۔
ہم خود ہی جج، وکیل اور مجرم بن جاتے ہیں۔
فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں اور اپیل بھی خود ہی دائر کر دیتے ہیں۔
اوور تھنکنگ کا ایک خاص شعبہ “واٹس ایپ تحقیقاتی ادارہ ” بھی ہے۔
کسی نے میسج دیکھا مگر جواب نہیں دیا؟
“آن لائن تھا… پھر آف لائن ہو گیا… کس سے بات کر رہا ہوگا؟”
ہم ایسے تجزیے کرتے ہیں جیسے خفیہ ایجنسی کے سربراہ ہوں۔
حالانکہ سامنے والا بے خبر اپنی زندگی میں مصروف ہوتا ہے…
اور ہم ذہنی عدالت لگا چکے ہوتے ہیں
پھر آتا ہے اگر کا سلسلہ ۔
اگر کل میں لیٹ ہو گیا تو؟
اگر سب میرے خلاف ہو گئے تو؟
اگر میں ناکام ہو گیا تو؟
حالانکہ ابھی کچھ ہوا ہی نہیں ہوتا، مگر ہم پہلے ہی دل کی دھڑکن تیز کر چکے ہوتے ہیں۔
یعنی حادثہ مستقبل میں ہونا ہے، مگر پریشانی آج مکمل کر لی۔
اوور تھنکنگ ہمیں بظاہر سنجیدہ اور باشعور ہونے کا احساس ضرور دلاتی ہے،
مگر حقیقت میں یہ دماغ کی وہ مشین ہے جو ایک ہی بات کو بار بار پیش کرتی ہے۔
مسئلہ حل کم ہوتا ہے، سردرد زیادہ ہو جاتا ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا ہمارے بارے میں اتنا نہیں سوچتی جتنا ہم خود سوچ لیتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں سب ہمیں دیکھ رہے ہیں، ہمارا جائزہ لے رہے ہیں، تجزیہ کر رہے ہیں…
حالانکہ زیادہ تر لوگ اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں۔ 
لیکن سچ یہ ہے کہ اوور تھنکنگ ہمیں حقیقت سے زیادہ تھکا دیتی ہے۔
ہم مسائل سے کم، اپنے خیالات سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔
زندگی اتنی پیچیدہ نہیں جتنی ہم بنا لیتے ہیں۔
کبھی کبھی “اوکے” کا مطلب واقعی صرف “اوکے” ہی ہوتا ہے۔
لہٰذا دماغ کو بھی آرام دے دیا کریں۔
ہر خاموشی دشمنی نہیں ہوتی،
ہر تاخیر سازش نہیں ہوتی،
اور ہر سنجیدہ چہرہ ہمارے خلاف نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی واقعی نیٹ سست ہوتا ہے…
اور کبھی کبھی ہمارا ذہن ضرورت سے زیادہ تیز 

اس لیے ضروری ہے کہ اس نہ ختم ہونے والے سلسلے کو کبھی کبھار روک دیا جائے۔
ہر خیال پر یقین کرنا لازم نہیں،
ہر اندیشے کو حقیقت مان لینا ضروری نہیں ہے !

ازقلم : شیخ فاطمہ ابوالکلام 🥀