وہ مہینہ جو انسان کو خود اُس سے ملواتا ہے

رمضان آتا ہے تو بس کیلنڈر نہیں بدلتا… انسان کا اندر بھی اپڈیٹ مانگتا ہے۔
سارا سال ہم خود کو مصروف کہتے رہتے ہیں—اسائنمنٹ، کام، موبائل، اسٹیٹس، ریِلز… لیکن رمضان آکر پوچھتا ہے:
“اصل میں تم ہو کون؟ اور بن کیا رہے ہو؟”

یہ مہینہ ہمیں ہماری اصلیت دکھاتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں بھوک برداشت نہیں ہوتی، مگر روزہ رکھ کر پتا چلتا ہے کہ ہم تو کافی مضبوط نکلے۔
ہم کہتے ہیں غصہ کنٹرول نہیں ہوتا، مگر روزے میں زبان کو بریک لگانی پڑتی ہے۔
یعنی رمضان ہمیں ہماری چھپی ہوئی پاور دکھاتا ہے—وہ پاور جو ہم نے خود ہی نظر انداز کر رکھی تھی۔

اور سچ بتائیں…
افطار سے دس منٹ پہلے جو صبر ہوتا ہے نا، وہ پورے سال نہیں ملتا! 😅
وہ لمحہ انسان کو سکھاتا ہے کہ تھوڑا رک جانا بھی جیت ہوتا ہے۔

رمضان صرف عبادت کا شیڈول نہیں، یہ لائف کا ری سیٹ بٹن ہے۔
یہ مہینہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم صرف کھانے، سونے اور اسکرول کرنے کے لیے نہیں بنے۔
ہم میں ہمت بھی ہے، ضبط بھی ہے، اور بدلنے کی صلاحیت بھی ہے۔

سحری کی خاموشی ہو یا تراویح کی قطاریں—ان لمحوں میں انسان خود سے بات کرنے لگتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ میں کیسا ہوں؟
میرا رویّہ کیسا ہے؟
میں دوسروں کے لیے کیا ہوں؟

اور یہی سوچ اصل ملاقات ہے—
خود سے ملاقات۔

سماجی طور پر بھی رمضان ہمیں جوڑ دیتا ہے۔
گھر میں سب ایک دسترخوان پر، محلے میں سب ایک وقت پر افطار، امیر غریب سب ایک ہی بھوک کے احساس میں شریک۔
یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ہونا صرف اپنی فکر کرنا نہیں، دوسروں کو محسوس کرنا بھی ہے۔

ٹرینڈز بدلتے رہتے ہیں—کبھی فیشن، کبھی میمز، کبھی چیلنجز۔
مگر رمضان کا سب سے بڑا ٹرینڈ یہی ہے:
خود کو بہتر بنانا۔

جو اس مہینے میں خود سے مل گیا، وہی اصل میں آگے نکل گیا۔
کیونکہ سب سے مشکل ملاقات آئینے کے سامنے ہوتی ہے…
اور رمضان وہ آئینہ ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔

 واللہ اعلم باالصواب 💖