(44) مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نفرت کا انجام — ظلم کے خلاف اتحاد اور انصاف کی پکار
----------
آج کے سماجی و سیاسی منظرنامے پر ایک ایسی کڑوی مگر ناگزیر حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ اب اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
ذات، مذہب اور مفاد کے نام پر ظلم و جبر نے انسانیت کی سرحدیں پامال کر دی ہیں۔
یہ کسی ایک فرد یا واقعے کا ردِعمل نہیں، بلکہ منظم اور منصوبہ بند حملہ ہے جو انسانیت کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔
کسی ایک شخص کے جرم یا قصور کو بہانہ بنا کر پورے خاندان، برادری یا آبادی کو سزا دینا، گھروں کو بلدوز کرنا جلا دینا، املاک کو برباد کرنا اور بے قصوروں کی زندگیوں کو اجاڑ دینا — یہ سب محض وقتی حادثے نہیں، بلکہ ایک سماجی سانحہ ہیں۔
ایسی کارروائیوں سے صرف مادی نقصان نہیں ہوتا، بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، روزگار، تعلیم، اور آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔
جب فرقہ وارانہ طاقتیں بلاجواز قوت کا استعمال کرتی ہیں تو انصاف کے تقاضے پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔
ایسا معاشرہ پھر امید کے بجائے خوف اور نفرت کے سائے میں سانس لینے لگتا ہے۔
یہ سب کچھ محض سیاسی واقعات نہیں — بلکہ ہماری قومی روح پر لگنے والے گہرے زخم ہیں۔
ایسے حالات میں اتر پردیش کے معروف و مظلوم رہنما جناب اعظم خان کی وہ صدا دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے:
> “ہم سے گھِڑنا کی بھی ایک حد ہونی چاہیئے… صرف ایک ووٹ کے لیے پوری پوری آبادیاں، پورے پورے شہر نیست و نابود کر دیئے جائیں، پورے پورے خاندان فنا و برباد کر دیئے جائیں…”
اُن کے لہجے میں وہی صدمہ، حوصلہ اور سچائی جھلکتی ہے جو سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
ہمارا وطن ایک تہذیبی چمن ہے _ جہاں مختلف زبانیں، مذاہب، مسالک اور ثقافتیں گلدستۂ ہندوستان کی خوشبو کو مکمل کرتی ہیں۔
لیکن جب سیاسی مفاد اور فرقہ وارانہ اشتعال کو تقویت ملتی ہے تو یہ رنگا رنگ امتزاج نشانِ ہدف بن جاتا ہے۔
ایک ووٹ کے حصول یا صرف 'کرسی' برقرار رکھنے کے لالچ میں کسی آبادی کو نشانہ بنانا، ایک پوری بستی کو خوف کے سائے میں دھکیل دینا — یہ عمل صرف انسانی حقوق کی پامالی نہیں، بلکہ آئین کی روح اور قومی یکجہتی کی بھی توہین ہے۔اگر ظلم کو ریاستی یا غیر ریاستی طاقتوں کے ذریعے منظم کیا جائے تو اس کا انجام نسل در نسل نفرت، ہجرت، اور انتشار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
یاد رکھیں!
ظلم دائمی نہیں ہوتا، اور ظالم ہمیشہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔
آج ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم نفرت، انتقام اور فرقہ واریت کو اپنی قوم کی پہچان نہ بننے دیں۔
جناب اعظم خان کا پیغام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ “حد” ضروری ہے — چاہے وہ برداشت کی ہو یا انصاف کی،
مگر انتقام میں ایسی کوئی حد نہ ہو جس سے پورا معاشرہ تباہ ہو جائے۔
آئیے!
اپنے محلّوں، اپنی عبادت گاہوں، اپنے تعلیمی اداروں اور اپنے انتخابی شعور کے ذریعے وہ پیغام دیں جو نفرت کو شکست دے، انصاف کو مضبوط کرے، اور امن کو پروان چڑھائے۔
ظلم کا مقابلہ خاموشی سے نہیں، بلکہ شعور، قانون اور ایمان کے ساتھ کرنا ہوگا۔
اِن شاء اللہ، نفرت منہ کی کھائے گی، اور انسانیت ہی جیتے گی۔
بقلم: محمودالباری mahmoodulbari342@gmail.com