صرف شادی شدہ حضرات ہی اس کا درد سمجھ سکیں گے
دفتر میں ایک صاحب کا موبائل صبح ہی صبح چوری ہوگیا تھا 📱
سارا دن کام، ٹینشن اور تھکن کے بعد جیسے ہی وہ شام کو گھر میں داخل ہوئے تو انہیں ماحول کچھ زیادہ ہی سنجیدہ محسوس ہوا
بیگم کے بیگ بند پڑے تھے، ساس رو رو کر آنکھیں سجا چکی تھیں
سسر صاحب کرسی پر یوں بیٹھے تھے جیسے ابھی فیصلہ سنانے والے ہوں
انہوں نے گھبرا کر پوچھا:
"بھئی یہ کیا ہو رہا ہے؟ بیگم کہاں جا رہی ہیں؟ خیریت ہے نا؟"
سسر نے غصے میں ان کی بیوی کا موبائل ان کے ہاتھ میں تھما دیا
اور بولے:
"یہ کیا ہے؟ تم نے اپنی بیوی کو تین طلاق کا میسج بھیجا ہے!"
صاحب کے تو ہوش ہی اڑ گئے۔
انہوں نے تھکی ہوئی آواز میں کہا:
"میرا فون تو آج صبح سے غائب ہے… یقین کریں چوری ہوگیا ہے!"
انہوں نے اپنی تمام جیبیں الٹ کر دکھائیں۔
بیگم دوبارہ رونے لگیں، ساس نے سینہ پکڑ لیا، اور سسر صاحب آرام سے ٹانگیں سیدھی کر کے بیٹھ گئے جیسے عدالت برخاست ہوئی ہو
لیکن ان کے دماغ میں ایک ہی سوال کلبلانے لگا:
"آخر چور نے میری بیوی کو طلاق ہی کیوں بھیجی؟"
انہوں نے فوراً اپنا نمبر ملایا۔
چور نے کال اٹھالی 📞
صاحب غصے سے برس پڑے:
"کمینے انسان! فون چوری کیا سو کیا…
لیکن میری بیوی کو طلاق بھیجنے کی جرات کیسے کی؟"
چور نے بڑے سکون سے جواب دیا:
"دیکھیے جناب… صبح سے آپ کا فون میرے پاس ہے۔
اور تب سے آپ کی بیوی کے چھتیس میسیج آ چکے ہیں!"
"کہاں ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ کب آ رہے ہو؟ یہ لیتے آنا، وہ ختم ہوگئی ہے، جلدی آنا… آؤ تو بات سنو…"
"میں تو سیدھا دماغی مریض بننے والا تھا!"
پھر چور نے بے بسی سے کہا:
"میں نے تنگ آکر طلاق بھیج دی…
اور یوں… میری جان چھوٹ گئی!"
عائشہ ❤