زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں کرتے، مگر ان کی موجودگی دل کو مضبوطی دیتی ہے۔ کچھ محبتیں لفظوں میں بیان نہیں ہوتیں، مگر وقت کے ہر موڑ پر خاموشی سے ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ میرے بابا کی محبت بھی کچھ ایسی ہی ہے — خاموش، سادہ، مگر بے حد گہری۔
میں اکثر اپنے گھر کے ایک منظر کو خاموشی سے دیکھا کرتی تھی۔ میرے بھائی بابا کے پاس بیٹھے ہوتے، ان سے باتیں کرتے، ہنستے، اپنے دن کے قصے سناتے۔ بابا بھی ان کے ساتھ مسکراتے، کبھی مشورہ دیتے، کبھی ہلکی سی ڈانٹ میں پیار چھپا دیتے۔ ان لمحوں میں ایک قربت نظر آتی تھی، ایک بے تکلفی جو دل کو اچھی لگتی تھی
اور میں… میں کچھ فاصلے پر خاموش کھڑی یہ سب دیکھا کرتی تھی۔
میرے اور بابا کے درمیان رشتہ تو باپ بیٹی کا تھا، مگر بات بس سلام تک محدود تھی نہ لمبی گفتگو، نہ بے ساختہ ہنسی، نہ وہ اپنائیت جس کا میں خواب دیکھتی تھی
وقت گزرتا رہا اور میرے دل میں ایک خلا سا بنتا گیا۔ میں خود سے سوال کرتی، “کیا بابا مجھ سے محبت نہیں کرتے؟ کیا میں ان کے لیے اتنی اہم نہیں جتنے میرے بھائی ہیں؟” میں نے کبھی زبان سے کچھ نہ کہا، مگر دل کے کسی کونے میں یہ احساس چبھتا رہتا کہ شاید میں ان کے دل کے قریب نہیں ہوں۔
پھر زندگی نے ایک ایسا باب کھولا جس نے میرے سارے گمان بدل دیے
کچھ عرصے کے لیے ہمارا جانا بابا کے پاس ہوا جہاں وہ کام کرتے تھے۔ میں دل میں وہی پرانی کیفیت لیے ان کے پاس پہنچی — ایک ہلکی سی جھجک، ایک انجانا سا فاصلہ۔ مگر جب ہم نو وہاں ان کے ساتھ وقت گزارا تو مجھے ادراک ہوا کہ
جس کمرے میں میں رہ رہی تھی، وہاں میری پسند کی ہر چیز موجود تھی
پہلے پہل تو مجھے اتفاق لگا مگر پھر میں نے محسوس کیا کہ جیسے ہی کوئی چیز ختم ہونے لگتی، وہ خاموشی سے دوبارہ لا کر رکھ دی جاتی۔ نہ کوئی بات، نہ کوئی اظہار، نہ کوئی جتانا بس خاموشی سے خیال رکھنا، جیسے یہ سب کچھ بالکل معمول ہو۔
اسی لمحے یوں لگا جیسے میرے دل پر حقیقت کی ایک نرم سی روشنی اتر آئی ہو۔
مجھے احساس ہوا کہ جس محبت کو میں لفظوں میں تلاش کر رہی تھی، وہ تو عمل میں برسوں سے موجود تھی۔ بابا شاید مجھ سے کم بولتے تھے، مگر وہ میری ہر پسند ناپسند سے واقف تھے۔ انہیں معلوم تھا مجھے کیا اچھا لگتا ہے، کس چیز سے خوشی ملتی ہے، کس ذائقے پر میں مسکرا دیتی ہوں۔
وہ میری خاموش خواہشوں کے امین تھے، بس اظہار کا انداز مختلف تھا۔
تب مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہر محبت کا اظہار ایک جیسا نہیں ہوتا
ماں کی محبت اکثر لفظوں میں ڈھل جاتی ہے، گلے لگانے میں، دعاؤں میں، آنسوؤں میں۔ مگر باپ کی محبت اکثر خاموش ہوتی ہے۔ وہ اپنے جذبات کو ذمہ داری کے پردے میں چھپا لیتا ہے۔ وہ “میں تم سے محبت کرتا ہوں” کم کہتا ہے، مگر پوری زندگی اس جملے کو نبھاتا رہتا ہے
اور وہاں گزارے گئے وہ لمحے میری زندگی کی حسین یادوں میں شامل ہو گئے۔
تب دل پر یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ ہر خاموشی بے رخی نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ گہری محبت کی علامت ہوتی ہے۔ ہر مسکراہٹ نظر نہیں آتی، ہر پیار سنا نہیں جاتا — کچھ محبتیں صرف محسوس کی جاتی ہیں۔۔
آج اگر بابا کم بولتے بھی ہیں تو مجھے شکایت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اب میں جانتی ہوں کہ ان کی محبت الفاظ کی محتاج نہیں۔ ان کی خاموشی میں بھی محبت ہے۔ ان کے عمل میں بھی محبت ہے۔ اور ان کے دل میں میری جگہ ہمیشہ محفوظ ہے۔
ہر بیٹی کو شاید کبھی نہ کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا باپ کم اظہار کرتا ہے۔ مگر سچ یہی ہے کہ باپ کی محبت درخت کی جڑوں کی طرح ہوتی ہے — نظر نہیں آتی، مگر پوری زندگی کو سہارا دیتی ہے۔
میرے بابا واقعی میرے لیے خاموش محبت کا استعارہ ہیں
وہ محبت جو راستوں کو آسان کرتی ہے،
جو مشکل وقت میں ڈھال بن جاتی ہے،
اور جو کبھی سنائی نہیں دیتی، مگر ہمیشہ محسوس ہوتی ہے
اور میرے لیے…
میرے بابا صرف ایک رشتہ نہیں،
میرے لیے وہ ایک خاموش محبت ہیں — جو ہر لمحہ میرے وجود کے ساتھ چلتی ہے۔ 🌿
اللَّهُمَّ احْفَظْ أَبِي وَأَدِمْهُ نِعْمَةً فِي حَيَاتِي. آمين. 🤍
ازقلم:فاطمہ ابوالکلام 🥀