*​علماء کا وجود چراغِ راہ اور بقائے ملت کا ضامن*

​انسانی معاشرے میں ہر طبقے کی اپنی اہمیت ہے، لیکن طبقۂ علما کی مثال اس مضبوط ستون کی ہے جس پر پورے دین اور اخلاق کی عمارت کھڑی ہے، یہ سچ ہے کہ علما بھی انسان ہیں، ان سے بھی خطا ہو سکتی ہے، ان کے اندر بھی بشری کمزوریاں پائی جا سکتی ہیں، کیونکہ عصمتِ کاملہ صرف انبیائے کرام علیہم السلام فرشتگان عظام کا خاصہ ہے، لیکن اس حقیقت کو بنیاد بنا کر پورے طبقۂ علما کی خدمات سے نظریں چرا لینا فکری بددیانتی اور سراسر ناانصافی ہے، یہی وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو ہمارے بنجر ہوتے ہوئے مسلم سماج کو صالح اور باکردار افراد فراہم کرتے ہیں، یہ مدارس، مکاتب اور مساجد کے ذریعے ہماری نئی نسل کے ایمان، عقیدے اور پاکیزہ اخلاق کی آبیاری کرتے ہیں، اگر خدانخواستہ یہ نظامِ مدارس دم توڑ دے، اگر مساجد کے منبر و محراب خاموش ہو جائیں، اور اگر علما کی یہ شبانہ روز تربیتی کاوشیں رک جائیں، تو یقین جانیے کہ چند ہی برسوں میں معاشرہ فکری انتشار، الحاد اور عملی بے راہ روی کی ایسی دلدل میں جا گرے گا جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی، کفریہ کلمات کا عام ہونا، حیا کا جنازہ نکلنا، خاندانی نظام کا بکھرنا اور دینی شعور کا کلیتاً خاتمہ یہ وہ ہولناک انجام ہے جو کسی بھی ایسے معاشرے کا مقدر بن جاتا ہے جہاں سے روحانی رہنمائی کا سورج غروب ہو جائے۔
​مدارس اور مکاتب دراصل ایمان کی وہ نرسریاں ہیں جہاں کچے ذہنوں کو معرفتِ الٰہی سے روشناس کرایا جاتا ہے، مساجد وہ تربیت گاہیں ہیں جہاں انسانیت کی کردار سازی ہوتی ہے، اور علما اس پورے نظام کے وہ معمار ہیں جو خاموشی سے امت کی فکری سرحدوں کی پہرہ داری کر رہے ہیں، جب رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں کوئی عالمِ دین آپ کی چوکھٹ پر دستک دیتا ہے، تو اسے محض ایک سائل نہ سمجھیں، وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک عظیم اجتماعی امانت کی بقا کے لیے آپ کے پاس آتا ہے، وہ اپنے گھر کی آسائشوں، اپنوں کی قربت اور سکون کو قربان کر کے، تپتی دھوپ اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے صرف اس لیے نکلتا ہے کہ دین کی شمع کسی گھر میں بجھنے نہ پائے، وہ سال بھر میں صرف ایک بار آپ کے دروازے پر آتا ہے، اس لمحے اسے حقارت سے دیکھنا یا سائل سمجھنا خود اپنے ایمان کی تذلیل ہے، وہ آپ سے چندہ نہیں مانگ رہا ہوتا، بلکہ آپ کو اس خیرِ جاریہ میں شریک ہونے کی دعوت دے رہا ہوتا ہے جو آپ کی آخرت کا توشہ ہے۔
​اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو وسعت دی ہے، تو ان حضرات کی خدمت کرتے ہوئے فراخ دلی کا مظاہرہ کیجیے، مالی تعاون کے ساتھ ساتھ انہیں وہ عزت و احترام بھی دیجیے جس کے یہ حقدار ہیں، کیونکہ عزت افزائی سے خدمت کا جذبہ توانا ہوتا ہے، اور اگر آپ استطاعت نہیں رکھتے، تب بھی آپ کے انکار کا انداز اتنا مہذب اور باوقار ہونا چاہیے کہ کسی خادمِ دین کی دل شکنی نہ ہو، یاد رکھیے کہ اگر معاشرے میں علما کی توقیر ختم ہو گئی، تو آنے والی نسلیں اس راستے پر چلنے سے کترائیں گی، جب دین کی خدمت بے توقیری اور معاشی عدم تحفظ کا استعارہ بن جائے، تو کوئی بھی والدین اپنے بچے کو عالم بنانے کا خطرہ مول نہیں لیں گے، نتیجہ یہ ہوگا کہ مساجد آئمہ سے خالی ہو جائیں گی، مدارس ویران ہو جائیں گے اور ہماری نسلیں یتیم ہو جائیں گی، دنیا کے کسی مذہب میں مذہبی پیشوا اس طرح در در جا کر اپنی درسگاہوں کے لیے تگ و دو نہیں کرتے، یہ ہمارے علما کا اخلاص ہے کہ وہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر دین کی بقا کے لیے نکلتے ہیں، لہٰذا ان کی قدر کیجیے، کیونکہ ان کی بقا میں ہی آپ کے ایمان، آپ کی نسلوں اور آپ کے پاکیزہ معاشرے کی بقا پوشیدہ ہے۔

                *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*