ایک بھائی نے ایرانی قائد پر بہترین مضمون لکھا 
مگر مجھے یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے 
کہ آپ اسے کافر بھی کہ رہیے ہیں 
پھر ساتھ ہی اتحاد کی بات بھی
 حالانکہ کافر مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا 
آپ نے سنیوں کے منہ پر طمانچے کی بات کی ہے 
میرا سوال یہ ہے کہ میں اس سنی کو بھول جائوں 
جو افغانستان میں نیٹو سے لڑا
میں اس سنی کو بھول جائوں جو مزار شریف میں شیعوں کی غداری کا شکار ہوا 
میرے ہزاروں سنی نوجوان شہید ہوئے 
میں شام میں اس بچے کی چیخ کو بھلادوں
جو رحم کی بھیک مانگتا رہا 
اور خامنائی بشار الاسد کی پیٹھ تھپکتا رہا
یامیں اس شیعہ کہ الفاظ کو بھول جائوں جس نے کہا تھا ہما ہدف ریاض ہے ناکہ اسرائیل 
یاپھر میں صدیانہ جیل کے سب سے کم عمر تین سالہ قیدی بچے کو بھول جائوں 
ایمنسٹی کی وہ رپورٹ آپکو بھول گی جسمیں انہوں نے بتایا کہ 2011 سے 2013 تک اس انسانی ذبح خانے میں 13 ہزار اہلسنت شامیوں کو پھانسی دے دی گئی
ابھی تو زیادہ دن بھی نہیں ہوۓ صیادنا جیل سے انسانی پریس میشن نکلی تھی جسے دنیا نے دیکھا تھا جس میں زندہ انسانوں کو پریس کر کے انکی ہڈیاں چورا چورا کر دی جاتی تھیں 
آپ تو راغید الطاری کو بھی بھول گے جسے 43 سال اس جیل میں ڈال کر رکھا گیا صرف اس جرم کی پاداش میں کہ اس نے شامیوں پر کارپٹ بمباری کرنے سے انکار کر دیا تھا 
یاد رہے صیادنا جیل بشار الاسد کے باپ نے 1983 میں بنائی تھی شام میں ایران کی مدد سے رجیم چینج ہوا تھا جس کے نتیجے میں حافظ اسد اور پھر بعد میں بشار الاسد زیرِ اقتدار آے تھے 
بات یہ نہیں ہے کہ امریکا کے خلاف اکیلا ایران کھڑا ہے تو اسکی حمایت کریں فرقہ ورانہ چیزوں کو ہوا نہ دیں ضرور حمایت کریں لیکن اعتدال کی بات کریں ان چیزوں کو یاد رکھیں کہ 1948 سے 2024 75 سالوں میں پورے فلسطین میں اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے مسلمان 35500 ہیں

2011 سے 2015 صرف چار سال میں شام کی ایک جیل میں 13000 مسلمان شہید کیئے گئے 

2011 سے 2021، دس برس کے درمیان شام، روس اور ایران نے شام کے اندر 306000 مسلمان شہید کیئے 

اسرائیل سے بڑے مسلمانوں کے دشمن بشار اور خامنائی رہے ہیں 

ہمیں چھوڑیں یہاں پاکستان میں کٹنے والے علماء اور کارکنان کو بھول جائیں وہ تو شائد آپ کے نزدیک محض جذبات میں کفن اوڑھ کر چلے گے لیکن کم سے کم خامنائی کو شہید کہہ کر شامی اور عراقی ماؤں کے کلیجے مت چھلنی کریں
چلیں ہم سب کچھ ایک طرف رکھتے ہیں 
کیا آپ ضمانت دیتے ہیں کہ شیعہ دوبارہ ہم سے دھوکا نہیں کریں گے 
«لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ»
اور میں اس حدیث کی تشریح کیسے کروں