قبرستان میں سے گزرتے ہوئے ایسی قبروں کے پاس کھڑے تھے جن میں سوئے ہوئے لوگ زمین کے نیچے اُس سے زیادہ عرصہ گزار چکے ہیں جتنا وہ زمین کے اوپر زندہ رہے تھے۔
سبحان اللہ…
کسی نے شاید 50 سال زندگی پائی،
کسی نے 60 یا 70 سال…
لیکن وہ اپنی قبروں میں 80، 100 بلکہ اس سے بھی زیادہ سال سے موجود ہیں۔
کتنے رمضان اُن پر گزر چکے جب سے انہیں مٹی کے حوالے کیا گیا
کتنی اذانیں ہوئیں
کتنی لیلۃ القدر کی راتیں آئیں اور چلی گئیں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وہ کہیں گے
“اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں نیک عمل کر لوں اُن کاموں میں جو میں چھوڑ آیا ہوں۔”
(سورۃ المؤمنون 23:99-100)
یعنی کہ
اگر انہیں ایک لمحے کے لیے واپس انے کی اجازت ملے تو ان کی خواہش کاروبار مکمل کرنے کی نہیں ہوگی،
نہ دولت کمانے کے لیے کوشش ہوگی
نہ مقام و شہرت کے لیے حسرت ہوگی
ان کی کوشش صرف ایک اور سجدے کے لیے ہوگی۔
ایک اور روزے کے لیے۔
ایک سچے دل سے کہے گئے “استغفراللہ” کے لیے۔
ایک اور رمضان کے لیے۔
ایک اور موقع اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے
اور ہمارے پاس تو وہ موقع اور لمحہ ابھی موجود ہے
ہم اس رمضان کا ایک حصہ گزار چکے ہیں
ہو سکتا ہے ہم اگلا رمضان نہ پا سکیں۔
رمضان صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں۔
یہ لوٹ آنے کا مہینہ ہے۔
اپنے آپ کو درست کرنے کا مہینہ ہے۔
اپنی قبر کو نور سے بھرنے کا مہینہ ہے۔
قبر انجام نہیں آغاز ہے۔
آخرت کا پہلا دروازہ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔ اگر کوئی اس میں کامیاب ہو گیا تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے، اور اگر اس میں ناکام ہو گیا تو بعد کے مراحل زیادہ سخت ہوں گے۔”
(ترمذی 2308)
یہ انسانی زندگی کی سب سے سیریس ٹرانزیشن ہوتی ہے
کیونکہ اس میں موقع نہیں ہوتا اس میں ریہرسل نہیں ہوتی
اس رمضان کو ضائع نہ کریں۔
ایک اضافی رکعت پڑھ لیں۔
کچھ صدقہ دے دیں۔
والدین کو فون کر لیں۔
کسی سے صلح کر لیں۔
اخلاص کے ساتھ روزہ رکھیں۔
جتنا ہو سکے اپنی زبان پہ ذکر جاری رکھیں
کیونکہ ایک دن ایسا رمضان ہمارے اوپر بھی گزرے گا جب ہم مٹی کے نیچے ہوں گے
اور اُس دن آپ صرف ایک اور دن کی تمنا کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مع والسلام دعاگو جمیل خان عظیمی ڈگری
اَللّٰهُمَّ ہمیں اپنی اطاعت میں کئی رمضان نصیب فرما،
اور جب ہمارا وقت آئے تو ہمیں اپنی رضا کی حالت میں بلائے امین ثم امین