`میں نے ایک دن اپنے شوہر کا موبائل ایسے ہی اٹھا لیا۔۔۔`
نیت تفتیش کی نہیں تھی، بس عادتاً اسکرول کرنے لگی۔
انسٹاگرام پر ایک اکاؤنٹ نظر آیا نام تھا: "ریحانۃُ القلب"
اور میرے شوہر کا نام وہاں درج تھا: "عبدِ کم بخت" 😏
چیٹس کھولیں تو واعظ کم، شاعر زیادہ۔۔۔ غزلیں، دل کے ٹکڑے، دعائیں۔۔۔ اور بات یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ
“نکاح آن لائن ہو سکتا ہے؟”
میں نے چیخنے، رونے، برتن توڑنے کے بجائے خاموشی اختیار کی
کیونکہ بعض اوقات خاموشی سب سے خطرناک ہتھیار ہوتی ہے۔
میں نے ایک فرضی اکاؤنٹ بنایا ۔ نام رکھا: "ابنُ القَصّاب"
ڈی پی پر داڑھی، آنکھوں میں غضب بیک گراؤنڈ میں کالاشنکوف
اور بایو میں لکھا "ہم بات کم، کام زیادہ کرتے ہیں"
دو دن بعد اسی آئی ڈی سے شوہر کو میسج کیا
“السلام علیکم
جس ریحانۃُ القلب سے تم دل لگائے بیٹھے ہو
وہ میری زوجہ ہے اور میں وہ شخص ہوں جس کے لیے قبرستان ایک معمولی سی رہائش گاہ ہے”
پھر اس کا پورا شجرہ نسب، CNIC کے آخری ہندسے، دفتر کا وقت اور پسندیدہ چائے تک لکھ دی۔
آخر میں بس اتنا کہا “اگر دوبارہ تمہاری انگلی اس اکاؤنٹ پر نظر آئی تو جنازہ پڑھنے والا بھی تم خود نہ چنو گے”
اگلی صبح میرے شوہر ناشتہ نہیں کر رہے تھے۔ چہرہ ایسا جیسے قیامت کی پہلی جھلک دیکھ لی ہو۔
موبائل اٹھایا اور فیس بک، انسٹا، ٹک ٹاک، حتیٰ کہ Google Photos بھی ڈیلیٹ کر دی۔
پھر بڑی معصومیت سے میری طرف دیکھ کر بولے:
“عشاء کی آذان ہو گئی ہے یا نہیں...!!!
`ایک سمجھ دار بہن کی وال سے منقول`