*غرور کس بات کا؟*

ہم بڑے لوگوں کی شان و شوکت دیکھ کر رشک کرتے ہیں،
لیکن ان کی بیماریوں اور تکلیفوں کو نہیں دیکھتے۔

کسی کے دسترخوان پر درجنوں کھانے سجے ہوتے ہیں،
مگر وہ صرف چند لقموں کا محتاج ہوتا ھے۔

کوئی اربوں کا مالک ھے،
مگر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے چار لوگوں کا سہارا چاہتا ھے۔

کوئی جہازوں میں سفر کرتا ھے،
مگر ڈاکٹر اور مشینیں ہر وقت ساتھ ہوتی ہیں۔

کوئی بنگلوں میں رہ کر بھی محفوظ نہیں 
کسی کے پاس دولت کے انبار ہے مگر دل پریشان ہے 

*اور ہم…؟*
ہم اپنے پاؤں پر چل سکتے ہیں،
اپنے ہاتھ سے کھا سکتے ہیں،

اور اللہ کے حکم سے ہمارا کھایا ہوا جسم سے نکل بھی جاتا ھے 
دل بھی پر سکون ہے
دماغ بھی اچھی حالت میں ہے 
جھونپڑا ہی سہی اپنا تو ہے
مال و دولت کم ضرور ہے کسی کا قرض تو نہیں ہے
صحت ہے تندرستی ہے خوش حالی ہے 
یہ کتنی بڑی نعمت ہے، ہم سوچتے بھی نہیں۔

انسان ایک نس کھچ جانے سے بے بس ہو جاتا ھے،
چمچ تک نہیں اٹھا پاتا۔

یہی ہماری اصل حقیقت ھے۔

پھر غرور کیسا؟
فخر کس بات کا
 جتنا مرضی ظاہر سنوار لو،
جب تک اندر کی “میں”ختم نہیں ہوتی،
تکبر کی بو نہیں جاتی۔

آئیے شکر ادا کریں،
توبہ کرتے رہیں،
اور عاجزی اختیار کریں۔
اسی میں عافیت ہے ، خیر ہے ، دنیا و آخرت کی
بھلائی ہے عزیزوں 
عائشہ ❤