عجیب خدائی نظام

✍🏻ابوالفضل حیدریؔ
۲۶/رمضان المبارک/۱۴۴۷ھ

خدائی نظام عجیب ہے، تصورات کی دنیا ختم ہوتی ہے ، سراپا حقیقت نظام کا آغاز ہوتا ہے، دل کی تمنائیں خواہشیں انگڑائیاں لےکر رہ جاتی ہیں اور جو انہیں منظور ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے، وہ جس قسمت کے نامہ احکام کو اپروول دے دیں، ساری خلقت اسی کے تابع فرماں ہوجاتی ہے۔ 
کوئی موت سے ملاقات کرتے کرتے زندگی کی آغوش میں واپس آجاتا ہے، کوئی ہٹا کٹا صحت مند اجل کا لقمہ تر بن جاتا ہے۔ 
کوئی راہ چلتے محفوظ گاڑیوں میں حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، کوئی خطرناک حادثے میں سرتا پا سلامت بچ نکل آتا ہے۔ 
کوئی زندگی بھر تمنائے شہادت سے سرشار شریک جنگ ہوتا ہے اور شہادت مقدر نہیں ہوتی، کوئی اسلامی آنگن میں قدم رکھتے ہی مقبول شہادت ہوتا ہے
کسی کو فکر مزید دامن گیر ہوتی ہے، کوئی دو وقت کی روٹی کو ترستا ہے
کہیں مجنوں تلاش لیلا میں گلی گلی مارا مارا پھرتا ہے تو کوئی بیٹھے بٹھائے تحفہ محبت سے لطف اندوز ہوا کرتا ہے 
 کہیں نبی،یعقوب تلاش یوسف میں بینائی قربان کرتے ہیں کہیں زلیخا اپنے آنگن میں حسنِ جہاں تاب کا نظارہ کرتی ہے
 کہیں فرہاد کوہ کنی کرکے بھی ناکام تمنا ہوتا ہے کہیں پرویز تخت شاہی پر ٹاٹھ سے شیریں شراب محبت نوش کرتا ہے
 کوئی برسہا برس لگاکر تجارتی ریس میں آتا ہے کوئی قدم رنجہ ہوتے ہی سبھوں کو مات دیتا ہے
 کوئی فضل و کمال حسن و جمال کے با وجود رنج و ملال کا شکار ہوتا ہے، کوئی ناکارۂ روزگار رہ کر بھی عیش کرتا ہے
کوئی تعیش کے خواب دیکھتا ہے اور کسی کو عیش پرستی عذاب لگتی ہے۔
کسی کی جبیں زمیں پر سجدہ ریز ہونے کو ترستی ہے کوئی قوت پاکر بھی لذت سجدہ محروم رہتا ہے
کوئی شب بیدار رہ کر ان کی ایک نہیں سنتا، کوئی شب بھر ان کا نام جپتا ہے
 کوئی تلاش سکوں میں مال بہائے جارہا ہے اور کوئی تلاش مال کےلئے سکون دل قربان کر رہا ہے
کوئی زندگی کو عزیز تر رکھتا ہے اور کوئی زندگی سے مایوس جاں بلب ہوا جاتا ہے 
غرض 
یہ عالم، یہ خدائے حکیم کی عجیب کائنات ہے، جو بصائر و عبر سے بھری پڑی ہے 
کسی کا ماحصل میرا خواب ہے اور میرا ماحصل کسی کے لئے عذاب جاں! 
غور کرتے جائے اور خوب غور کرتے جائیے! 
کہاں پہنچے؟ 
وہ خدا حکیم ہے ، جس کو جب جتنا دیا جانا چاہئے بس اتنا ہی دیتا ہے، وہ اصول بتاچکا ہے-عسی ان تحبو شیئا وھو شرلکم- لہذا تفویض ہی زندگی کا واحد راستہ ہے 
جب بھی ہوگا جو بھی ہو گا اسی کی مرضی سے ہوگا! 

نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے
یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے
                             (جلیلؔ)