*اسلامی دنیا کے ایک عظیم فاتح*
*فاتح روم و شام شمشیر بے نیام*
*سیف من سیوف اللہ*
*حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ*
18 رمضان المبارک 21 ھجری
یوم وفات سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سیف اللہ
خالد بن ولید 592ء میں مکہ میں قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو مخزوم کے سردار ولید بن مغیرہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ بنی مخزوم کی وجہ شہرت جنگ و جدل تھا۔
وہ شروع میں مسلمانوں کے مخالفین میں سے تھے اور احد کی جنگ کا پانسا مسلمانوں کے خلاف پلٹنے میں ان کا اہم کردار تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اسلام قبول کیا اور بقیہ زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی۔
واقدی کا بیان ہے
کہ آپ نے یکم صفر 8ھ کو اسلام قبول کر لیا ۔اور معرکہ مؤتہ میں شامل ہوئے اس روز امارت نہ ہونے کی وجہ سے آپ امیر بنے اور اس روز آپ نے شدید جنگ کی جس کی مثال نہیں دیکھی گئی اور آپ کے ہاتھ سے 9 تلواریں ٹوٹ گئیں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ موتہ میں ان کی بے مثل بہادری پر انہیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔
خالد بن ولید نے 125 کے قریب چھوٹی بڑی جنگوں میں حصہ لیا اور کسی میں بھی شکست نہیں کھائی۔ وہ پیدائشی جنگجو سپاہی تھے۔ انہوں نے عربوں کے لیے جن علاقوں کو فتح کیا وہ اب بھی ان کے پاس ہیں۔ جبکہ باقی عالمی فاتحین نپولین، چنگیز خان، تیمور اور ہٹلر نے جو علاقے فتح کیے وہ ان کی زندگی میں ہی یا بعد میں ان سے چھن گئے۔
آپ کی مشہور جنگوں کے نام یہ ہیں
غزوۂ احد
فتح مکہ
فتح طائف
جنگ موتہ
معرکۂ دومۃ الجندل
جنگ یرموک
جنگ یمامہ
جنگ اجنادین
فتح حلب
جنگ یمامہ
مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّه عنہ نے لڑی تھی جس کی قیادت حضرت خالد بن ولید رضی اللّه عنہ نے کی تھی۔
الجبیلہ میں وادی شعیب الدم (العقرباء) میں یہ جنگ ختم نبوت کے لئے لڑی گئی تھی جس میں خون کی ندیاں بہ گئیں تھی ۔
اس میں 1200 مسلمان شہید ہوئے تھے اور اس جنگ میں 27000 کفار واصل جہنّم ہوئے تھے اس جنگ میں 600 صحابہ اکرام ایسے بھی تھے جو کامل حافظ قرآن تھے
جنگ یمامہ میں جب چند دن فتح نہ ملی اور مخالف طرف سے بھی نعرہ تکبیر کی آواز بلند ہو رہی تھی یہنی منافقوں کی پہچان مشکل تھی تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو فرمان جاری کیا
محمد رسول اللہ کا نعرہ بلند کرو
یمامہ جنگ میں کفار بھی تکبیر پڑھتے تھے
فرق تھا کافر اور مومن میں نعرہ محمدرسول اللہ
مسلمانوں میں یہ تاثر عام پیدا ہو گیا تھا کہ خالد بن ولید ہر جنگ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اس پر خلیفہ ثانی عمر فاروق نے انہیں سپہ سالاری کے درجے سے ہٹادیا کہ فتح اللہ تعالٰیٰ کی مدد سے ہوتی ہے اور امیر کی اطاعت خالد بن ولید کے کردار کا اہم حصہ تھا۔ انہوں نے اسے بخوشی قبول کیا۔
خالد بن ولید کو اپنے انتقال سے پہلے اس چیز کا بہت افسوس تھا کہ وہ میدان جنگ کے بجائے بستر پر اپنی جان دے رہے ہیں۔ آپ 18 رمضان المبارک21ھ 642ء میں شام کے شہر حمص میں وفات پاگئے۔ ان کی قبر مسجد جامعہ خالد بن ولید کا حصہ ہے۔ اپنی وفات پر انہوں نے خلیفۃ الوقت عمر فاروق کے ہاتھوں اپنی جائداد کی تقسیم کی وصیت کی۔
خالد بن ولید کا پیغام:
موت لکھی نہ ہوتو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے۔ جب موت مقدر ہو تو زندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے، زندگی سے زیادہ کوئی نہیں جی سکتا اور موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا۔ دنیا کے بزدل کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میدا ن جہاد میں موت لکھی ہوتی تو اس خالد بن ولید کو موت بستر پر نہ آتی۔۔