یا اللہ۔ ائے میرے پیارے اللہ تعالیٰ یہ کیسی محبت ہے آپکی ہم خود غرض انسانوں سے🥺
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک گویا تھا اسی سے زندگی گزارتا تھا بوڑھا ہوا تو آواز گیی تو ایک دن جنت البقیع میں آیا اور اللہ تعالیٰ سے دعاء کی یا اللہ کُچھ خانے کو نہیں ہے جوان تھا آواز تھی لوگ سنتے تھے کماتا تھا بوڑھا ہوگیا بڑھاپے میں کہاں جاؤں ائے اللہ میرے رزق کا انتظام فرما مجھے معاف فرما عمر فاروق رضیہ اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھیں آواز ائی میرا ایک بندہ مجھے پکار رہا ہے جنت البقیع میں عمر فاروق رضیہ اللہ عنہ دوڑے ننگے سر ننگے پاؤں۔ وہاں پہونچے تو جب اس آدمی نے قدموں کی آواز سنی تو دیکھا عمر آرہیں ہیں تو کہاں آج میری خیر نہیں اب تو مجھے کوڑے پڑیں گیں وہ دوڑنے لگا آپ نے کہاں ٹھہرو ٹھہرو میں خود نہیں آیا ہوں بھیجا گیا ہوں کہاں کس نے بھیجا ہے ؟ آپ نے کہاں جس کو تو پکار رہا تھا تو وہ بوڑھا بیٹھ گیا کہاں واہ میرے رب ساری زندگی نا فرمانی کی اور آج اگر تجھے پکارا تو اپنے پیٹ کی خاطر پکارا اور تو نے مجھے اتنی بڑی عزت دی کہاں ائے اللہ تعالیٰ مجھے معاف کردیں اُسکی چیخیں نکل گیں اور وہیں انتقال کر گیا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خود اُسکا جنازہ پڑھایا۔
اللہم
ہمیں بھی ہدایت نصیب فرمائیں اور ہمارا بھی دين پر خاتمہ نصیب فرمائیں 🥺🥺