ہم بدل جائیں تو یارو حالات بدل سکتےہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بالجملہ موجودہ حالات مسلمانوں کے لیے بہت ہی تشویشناک ہے ، اور آۓ روز اس میں اضافہ ہی ہورہاہے ،عالم کفر عالم اسلام پر پورے طور پر حاوی ہے ،یہود ونصاری اور ہنود سب کے سب مسلمانوں کے خلاف کمربستہ ہے ،پوری تیاری کے ساتھ جھپٹ پڑے ہیں ،اورشعاع اسلام کو مکمل طور پر غل کرنے کے کوشاں ہیں ،ان ناہنجاروں کو مسلمانوں کا وجود و بقا اور اسلام کا منصفانہ مزاج کانٹے کی طرح چبھتے ہیں ،کیونکہ احکام اسلام ان کے نظریہ سے بالکل متصادم ہے جب کہ یہ عین فطرت ہے اور فطرت کو قبول کرنا چاہیے مگر چونکہ انہوں نے فطرت سے بغاوت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے، تو انہیں دین فطرت کیسے قبول ہوگا ،اس لیے ان کی کوشش یہ ہے کہ کوئی ان کی مخالفت نہ کرسکے-
یہ قومیں آج سے نہیں برسر پیکار ہے بالکل عالم آفرینش سے ہی اہل حق و ایمان کے خلاف برسر پیکار ہے
اور ہمیشہ ان کا منھ کالا ہوا ہےلیکن اسلام ہمیشہ فائز المرام ہوا نہ جانےباطل نے کیسے کیسے حربے اپناۓ ،کیا کیا کھیل نہیں کھیلا، اندرونی حملے ظاہری حملے سب کرکے دیکھ لیا-
کبھی تو براہ راست ایمان پر حملہ کیا ،کبھی بالواسطہ قادیانیت، الحادیت ودہریت عقل پرستی کی شکل میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر ؛اسلام کے سپوتوں نے ان کے منصوبوں کو نکار دیا اور ان باطل پرستوں کو لوہے کے چنے چبوا دیے-
موجودہ حالات میں اہل باطل غالب ہےجب کہ اہل حق مغلوب ہے ، روز بروز یہ سلسلہ مزید بڑھتاجارہاہے ،جس سے عالم میں تشویش اور اہل باطل میں جشن کا ماحول ہے ،اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کیا یہ ہمشیہ ایسے ہی تھے اور ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے تو جواب یہ ہے کہ نہیں
نہ تو یہ ہمیشہ سے ایسے تھے اور نہ ہی ہمیشہ ایسے رہیں گے بلکہ جب تک اہل اسلام کا تعلق اسلام سے مضبوط تھا ،رب حقیقی سے تعلق مستحکم تھا تب تک باطل مغلوب تھی اور اہل حق غالب تھے ،آپ غور تو کیجیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ کیسے تھا ،صحابہ کیسے تھے، ابتدائی حالات کتنے سنگین تھے،کفر حاوی تھا، جان مال کا ہمیشہ خطرہ تھا،اپنے بیگانے ہوگیے ،حق بولنا جرم تھا، مگر جب یہی جماعت "ادخلو فی السلم کافۃ " پر ثابت قدم رہی ،اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو پرکھ لیا کھرا کھوٹا الگ کردیا،تو کیسے حالات مغلوب غالب ہوگیے ،مملوک مالک بن گیے ،چرواہے وقت کا خلیفہ اورامام بن گیے،فتوحات کے دروازے کھلے ، کیسے اسلام کی کرنیں پوری دنیا پر جلوہ فگن ہوئی اور باطل کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہونا پڑا، یہ سلسلہ نسلاً بعد نسل ماضی کے تقریبا تین صدی قبل تک جاری رہا بعد ازاں جب ہم میں عیش ومستی کا نشہ چڑھا ،ہمارے حکمراں دنیا کی رنگینیوں کے شوقین ہوۓ ، دنیاوی محبت کے دام فریب کا شکار ہوۓ تو بہادری و دلیری سے ہاتھ دھو بیٹھے ،جنگ سے کترانے لگے ، ان کی حکومتی ساخت میں دیمک لگنے لگے ،خدا ترسی جب نہ رہی تو موت ترسی دل میں جاگزیں ہوگئی ،بزدلی کا شکار ہوۓ ،دنیا کے بھیڑیے موقع بہتر جانا اور جھپٹ پڑے ،رفتہ رفتہ پورے طور پہ یہ غالب آگیے اپنی جدید تصورات کو نفس الامر کی صورت دینے لگے ،عسکری طاقتوں کو مستحکم کیا اور پھر ہمارے حکمران پر دباؤ بنایا ، دیکھتے دیکھتے ہم ان کے فکری اسیر بن گیے-
آج نوبت یہاں ان پہونچی کہ ہم کھانے پینے ،پہننے اوڑھنے،رہنے سہنے میں ان کےخیالات باطلہ کے غلام بن گیے -
جب باطل نے یہ دیکھا کہ یہ تو اب ہمارے غلام بن گیے ہیں ، تو یہ بدفطرت آقا اپنے اصلی چہرے کے ساتھ نمودار ہوۓ اور آج ہم وہ دیکھ رہے ہیں جو کبھی سنا اور پڑھا کرتے تھے کہ کیسے ہٹلروں ،انگریزوں ہلاکو ،چنگیز خاں نے لوگوں پر ستم ڈھاۓ -
آج ہم ماضی کے نقشے کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں کہ کیسے عالم کفر نے عالم اسلام کو پریشان کیا ہوا ہے، اندلس واقصی ،شام وعراق ،ہند وبرما کے مسلمانوں پریشان کیاگیا اور کیا جارہاہے، ملک بدر کے منصوبے ہیں ،اسلامی شبیہ کو بگاڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،اسلامی تعلیمات کےخلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے ،ظلم و استبداد کےپہاڑ توڑے جارہے ہیں،
آۓ دن ایسے قوانین پیش کیے جاتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے بالکل متصادم ہوتے ہیں ، جن پر عمل کرنا اسلام کے خلاف ہے، پرجبرا ان پر یہ قانون مسلط کرکے اسلام سے برگشتہ کرنے کی سعی پیہم ہے، خلاف ورزی کرنے پر سخت سزا دی جاتی ہے -
دیار ہند پیش پیش ہے،یہاں مسلمانوں کے خلاف کچھ بدفطرت وبدنسل جماعت زہز اگل کر انہیں پریشانی کررہی ہے-
باجودیکہ ملکی قوانین مساوات کا تقاضا کرتی ہے اور برابری کے حقوق کی دعوی کرتی ہے اور یہی حقیقت بھی ہے ،لیکن اس کے باوجود عدالت وقوانین یکطرفہ حمایت کرکے مسلمانوں کو سلاخوں میں ڈالنے اور ان کی جان لینے کے تلی ہوئی ہے -
جب مسلم وغیر مسلم کے درمیان معاملہ درپیش ہوتاہے ،حکومت اور اس کے کارکنان ،عدالت و ارکان عدالت یکطرفہ مسلم کو مجرم ٹھہرا کر کاروائی کا فیصلہ سنادیتی ہے اور فریق ثانی کو معصوم بتلا کر عدالت بری کردیتی ہے -
اس میں میڈیا کا کردار خوب رہتاہے ،جب زیادتی غیر کی طرف سے ہوتی ہے تو میڈیا اس کو نشر نہیں کرتی، بلکہ اس کو چھپا دیتی ہے اور انہیں بے غبار بناکر پیش کرتی ہے لیکن اگر کسی معاملے میں تھوڑا کردار بھی مسلمانوں کا ہوتا ہے، پورا کردار بتاتی ہے
جو سراسر بےایمانی اور میڈیا کے بنیادی ضابطے کے خلاف ہے -
مسلمانان ہند میں خوف وہراس کا ماحول ہے ،نہ جانے کب کس پر کہاں حملہ ہوجاۓ کہا نہیں جا سکتا،سفر وحضر میں مسلمان ڈرے سہمے ہوۓ ہیں ،کیونکہ انہیں مجرم قرار دینے کے لیے ان کے صرف ہلکی آواز ہی کافی ہے -
بہر حال !
سوال یہ ہے کیا ہم ان حالات سے کبھی نکل سکتے ہیں یا نہیں ؟
تو جواب یہ ہے کہ ہاں ضرور نکل سکتے ہیں
جس کا اظہار قرآن نے بھی اظہار کیا
ترجمہ !
کیا مؤمنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر اور جو حق نازل کیا ہے ان کےلیے جھکیں ،اور ان کی طرح نہ بنو جنہیں کتاب دی گئی اس سے قبل ،پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو قلوب سخت ہوگیے اوران میں بیشتر فاسق تھے
(سورہ حدید آیت نمبر 16)
یہ آیت کہہ رہی ہے وقت تو آچکا اپنے قلوب کو رب کے حضور متوجہ کرنے کا پر ہم متوجہ نہیں ہورہے ہیں تو بندوں قدم بڑھانے کا منتظر ہے،بس ہم بدل جائیں ،اگر ہم اپنے آپ کو بدل لیں ،حالات بدل لیں ،زندگی کے رخ کو تبدیل کرلیں تو حالات یکلخت بدل جائیں گے-
سنت خداوندی ہے کہ جب مؤمن کی زندگی احکام الٰہیہ سے ہٹ جاتی ہے ،رب کریم سے ان کا رشتہ مستحکم نہیں رہتا تو پھر اللہ تعالیٰ حالات کو سخت کردیتاہے تاکہ اس کے بندے مشکل وقت میں اپنے رب کو پکارےاور اپنے مسائل رب کے حضور رکھے ، یہ حالات صرف اس لیے کہ ہے اللہ تعالیٰ چاہتاہےکہ بندہ ہمارے قریب ہوجاۓ ،جب بندۂ مؤمن اللہ تعالیٰ کےقریب ہوجاۓ ،اور" من کان للہ کان اللہ لہ" کاحقیقی مصداق بن جاۓ تو یہ انسان کیا جانور بھی مؤمن کی اطاعت میں سر نگوں ہوجاۓ، ماضی کی تابناک تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں-
ہمیں چاہیے ہم حالات کا مقابلہ کریں ،صبر واستقامت سے کام لیں ،بزدلی کو نکال دیں ،قربانی دیں اور مسلمانوں کی زندگی ہمیشہ قربانیوں سے ہم آہنگ رہی ہے، ہم آپس میں اتحاد واتفاق پیدا کریں ،فرقہ پرستی سے بچیں ،اںتشار کا شکار نہ ہوں ،جو بھی مسلمان ہیں ،جنہیں باطل گروہ مسلمان سمجھتی ہے آپ ان کا ساتھ دیں، ان کی پریشانیوں کو اپنی پریشانی سمجھیں ،اگر کسی علاقے کے مسلمان پر ظلم ہوتو تمام مسلمانوں کو مل کر ظلم کے خلاف قانونی آواز اٹھائیں تو ان شاءاللہ ظلم کی شب دیجور ،ظلم کی سیاہ بادل چھٹے گی ،انصاف کا سویرا ہوگا،عدل کا سورج طلوع ہوگا،
سچائی کا دور دورہ ہوگا
فرمان باری تعالیٰ "ان مع العسر یسرا " سچ ہوکر رہے گا
بار الہ !
ہمیں ایمان پر ثابت قدم رہنے کی قوت عطاء فرمائے آمین